ٹرین میں پیام انسانیت کا موقع
ٹرین میں کافی فرصت ہوتی ہے اور پاس بیٹھنے والے لوگوں سے بات چیت کا موقع بھی حاصل ہوتا رہتا ہے، کبھی کچھ ضرورت پیش آجائے تو چپل پیش کر دیے، درمیانی برتھ والا سویا ہو تو نچلی برتھ والا بیٹھنے میں تکلیف محسوس کرتا ہے، تھوڑا جھک کر گردن آگے کر کے بیٹھنا پڑتا ہے، ایسے میں اسے اپنی سیٹ پر بٹھا لینا اس کو تکلیف سے راحت پہنچانا ہے، کھاتے ہوئے انہیں کھانے کے لیے پوچھ لینا اور مناسب چیزیں جیسے پیکنگ کی یا پلیٹ فارم سے خریدی گئی ڈشیں یا فروٹ شیئر کر دینا، بچوں والے مسافرین کے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کر دینا وغیرہ یہ سب چیزیں ہیں تو بہت معمولی لیکن اپنے اندر کافی وزن اور اثر رکھتی ہیں۔ لیکن ان اخلاق کے برتنے میں تصنع اور تکلف کا تأثر نہ ہونے پائے، باوقار انداز میں اس طرح سلوک کریں گویا یہ ہمارے روزمرہ اخلاق کا حصہ ہیں اور واللہ یہی ہونا چاہیے کہ ہم بحیثیت قوم و ملت اور امت محمدیہ کے فرد ہونے کے ناطے ایسے اخلاق اپنائیں، اپنے کو نافع اور مفید بنائیں، غیروں کے پاس دنیا کے مال و متاع میں سے بہت کچھ ہے لیکن ایسی اخلاقی تعلیم سے خالی ہیں، طبقہ واریت میں گلے گلے ڈوبے ہوئے ہیں اور ہمارے پاس اسلام کی بےمثال مساوات اور اخلاق نبوی کی تعلیم ہے، آخرت کا یقین اور ایمان کی دولت ہے۔
باوقار اخلاقی مظاہرہ اور بات کی شروعات
اللہ کی توفیق سے ہم تینوں ساتھیوں (راقم الحروف ،مولانا عرفان ندوی اور مولانا توصیف ندوی) نے اپنی برتھ کے ہمسفر غیر مسلم ساتھیوں کے ساتھ ان میں سے تقریبا تمام کام کئے اور ان کو راحت پہنچائی، الحمدللہ وہ بہت جلد مانوس بھی ہو گئے۔ نمازوں کے لیے خوش دلی سے جگہیں فراہم کیں اور بے تکلفی سے باتیں کیں، اسی درمیان معلوم ہوا کہ یہ لوگ بمبئی جانے والے کاروباری، یو پی کے غیر مسلمین ہیں، سامنے بیٹھنے والا منوج دوسرا اُمیس تیسرے کا نام نہ جان سکے اور ایک دو ننھے بچوں والی پڑھی لکھی خاتون تھی، یہ سبھی کافی متاثر ہوئے۔ اب اچھا موقع ملا کہ پیام انسانیت کے ذریعے کچھ دعوتی باتیں ہو جائیں، ہمارے ذہن میں تھا کہ یو پی والوں کو ممبئی میں مقامی برادران وطن سے کافی پریشانی اٹھانی پڑتی ہے، سیاسی اعتبار سے انہیں اجنبیت کا احساس دلایا جاتا ہے، اس پس منظر میں ہم نے ان سے پوچھا کہ __ "آمچی ممبئی" __ والوں سے تم کو تکلیف دی جاتی ہوگی؟ کہنے لگے میاں یہ سب ووٹ اور نوٹ کا کھیل ہے بس! کوئی کسی کا بھلا نہیں چاہتا، سب اپنی تجوری بھرنے کے لیے کام کرتے ہیں اور پبلک؛ مورکھ اور بے وقوف ہوتی ہے، ان کا ساتھ دے کر ایسے کام کرتی ہے۔ ___ ہم نے کہا کہ واقعی یہی بات ہے کہ ان سب کے پیچھے پیسہ ہے، یہ لوگ سیاست کے توے پر اپنی روٹیاں سیکھتے ہیں، ہمارے ملک میں مانوتا اور انسانیت مر رہی ہے، پہلے انسان اور اس کی انسانیت کی بڑی قدر و قیمت تھی، انسان پیسوں سے زیادہ قیمتی تھا لیکن اب پیسہ؛ انسان سے زیادہ مہنگا اور قیمتی ہو گیا ہے۔ (دھیرے دھیرے اپر، لوور اور سائیڈ برتھ والوں کی توجہ ہماری باتوں کی طرف ہونے لگی) پھر ہم نے کہا کہ ہمارے ملک میں ہمارے پُرکھے، پرانے لوگ کتنی زیادہ انسانیت اور مانوتا رکھتے تھے، آپس میں ایک دوسرے کے دکھ، درد میں ساتھ ہو کر زندگی کی مشکلات آسان کرتے تھے لیکن اب یہ چیزیں ہم لوگ کھو رہے ہیں، نفرت، دشمنی دوسروں سے بدگمانی؛ یہ سب باتیں بڑھتی جا رہی ہے۔ (اس پر وہ تائیدی سر ہلاتے رہے) ___
اصل چیز رحم اور ہمدردی
(بات آگے بڑھائی) انسان کے اندر اصل چیز رحم اور ہمدردی ہے اور یہی چیز انسان کو جانوروں سے الگ کرتی ہے اور انسان کو؛ انسان بناتی ہے۔ کسی گیانی نے کہانی قصے کے رنگ میں بڑی گہری بات کہی ہے کہ ___ ایک مرتبہ خدا کے سامنے کچھ سائنٹسٹ اپنے روبوٹ لے کر پہنچے، خدا نے کہا کہ یہ روبوٹ تم نے بنایا ہے بہت خوب! ہم نے انسان بنایا ہے، تمہارے روبوٹ میں خامیاں اور کمیاں ہیں اور ہمارے انسان میں خوبیاں ہیں۔ پھر خدا نے پریکٹیکلی ان کو بتایا کہا "اچھا! تم اپنے روبوٹ چلاؤ! روبوٹ چلتے رہے، کچھ دیر کے بعد ایک روبوٹ ٹھوکر کھا کر راستے میں گر پڑا لیکن دوسرے روبوٹ اس کی طرف دیکھے بھی نہیں اور آگے بڑھ گئے، پھر خدا نے اپنے بنائے ہوئے چند انسان ان کے سامنے چلایا، چلتے چلتے ان میں سے بھی ایک ٹھوکر کھا کر گرگیا جیسے ہی یہ گرا تمام انسان رک کر اس کی مدد اور سہائتا کرنے لگے، اس کو اٹھا کر کھڑا کیا، اس کے پیر سہلانے لگے، اس کے ساتھ ہمدردی کرنے لگے اور اس کو سہارا دے کر ساتھ لے کر چلے۔ خدا نے یہ دکھا کر مسکرایا اور کہا کہ یہ فرق ہے تمہارے روبوٹ میں اور ہمارے انسان میں، روبوٹ میں رحم نہیں، ہمدردی نہیں اور ہمارے انسان میں یہ خوبی ہے۔ انہوں نے کافی توجہ سے سنا اور اثر لیا۔
سارے جھگڑے ختم ہونا کیسے ممکن ہے؟
(ہم نے کہا) ہمارے ملک میں ترقی اور وکاس کی بات کی جاتی ہے، "سب کا ساتھ سب کا وکاس" ایکتا اور مل جل کر آگے بڑھنے کی آواز بلند کی جاتی ہے، آپ لوگ بتائیں کیسے ہوگا ہمارے ملک میں وکاس؟ ہمارے ملک میں کشمیر سے کنیا کماری تک تمام بھارت واسی آپس میں جڑ جائیں، سارے جھگڑے ختم ہوں یہ کیسے ممکن ہے؟ _____ اس کو بھی ایک مثال سے سمجھیے؛ ایک آدمی اپنے آفس کے کام کاج میں مشغول تھا اور نو دس سال کے کچھ بچے اس کے پاس تھے، ابّا کو صحیح سے کام نہیں کرنے دے رہے تھے، ابا نے سوچا ان کو کام دینا چاہیے، کچھ سوچ کر ایک پزل، معمہ نکالا، جس کے ایک طرف بھارت کا نقشہ تھا دوسری طرف ایک آدمی کی تصویر تھی، اس کو اِدھر اُدھر کرکے بچوں کو دیا اور کہا کہ بیٹا ذرا اس کو صحیح کر کے لاؤ! اس نے سوچا، اس کو ٹھیک کرنے میں کافی وقت و سمے لگے گا تب تک اپنا کام نمٹا لیں گے لیکن یہ کیا!! بچے تھوڑی دیر میں صحیح کر کے لے آئے، ابا کو بڑی حیرت ہوئی کہا: بیٹا تم نے یہ کیسے اتنی جلدی ٹھیک کر لیا؟ بچوں نے شرارت سے مسکرایا اور پھر پیچھے پلٹا کر دکھایا تو پیچھے ایک انسان کی تصویر تھی، کہا کہ ابو! ہم نے صرف اس انسان کو جوڑا ہے، اس کو ٹھیک کیا ہے اور دوسری طرف پورا بھارت جڑ گیا۔ ابا بڑی دیر تک مسکراتے رہے۔ (بالکل اسی طرح وہ سننے والے بھی مسکرا رہے تھے اور ان کی مسکراہٹ بڑی معنی خیز تھی) ___ ہم نے کہا کہ اسی طرح اس دیس میں اگر ہم بھارت واسیوں نے انسان کو اور انسانیت کو جوڑ دیا، مانوتا کو زندہ کر دیا تو پورا دیس آپس میں جڑ جائے گا اور اس دیش کی ترقی اور صحیح معنی میں وکاس ہوگا، دنیا میں اس کا نام ہوگا۔
---------------------------
جاری ________
اگلی آخری قسط کے مضامین
بہترین رفقائے سفر
سفر؛ اخلاق و کردار ناپنے کا ترازو
بعافیت شہر واپسی
0 تبصرے