چھٹی قسط __ سفرنامہ لکھنؤ و مہپت مئو


طلبۂ جامعہ میں خلوص و محبت کا عظیم سرمایہ اور خدمت کا بے پناہ جذبہ

          جامعہ سے؛ فارغ ہونے طلبہ کو ندوہ لے کر نکلنے لگے تو ان کے ساتھی طلبہ نے بغلگیر ہو کر پُرنم آنکھوں سے انہیں رخصت کیا، بعضوں نے آنسو چھلکا دیئے۔ کچھ طلبہ ہم سے بھی آ کر کہنے لگے کہ مولانا! مہتم صاحب بھی نہیں ہیں اور آپ بھی جا رہے ہیں، جامعہ بڑا خالی خالی محسوس ہوگا، جلد آئیے گا۔ ___ پلیٹ فارم پر جامعہ کے حدیث و فقہ کے استاذ مفتی حفظ الرحمن قاسمی صاحب رخصت کرنے کے لیے منماڑ ساتھ آئے تھے، گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے طلبہ نے ان سے بھی معانقہ کیا اور الوداعی کے پاکیزہ جذبات اور آنسوؤں کے ساتھ رخصت ہوئے۔ سفر میں بھی ناچیز کی بڑی خدمت کرتے رہے۔ لکھنؤ پہنچنے پر استقبال کے لیے جامعہ کے سابق طلبہ اسٹیشن آئے، دارالعلوم پہنچنے پر پُرتکلف عشائیہ خلوص و محبت کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے بنا کر پکا کر کھلایا، شب گزاری کے لیے خود مشقت اٹھا کر ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیڈ، بستر اور لحاف فراہم کیے اور ہر آواز پر لبیک کہتے ہوئے حاضرِ خدمت ہو جاتے۔ یہ سب کیوں اور کس نسبت پر؟ ___ فقط ایک تعلق؛ استاد اور شاگردی کا، فقط ایک نسبت؛ دین کے علم کی۔ یہ تعلق، یہ نسبت، یہ خدمت اور خلوص و محبت کے یہ انداز؛ دل کو بہت متاثر کرتے رہے، دل سے اِن طلبہ کے لیے بڑی دعائیں نکلتیں اور احساس ہوتا رہا کہ دینی علوم کے طلبہ میں خلوص و محبت کا یہ عظیم سرمایہ اور خدمت گزاری کا بے پناہ جذبہ ایسا ہے کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹیز کے اسٹوڈنٹ اور ٹیچر کے درمیان مفقود ہے، اور نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔
       صلحِ حدیبیہ میں صحابۂ کرامؓ کی محبتِ رسول ﷺ کا وہ مشہور واقعہ اِس سفر میں یاد آتا رہا، جسے عُروہ بن مسعود ثقفیؓ نے بیان کیا ہے، اس وقت وہ قریش کی طرف سے سفیر بن کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے تھے۔ واپسی پر قریش سے کہنے لگے: '' میں نے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار دیکھے ہیں، مگر میں نے کسی بادشاہ کو اپنی قوم میں ایسا محبوب نہیں دیکھا جیسا محمد ﷺ اپنے صحابہ میں ہیں۔ ......... '' (صحیح بخاری)
____ اس واقعے کے پس منظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ "جو شخص جس قدر نبوی وراثت یعنی علمِ دین اور نبوی اخلاق کو اپناتا ہے اللہ پاک اُس کو اُسی قدر اپنی مخلوق میں محبوبیت عطا فرماتے ہیں" اِس کا زبردست احساس طلبہ کے درمیان رہتے ہوئے ہوتا رہا ، واقعی ایسی سچی محبت اور خلوص والی خدمت بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں ہوتی۔ 


خدمت اور حصولِ علم کا تعلق

         اور اس خلوص و محبت اور استاد و مرشد کی خدمت گزاری کا علمِ دین کے حصول اور تزکیے و تربیت میں بڑا اہم کردار ہے، قرآن و حدیث دونوں ہی سے اس کی تائید ہوتی ہے۔


حدیث نبوی سے تائید اور خدمت کا انعام
 
         حدیث مبارکہ میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا واقعہ ملتا ہے کہ بہت چھوٹی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا کرتے تھے، کبھی نبی علیہ السلام کی راتوں کی عبادت کا مشاہدہ کرنے کے لیے اُمّہات المؤمنین کے گھروں میں قیام بھی فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات ہی سے وضو اور استنجے کا پانی اور برتن تیار رکھتے تھے، رات اس انتظار میں گزرتی کہ کب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوں اور کب ان ضرورتوں کو پورا کریں۔ آپ کی انہی خدمات سے متاثر ہو کر ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے دعا فرمائی؛ "اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ (بعض روایات میں" اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ " ہے) : اے اللہ انہیں دین کی سمجھ عطا فرما اور تفسیر قرآن کا علم عطا فرما۔ پھر اسی دعا نے آپ کو امت محمدیہ کے سب سے بڑے اور معتبر مفسرِ قرآن کے مقام پر فائز کروا دیا، آپ امت مسلمہ کے "ترجمانُ القرآن" اور حِبْرُ الاُمَّة کے لقب سے مشہور ہوئے۔


قرآن پاک سے تائید اور خدمت کا انعام

        یوشع بن نون؛ حضرت موسی علیہ السلام کے خادمِ خاص تھے، قرآن پاک میں موسی و خضر علیہما السلام کے حصولِ علم کے سفر میں موسی علیہ السلام کے ساتھ ان کی خدمت و مصاحبت کا ذکر موجود ہے؛ فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ ءَاتَيْنَٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا. (الكهف - 65)
یوشع بن نون پہلے؛ نبی موسی علیہ السلام کی خدمت میں رہے، آپ کی صحبت اور تربیت سے مستفید ہوئے اور آگے پھر اللہ پاک نے آپ کو بھی بلند ترین مقام "نبوت" سے سرفراز فرمایا اور آپ خادم سے مخدوم ؛ یوشع بن نون علیہ السلام بن گئے۔

        خدمت سے دعا ملتی ہے اور انسان کو کامرانی کے اعلی مقام پر پہنچا دیتی ہے بشرطیکہ خدمت خلوص و اخلاص سے کی جائے، کوئی دنیوی غرض اور مادی فائدہ پیش نظر نہ ہو۔


ندوے میں طلبۂ جامعہ کا اساتذۂ ندوہ سے ربط

         ندوہ میں جامعہ ابوالحسن کے زیرِ تعلیم طلبہ کا ندوہ کے اساتذۂ کرام سے گہرا ربط و تعلق دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ مزید مسرت کی بات یہ ہے کہ طلبہ اس تعلق کو کسی انتظامی فائدے کے لیے استعمال نہیں کر رہے، بلکہ اس سے خالص علمی اور تربیتی فائدے حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بزرگ اساتذہ کی راحت رسانی، خدمت گزاری اور ادب و احترام کا عملی مظاہرہ بھی نمایاں طور پر نظر آیا۔ بلاشبہ یہی طرزِ عمل درست ہے اور یہی ہونا بھی چاہیے۔


مہتمم صاحب کی کامیاب تعلیمی و تربیتی جدوجہد

        ندوہ میں طلبۂ جامعہ سے آخری ملاقات میں راقم نے اعترافِ خدمات اور شکرگزاری کے جذبے سے کہا تھا کہ " آپ کے اندر یہ خوبی اور یہ قیمتی اوصاف ہیں جو بڑے قابل قدر اور قابل رشک ہیں۔" اس پر طلبہ نے بے ساختہ کہا تھا کہ مولانا یہ آپ اساتذہ اور مہتمم صاحب کی تربیت ہے اور کچھ نہیں ____ واقعی مہتممِ جامعہ حضرت مولانا جمال عارف ندوی صاحب دامت برکاتہم کا برتاؤ اپنے اساتذہ اور بزرگوں سے ایسا ہی مثالی اور قابلِ تقلید ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے اس معاملے میں اپنے طلبہ و شاگردوں کی عملی تربیت فرمائی ہے۔ آپ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی خدمت میں ایک لمبا عرصہ رہے، آپ کے بعد حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضری دیتے رہے، ان کے بعد حضرت مولانا عبداللہ حسنی ندوی رحمہ اللہ کی خدمت میں رہے، ان سے اصلاحی تعلق قائم رکھا اور اِن سب کے دنیا سے گزر جانے کے بعد ان کے خلف الرشید حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی دامت برکاتہم سے آپ اس وقت منسلک ہیں۔ کبار ندوہ میں ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی اور دوسرے اساتذہ سے آپ وابستہ ہیں، ان سے ملاقاتوں کا متواتر سلسلہ، متواضعانہ انداز، ان کی خدمت گزاری، دست بوسی، ہدایا و تحائف کا پیش کرنا وغیرہ وغیرہ __ یہ سب ایسی عملی نمونے ہیں جو تمام شاگردانِ جمال عارف کے لیے درسِ عرفان و معرفت ہے کہ اپنے اساتذہ اور مرشد و مربی سے کیسا تعلق ظاہری وقلبی ہونا چاہیے۔

ایک تازہ مثال
 
          چلتے چلتے ایک تازہ مثال آپ کے سامنے رکھ دوں کہ اس سفرِ ندوہ میں مہتمم صاحب نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی بزرگ شخصیت، اپنے استاذ ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسی درمیان آپ نے تعظیم و تکریم میں اپنے بزرگ استاذ کا ہاتھ چوما، دست و بوسی کی، یہ تصویریں بلا ارادہ عام ہو گئیں، طلبۂ جامعہ تک پہنچیں، سفر سے واپسی کے بعد سالانہ تعطیل کے موقع پر کچھ طلبۂ جامعہ حضرت مولانا جمال عارف صاحب کی دست بوسی کرنے لگے، حیرت ہوئی، پھر معلوم ہوا کہ طلبہ نے وہ دیکھ کر ایسا کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عملی نمونے کتنے مؤثر ہوتے ہیں اور طلبہ میں کتنی جلدی مقبول ہوتے ہیں۔ 


کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لہلہائے ہوئے
تمہارے ہاتھ کے ہیں یہ شجر لگائے ہوئے

        لیکن یہ ہریالی و شادابی یوں ہی نہیں ہوگئی بلکہ اس کے پیچھے طویل عرصہ جہدِ مسلسل اور کوششِ پیہم صرف ہوئی ہے اور زمانے کے سرد و گرم حالات کا مقابلہ آپ نے کیا ہے۔

یوں ہی نہیں یہ برگ و ثمر لہلہائے ہیں
پیڑوں نے موسموں کے بہت دکھ اُٹھائے ہیں

      دعا ہے اللہ پاک مہتممِ جامعہ حضرت مولانا کو تادیر قائم و دائم رکھے، آپ کی تعلیم، آپ کی تربیت کو ثمر بار فرمائے اور آپ کی عظیم خدمات کو قبول فرمائے، اور آپ کے قائم کردہ بافیض ادارے جامعہ ابوالحسن مالیگاؤں کو تا قیامت عافیت کے ساتھ باقی رکھے۔ آمین 
_____________________

       ندوے میں جامعہ ابو القاسم کے طلبہ سے بھی ملاقاتیں رہیں اور حضرت مفتی آصف انجم ملی ندوی صاحب کے فرزند مولوی عبید اللہ معاذ، استاد محترم قاری محمد نعیم صاحب کے فرزند محمد اسجد، مولانا نورالعین جمالی صاحب کے فرزند ابوہریرہ سے بھی ملنا ہوا۔ ماشاء اللہ یہ فرزندانِ مالیگاؤں بھی حصولِ علم کے مقصد میں تندہی سے لگے ہوئے ہیں۔ 
---------------------------

جاری _________

اگلی قسط کے مضامین

ٹرین میں پیامِ انسانیت کا موقع
باوقار اخلاقی مظاہرہ اور بات کی شروعات 
اصل چیز رحم اور ہمدردی
سارے جھگڑے ختم ہونا کیسے ممکن ہے؟


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے