#دوسری قسط __ سفرنامہ لکھنؤ و مہپت مئو
_______ کچھ دلچسپ اور اہم باتیں
ڈِبّے کی شرارت
ٹرین کے سلیپر کوچ میں ٹکٹ بنا ہوا تھا، یہ ڈبہ سونے (سلیپنگ) کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے لیکن جب ہم سوئے تو اس ڈبے نے بڑی شرارت کی اور ٹھیک سے سونے نہیں دیا، جب سوتے اور کچھ نیند کی وادی میں پہنچ کر دوسرے جاگنے والوں کو ہلکے خراٹے کے ذریعے نیند کی گہرائی میں اترنے کا پیغام دیتے کہ یہ سلیپر کوچ ایسے ہلتا جیسے کوئی سوئے ہوئے کو خوب زور سے ہلا کر بیدار کر رہا ہے اور یوں تھوڑی تھوڑی دیر میں ہڑبڑا کر آنکھیں کھل جاتیں۔ ایسے بھی یہ ڈبے ہلکے ہلکے ڈولتے رہتے ہیں حتی کہ منزل پر پہنچنے کے بعد بھی کچھ گھنٹوں تک یہ محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بھی ٹرین میں ہیں اور ڈول رہے ہیں۔
ہاتھ دھونے کا چھلکتا بیسِن (Basin)
سلیپر کوچ کا ٹوائلٹ روم / بیت الخلاء اکثر بہت خراب ہوتا ہے، اس مرتبہ دیکھا کہ ہاتھ دھونے کیلئے بیسن (Basin) کے بہاؤ کی نلی جام ہو کر بند ہوگئی اور پانی بہنے کے بجائے جمع ہو رہا تھا، سمندر کی موجوں کے؛ ساحل پر چھلکنے کی طرح لوگوں کا ماء مستعمل بھی؛ تھوڑی تھوڑی دیر بعد چھلک رہا تھا، بڑی مشکل سے ہاتھ دھوسکے، اُدھر ٹرین ذرا تیز ہو کر آہستہ ہوتی، جھٹکا لگتا؛ تو اِدھر پانی چھلک پڑتا، چھلکنے پر ہم کو بھی اپنا دامن بچانے کے لیے پیچھے ہونا پڑتا، بڑی مشکل سے بچ بچا کر اپنا کام کر کے واپس آئے۔ دل میں خیال آیا کہ خدمتِ خلق کی نیت سے کچھ تدبیر کرکے درست کردیا جائے لیکن کافی غور اور کچھ کوشش کے بعد بھی درستگی نہیں ہوسکی۔
لوگوں کی بدتہذیبی
بعض لوگ بیت الخلاء سے فارغ ہو کر نکلتے ہیں اور اپنے غیر مہذب ہونے کا ثبوت؛ اپنے کیے پر پانی نہ بہا کر فراہم کرتے ہیں۔ یہ منظر بھی نظروں سے گزرا، بڑا غصہ آتا کہ لوگ اتنا بھی احساس نہیں رکھتے کہ کم از کم اپنے ہی کیے پر پانی بہا دیں!!
نفرتی ذہن کے نفسیاتی مریض
منماڑ پلیٹ فارم پر پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ ٹرین کافی لیٹ ہے تب تک عصر کی نماز شہر کی مسجد میں پڑھ کر آجاتے ہیں، یہ سوچ کر نماز پڑھنے گئے، واپس ہوئے؛ راستے میں پلیٹ فارم کے قریب ایک جگہ چائے کے لیے رکے تو ایک ہندو نوجوان اپنے بوڑھے باپ کے ساتھ گاڑی لے کر نکلتے ہوئے؛ طلبہ کو دیکھ کر نفرت کے ساتھ کہنے لگا کہ "یہ لوگ ایسے ہی بیکار فالتو لوگ ہیں، ان کو کچھ کام دھندا نہیں ہے" مراٹھی میں اس نے کہا تھا، ایک طالب علم نے مجھ سے آکر کچھ خفگی کے انداز میں بتایا۔
ہم طلبہ کو لے کر پلیٹ فارم کی طرف آگے بڑھ گئے، ساتھ ہی طلبہ کو حوصلہ دلانے کے لیے چند باتیں کہیں؛ کہ ایسے نفرتی ذہن کے لوگ نفسیاتی مریض ہیں، ان کی ایسی باتوں سے پریشان نہیں ہونا ہے، ابھی تو ہمارے سفر کی شروعات ہے، ایسی اور بھی منفی باتیں اور ناخوشگوار واقعات پیش آسکتے ہیں، تحمل اور حکمت کے ساتھ ہم کو اس سے گزرنا ہے، ان سے الجھنا نہیں ہے، نظر انداز کرتے ہوئے گزر جانا ہے۔ ہاں ان کی باتوں پر مثبت پہلو سے غور کرنا ہے۔ انہوں نے ابھی جو کہا ہے یہ بھی ہمارے لیے قابل غور ہے۔
بقاء أنفع کا قانون
انہوں نے ہم کو بیکار کہا یعنی ان کی نظر میں "ہم اس ملک میں بیکار اور بے فائدہ ہیں" اگر ہم اس پر غور کریں تو واقعی اجتماعی طور پر اور قومی سطح پر ہم نے اپنی نافعیت اور افادیت اِس ملک میں کھودی ہے، ہم اس ملک کی ضرورت نہیں بن سکے۔ سب سے بنیادی چیز یہ کہ ہم اسلامی اخلاق سے کنارہ کش ہو گئے، ہم میں جو جتنا دولت مند ہے وہ اُتنا بے دین اور اسلامی اخلاق و کردار سے بے بہرہ ہو گیا ہے إلّا ماشاء اللہ اور عوام کالأنعام کا تو کیا کہنا! __ ہم مسلمانوں میں تعلیم کی کمی ہے، اگر ہم میں اچھے بااخلاق ایماندار ڈاکٹر، انجینیئر، بڑے بزنس مین ہوتے اور ملک کے اہم شعبوں میں دینی شناخت اور داعیانہ کردار کے ساتھ؛ ملکی خدمات انجام دے رہے ہوتے تو ہم اس ملک کی ضرورت بن جاتے، ہماری قدر و قیمت ہوتی، بےکار نہ سمجھے جاتے۔ اس میں ہمارے لیے پیغام ہے کہ ہم اصل اسلام کی طرف لوٹیں، ایماندار بنیں، اسلامی اخلاق وکردار اپنائیں اور پہلی وحی "اقراء بسم ربک الذی خلق" (پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے خلق کیا ہے) پر عمل پیرا ہو کر علم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو کر چلیں تو ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔ قرآن پاک میں بھی اللہ نے "بقائے انفع" کا اصول بیان کر دیا ہے؛ "وأما ما ینفع الناس فیمکث فی الأرض : زمین میں وہی چیز باقی رہتی ہے جو لوگوں کو نفع پہنچاتی ہے۔" ( یعنی کسی بھی ملک میں وہی لوگ باقی رہتے ہیں جو ملک کیلئے مفید و نافع ہوں) بےکار چیز سر کے اوپر بھی ہو تو اتار کر زمین پر ڈال دی جاتی ہے اور کوڑے دان میں پھینک دی جاتی ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم خود بدلیں یا پھر زمانے کے حالات ہم کو بدلیں گے۔
ان باتوں سے طلبہ کی ہمت بندھی اور منفی اثر زائل ہوا۔ اس کے بعد خود ہمیں؛ آگے کی فکر ہو گئی کہ طلبہ کی اتنی بڑی جماعت ہے، کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آجائے! ___ بتوفیق اللہ ہم نے ایک بہترین دعا کا اہتمام کیا جو مناسبِ حال تھی، ہے تو یہ چھوٹی سی دعا لیکن اللہ پاک کی عظیم بارگاہ میں پیش کی گئی چھوٹی سے چھوٹی درخواست بھی ضائع نہیں جاتی بلکہ ایک لفظ بھی بے کار نہیں جاتا اور اُس بارگاہِ عالی میں اس کی وقعت اور قیمت ہوتی ہے؛ وہ دعا ہے : "اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا” اے پروردگار! ہماری پوشیدہ کمزوریاں ڈھانپ دے اور ہمیں ہر خوف و خطر سے امن عطا فرما۔ ___ اسی دعا کا اثر معلوم ہوتا ہے کہ منزل پر جانے اور گھر واپس آنے تک کسی بھی قسم کا کوئی ناگوار واقعہ یا حادثہ پیش نہیں آیا اور عافیت ہی عافیت رہی۔ فللہ الحمد و الشکر علی العافیۃ.
____________________
جاری ___________
___ اگلی قسط کے مضامین
سفر کا بہترین ساتھی؛ کتاب
لکھنؤ کے دارالعلوم ندوۃ العلماء آمد
نام سے کام اور ظاہر سے حقیقت تک کا سفر
0 تبصرے