سفر کا بہترین ساتھی؛ کتاب
ٹرین میں لکھنے پڑھنے، کھڑکی دروازوں سے باہر کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے، آفاق و انفس پر غور، فکر کرنے ہی کے کام ہوتے ہیں۔ لکھنے کیلئے روزنامچہ ڈائری رکھ لیا اور پڑھنے کے لیے اس مرتبہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "ارکان اربعہ" کا انتخاب کیا، سارے سفر میں اسی کتاب کا مطالعہ چلتا رہا۔ واقعی یہ کتاب حضرت مفکر اسلام رحمۃ اللہ علیہ کی شاہکار تصنیف ہے، یہ کتاب اسلام کے چاروں ارکان نماز، روزہ، حج اور زکوۃ کی حکمتوں، مصلحتوں کو آشکارہ کرتی ہے اور جہاں ان عبادتوں کا شوق بڑھاتی ہے وہیں اللہ پاک کی ذات و صفات پر ایمان میں اضافہ کرتی ہے اور اللہ پاک کے انتہائی حکیم و علیم اور بے پناہ رحیم و کریم ہونے کے یقین میں بڑھوتری کرتی ہے، ہر ایک کو یہ کتاب مطالعے میں رکھنا چاہیے۔ مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی صاحب نے اس کتاب کے بارے میں جو لکھا ہے وہ مبنی برحقیقت ہے کہ '' مصنف کی تمام کتابوں میں یہ کتاب شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے اور اس لائق ہے کہ کوئی پڑھا لکھا مسلمان اس کے مطالعے سے محروم نہ رہے'' اس کتاب میں حضرت مولانا نے نماز کے باب میں ایک بڑی دل لگتی بات کہی ہے اور واقعی اپنی محبوب اور قابل احترام شخصیتوں کے سامنے اس جذبے کا احساس ہوتا رہا ہے لیکن اسلام نے ایک ہی ہستی کو اس کا حقدار قرار دیا ہے اور اُس کی عظیم اور انوکھی ذات و صفات کے آئینے میں بس وہی اور صرف وہی اس کا حقدار بھی ہے۔ آپ بھی اسے پڑھیے اور اگر آپ بھی فکر و احساس رکھتے ہیں تو یقیناً اس کا ادراک و احساس آپ نے بھی ضرور کیا ہوگا۔
حضرت مولانا رقم طراز ہیں
___ '' جذبہ تسلیم و رضا ''
ان جذبات کے ساتھ انسان کو ایک اور بھی جذبہ ملا ہے اور وہ ہے سر افگندگی، رضا و تسلیم، خشوع و خضوع اور سجدۂ تعظیم کا جذبہ _ اس کا سبب یہی ہے کہ انسان قدرتی طور پر ایک محبت کرنے والی، جھکنے والی اور اپنے مطلوب و محبوب کے سامنے اپنے وجود کو فنا کر دینے والی مخلوق ہے اور یہ جذبہ اس کی سرشت میں داخل اور اس کے خمیر میں شامل ہے۔ (صفحہ 24) '' ___ واقعی اس جذبے اور فطری تقاضے کے سبب وہ انسان جو صحیح رہنمائی اور آسمانی ہدایت سے محروم ہیں وہ آگ، سورج، ستاروں، سیاروں، درختوں اور پتھروں کی پوجا کرتے ہیں اور ان کے سامنے اپنی پیشانی رکھ کر اس جذبۂ تسلیم و رضا اور سجدۂ تعظیم کی تسکین کرتے ہیں۔
________________
لکھنؤ کے دارالعلوم ندوۃ العلماء آمد
لکھنؤ کی تہذیب و ثقافت میں سب سے نمایاں چیز جو ایک نووارد کو فی الفور اپنی طرف کھینچتی ہے وہ ہے یہاں کی اردو زبان کی شیرینی، لطافت و گفتار کی نرمی اور مزاج کی ٹھنڈک، غصہ کرکے چند ہلکے جملے کہہ کر اس کیفیت سے باہر آجانا۔ اسٹیشن سے اتر کر آٹو پر سوار ہوئے اور راستے میں ایک بڑے ٹریفک میں پھنس گئے، نکلنے کے لیے آٹو گاڑیوں والوں کی آپسی رسہ کشی اور لفظی جھڑپیں، نوک جھونک شروع ہوگئی، سن کر لطف اندوز ہوتے رہے، ہم نے طلبہ کو بھی اس طرف متوجہ کیا، طلبہ بھی اس سے کافی محظوظ ہوئے۔ اردو زبان پورے لکھنؤ اور اطراف کے علاقوں میں یوں رچی بسی ہے کہ مسلم غیر مسلم سارے ہی اس زبان اور یہاں کی تہذیب کے دلدادہ ہیں، زبان و بیان سے اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ مسلم ہے یا غیر مسلم! جب تک ناموں کا علم نہ ہو جائے ____ اور بڑی عجیب بات ہے کہ نام ہی ایسی چیز ہے جو دنیا بھر میں تمام مسلمانوں کو غیر مسلموں سے ممتاز کرتی ہیں، مسلمانوں کا سب سے ممتاز وصف یہ ہے کہ ان کا نام اسلامی اور عربی ہوتا ہے۔ کاش ہم مسلمان؛ دنیا بھر میں نام کے مسلمان ہونے کے ساتھ کام کے اور حقیقی مسلمان بننے کی طرف چل پڑیں۔
________________
نام سے کام اور ظاہر سے حقیقت تک کا سفر
کیسے طے ہوگا یہ سفر؟ ____ اسی مذکورہ کتاب "ارکان اربعہ" میں مفکر اسلام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ''امت کو دو چیزیں دی گئیں، ایک ابدی کتاب قرآن مجید؛ جس کا حرف حرف زندگی و قوت سے لبریز ہے، جس سے تازگی کبھی زائل نہیں ہوتی اور جس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ دوسری چیز نماز؛ جو قرآن ہی کی طرح زندگی اور قوت سے لبریز ہے۔ ....... ان دونوں چیزوں کے ذریعے اس امت کے محققین و مجاہدین ہر نسل اور ہر دور میں ایمان و یقین، علم و معرفت، روحانیت و للہیت اور قرب و ولایت کے درجات تک پہنچ گئے۔ ........ یہ دونوں چیزیں امت کی تمام نسلوں کے حق میں ایک ایسا آبِ حیات ہیں جس کے ذریعے زندگی و حرکت، تازگی و نشاط اور سچی و طاقتور روحانیت ہمیشہ ابرِ رحمت کی طرح برستی ہے۔ ......... اس کی بدولت ہر موڑ اور تاریخ کے ہر دور میں ان کا خدا سے وہی ربط و تعلق قائم رہا اور انہیں قلبی طاقت اور روحانی قوت کی غذا برابر ملتی رہی اور اس کے ذریعے انہوں نے معاصر دنیا کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ پوری سچائی کے ساتھ انجام دیا۔'' (صفحہ : 122 _ 123)
_____ واقعی قرآن پاک کی ایک آیت اسی کو بڑی وضاحت سے بیان کرتی ہیں: وَالَّذِينَ يُمَسِّكمونَ بِالكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ؕ اِنَّا لَا نُضِيعُ اَجر المُصلِحِينَ ۞ اور جو لوگ (اللہ کی) کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔
---------------------------
جاری _______
اگلی قسط کے مضامین
احاطۂ ندوہ میں فجر بعد کی سیر
ندوہ میں مارشل آرٹ کی مشق
اساتذۂ ندوہ سے مختصر ملاقاتیں
مہپت مئو کے معہد سیدنا ابوبکر صدیق کی طرف روانگی
0 تبصرے