چوتھی قسط __ سفرنامہ لکھنؤ اور مہپت مئو

چوتھی قسط __ سفرنامہ لکھنؤ و مہپت مئو

احاطۂ ندوہ میں فجر بعد کی سیر 

        نماز فجر ندوے کی مسجد میں ادا کی، فجر سے قبل ہی حفظ کے درجات کی کلاسیں مسجد میں لگ چکی تھی۔ مولانا فرمان ندوی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں فجر پڑھایا، فجر کے بعد اکثر طلبہ تلاوت قرآن میں مشغول ہو گئے؛ ایک الگ ہی روحانی سماں نظر آیا، کلامِ الہی کی آوازیں کانوں میں رس گھولنے لگیں، معصوم اور فرشتہ صفت طلبہ کی بڑی تعداد جھومتے ہوئے مشغولِ تلاوت تھی، ہم نے بھی کچھ وقت تلاوتِ قرآن میں گزارا۔ اس کے بعد جامعہ کے فارغ حافظ اجود حسان کو لے کر دوبارہ ندوے کی سیر کے لیے نکلے۔ ندوے کے وسیع و عریض کیمپس میں گھومتے ہوئے پرانی یادیں تازہ ہو رہی تھی اور عجیب خوشی و مسرت کا احساس ہو رہا تھا، بے ساختہ گنگنانے لگا۔
یادِ ماضی نِشاط ہے یارب 
بخش دے مجھ کو حافظہ میرا
          رواقِ اطہر (اطہر ہاسٹل) سے گزرنے لگے تو سامنے ہی جامعہ کے فارغ حافظ شیخ رضوان کو ہاتھوں میں کتاب تھامے پڑھنے کے لیے نکلتے دیکھا، بہت خوشی ہوئی، ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ قرأت سبع عشرہ کی کتاب "حرز الاماني ووجه التهاني في القراءات السبع المعروف شاطبيه" تھی اور ندوے کے استاد قاری ریاض صاحب کی خدمت میں حاضر ہو رہے تھے۔
چلی ہے لے کے ہاسٹل کے نگار خانے سے
شرابِ علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو 

اور ناشتہ؛ ناشِطۃ ہوگیا
         تھوڑی دور آگے بڑھے تو قدم خود بخود رک گئے، اطہر ہاسٹل کے سامنے والا سبزہ زار تھا، یہاں ہی ہم نے ایک سال کراٹے کی مشق کی تھی، اس ورزش سے ندوے کی گلابی سردی کا مقابلہ آسان ہوجاتا تھا۔ اس کلاس کی خصوصیت تھی کہ انتہائی سخت سردی میں بھی پسینہ نکل آتا تھا اور ورزش کے دوران جاڑے کپڑے اتارنے پڑتے تھے۔ یہاں سے "ذاکر کینٹین" میں مرغوب چیز؛ جلیبی، دہی اور چائے و بَن مکھن اور کبھی سبزی پوری کا ناشتہ کرکے درسگاہ پہنچتے تھے، آج پھر وہی ناشتہ لیے تو وہ پُرلطف ماضی تازہ ہوگیا اور ناشتہ؛ ناشِطۃ بن گیا، الگ ہی مزہ آیا، سچ ہے ماضی کی یاد بڑا نِشاط ہے۔

اساتذۂ ندوہ سے مختصر ملاقاتیں 
        ندوہ کیمپس میں مقیم اکثر اساتذہ؛ فجربعد تفریح اور چہل قدمی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، ان سے مختصر ملاقات اور دعا و سلام کا یہ اچھا موقع ہوتا ہے۔ ماشاء اللہ اساتذۂ ندوہ میں مولانا وثیق صاحب، مفتی ساجد صاحب اور ماسٹر انیس صاحب سے مختصر ملاقات اور دعا سلام ہوئی۔ 
__________________

مہپت مئو کے معہد سیدنا ابوبکر صدیق کی طرف روانگی

        تکمیلِ مشکوٰۃ کرنے والے طلبہ کا امتحان ندوہ کے زیر اہتمام؛ ندوے کے ابتدائی اور حفظ کے درجات کے مرکز معہد ابوبکر صدیق میں ہونا تھا، یہ معہد یہاں سے تقریبا 10 کلومیٹر دور مہپت مئو کے علاقے میں واقع ہے، وہاں پہنچنے سے قبل ندوہ کے دفترِ انتظام میں ضروری کاروائی کرنا ہوتی ہے یعنی ندوے کے کس ملحقہ ادارے سے کتنے طلبہ کی آمد ہوئی؟ اس کی اطلاع اور ان طلبہ کے اعمال السنۃ کا رزلٹ جمع کراکے امتحان کا بطاقہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مہپت مئو پہنچ کر یہ چیزیں درج کرواکر رہائش کی جگہ حاصل کرنا اور کھانا جاری کروانا ہوتا ہے۔ یہ سارے کام ماشاء اللہ بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئے، جامعہ کے سابق طلبہ کی اس میں معاونت رہی۔

      چار دن اسی مقام پر گزرے۔ یہاں کی تفصیلی ویڈیو بنام "مہپت مئو کے معہد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جھلکیاں" یوٹیوب پر اپلوڈ ہو چکی ہے۔ 
لنک پیش خدمت ہے
 
https://youtu.be/9--vntahUDY?si=a6tHvG8BJEHqUxYH

---------------------------

جاری _______

اگلی قسط کے مضامین

لکھنؤ اور مہپت مئو میں آخری دن 
سلیپر اور اے سی کوچ کا فرق
آخری سفر کی یاد اور وہاں کا سکّہ 
مہمانی والے فردوس کے باغات


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے