پانچویں قسط __ سفرنامہ لکھنؤ و مہپت مئو
لکھنؤ اور مہپت مئو میں آخری دن
آخری دن مہپت مئو کے معہد سے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ آئے، آج 26 جنوری تھی، پہنچے تو جامعہ کے کچھ سابق طلبہ سے ملاقات ہوئی، چائے پانی کے بعد سیر و تفریح کے لیے؛ ساتھ لے جانے کا ارادہ ہوا لیکن معلوم ہوا اگلے ہی دن "ترمذی شریف" کا بڑا اہم پرچہ ہے، اس لیے ان کو تفریح کے بجائے پڑھائی میں لگنے کی تاکید کرکے ہم تینوں ساتھی (راقم، مولانا عرفان ندوی، مولانا توصیف ندوی) لکھنؤ کی سیر کے لیے نکلے، میٹرو ٹرین سے مختلف اہم علاقوں اور مقامات کی سیر کرکے کچھ وقت لکھنؤ ایئرپورٹ پر گزارے، وہاں سے آمین آباد، چار باغ سے اہل خانہ کے لیے ضرورت کی چیزیں خریدیں اور عصر تک ندوے پہنچ گئے۔ یہاں طلبہ کے ساتھ کچھ وقت کرکٹ کھیل کر نماز مغرب ادا کی، اب گومتی نگر اسٹیشن پہنچنا تھا۔ ماشاء اللہ اس موقع پر جامعہ ابو الحسن کے طلبہ رخصت کرنے کے لیے اکٹھا ہوئے، خوشگوار ماحول میں بات چیت اور الوداعی ہوئی۔
سلیپر اور اے سی کوچ کا فرق
واپسی پشپک ایکسپریس کے اے سی کوچ سے تھی، پشپک ٹرین خلاف معمول ایک گھنٹہ تاخیر سے پلیٹ فارم پر آئی، وجہ یہ تھی کہ یہ ٹرین لکھنؤ جنکشن؛ چار باغ سے چلتی ہے لیکن آج پہلا دن تھا یہ گومتی نگر اسٹیشن سے چلنے کا آغاز کر رہی تھی، نئے اسٹیشن آنے میں اور روٹ اور روٹین کی تبدیلی کے سبب لیٹ ہوگئی۔ آئے تھے سلیپر سے اور جا رہے تھے اے سی کوچ سے، ___ '' اے سی کوچ '' کی سہولتیں دوسرے کوچ کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں جیسے؛ اندر ایئر کنڈیشنڈ، آرام دہ ماحول، گرمی، دھول سے حفاظت، فرش اور برتھ کی صفائی کا اچھا انتظام، شور و غل کم، دروازے بند اور سامان کی چوری سے حفاظت؛ ساتھ ہی برتھ پر چادر، تکیہ اور کمبل دیئے جاتے ہیں۔ ہاں ٹکٹ سلیپر کوچ سے تین گنا زیادہ قیمت کا ہوتا ہے، اور سہولتیں ملنے میں اصل چیز یہی ہے۔ "جتنا پیسہ اُتنی سہولتیں" __ اِس دنیوی زندگی کے سفر میں پیسہ ہے جبکہ آخرت کے سفر میں کرنسی اور پیسہ؛ نیکیاں اور نیک اعمال ہوں گے '' جتنی نیکیاں اُتنی آسانیاں ''
آخری سفر کی یاد اور وہاں کا سکّہ
یہ سب دیکھ کر سفرِِ آخرت یاد آتا ہے اور اُس سفر میں اللہ پاک کی طرف سے نیک بندوں کے لیے مہیا ہونے والی سہولتیں، دل بستگی اور دل جوئی کے سامان کی طرف توجہ ہوتی ہے۔
اُس سفر کی شروعات میں ہی فرشتے "سلام و سلامتی" پیش کرتے ہیں۔ ( الذين تتوفاهم الملائكة طيبين يقولون سلام عليكم.) __ سفر کے آغاز ہی میں بشارت دے دی جاتی ہے '' اے اپنے رب سے مطمئن رہنے والے نفس! اپنے پروردگار کی طرف راضی خوشی چل؛ اور ہاں وہ بھی تجھ سے راضی اور خوش ہے۔ چل اس کے نیک بندوں میں شامل ہو کر اس کی جنت میں داخل ہو جا۔ (يا أيتها النفس المطمئنة ارجعي الى ربك راضية مرضية فادخلي في عبادي وادخلي جنتي ) __ فرشتے اس سفر میں اپنی معیت اور رفاقت کا یقین دلا کر خوف دور کرتے اور دلاسہ دیتے ہیں.... کہتے ہیں '' غم نہ کرو دنیا کے چھوٹنے کا، خوف نہ کرو آخرت کے آئندہ حالات کا اور بشارت لے لو جنت کی، ہم تمہارے ساتھ دنیا میں بھی تھے اور اس سفر میں بھی آپ کے ساتھ ہی رہیں گے، وہاں من چاہی زندگی ہے اور بخشنے والے، رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے یہ سب بطور مہمانی ہے۔ (ان الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا تتنزل عليهم الملائكه الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنه التي كنتم توعدون نحن اولياءكم في الحياه الدنيا وفي الاخره ولكم فيها ما تشتهي انفسكم ملكم فيها ما تدعون نزلا من غفور رحيم.)
مہمانی والے فردوس کے باغات
نُزُل: مہمانی؛ یہ بڑا معنی خیز لفظ ہے جو جنتی زندگی کے انتہائی پُر لطف اور آرام دہ ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی رح نے اس کی جامع تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ''یعنی یہ نعمتیں اکرام کے ساتھ ملیں گی، جس طرح مہمان کو ملتی ہیں۔'' ___ ہم اپنے گھروں میں عام سادہ زندگی گزارتے ہیں لیکن اگر چند دنوں کے لیے کوئی معزز مہمان آنے والے ہوں تو ہم بس بھر اچھے سے اچھا انتظام کرتے ہیں، آرام پہنچانے کے لیے تمام سامانِ راحت مہیا کرتے ہیں۔ جبکہ اللہ پاک کے خزانے لا محدود ہیں، اللہ تعالیٰ نے جنتی زندگی اور جنت کو ایسا ہی بنایا ہے کہ اس میں بسنے والا ہمیشہ اپنے کو مہمانوں کی طرح عیش و نشاط اور عزت و کرامت میں محسوس کرے گا اور کبھی اُس عیشِ دوام سے نکلنا نہیں چاہے گا اور اُس جوّاد و سخی رب نے اعلان بھی کر دیا ہے کہ ''فردوس بریں میں وہ ہمیشہ کے لیے بسائے جائیں گے۔'' ___ نیک اعمال کا ذخیرہ رکھنے والے مومن بندوں کے لیے؛ مہمانی والے فردوس کے باغات؛ ہمیشہ ہمیش کے لیے ہیں اور وہ خود بھی کبھی اُس سے پھِرنا نہیں چاہیں گے۔ (ان الذين امنوا وعملوا الصالحات كانت لهم جنات الفردوس نزلا خالدين فيها لا يبغون عنها حولا.)
---------------------------
جاری _________
اگلی قسط کے مضامین
طلبۂ جامعہ (مدارس) میں دو انمول
1) باتیں خلوص و محبت کا عظیم سرمایہ اور
2) خدمت کا بے پناہ جذبہ
خدمت اور حصولِ علم کا آپسی تعلق
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے تائید
قرآن پاک سے تائید
ندوے میں طلبۂ جامعہ کا اساتذۂ ندوہ سے ربط
0 تبصرے