آٹھ دن لکھنؤ اور مہپت مئو کے دارالعلم میں


✍️ نعیم الرحمن ملی ندوی 


سفرنامے لکھنے اور پڑھنے کا فائدہ

       سفرنامہ صرف سیر و تفریح کی کہانی نہیں بلکہ علم، فکر اور تجربے کا خزانہ ہوتا ہے۔ سفر میں جو مشاہدات، واقعات، خوشیاں، مشکلات اور سیکھنے کے مواقع ملتے ہیں، سفرنامہ انہیں محفوظ کر لیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یادیں ماند پڑ جاتی ہیں، مگر تحریر زندہ رہتی ہے۔ سفرنامے پڑھنے والا بغیر سفر کے دنیا کی سیر کرتا ہے اور مختلف شہروں، قوموں، ثقافتوں سے واقف ہو جاتا ہے اور گھر بیٹھے دنیا گھوم لیتا ہے۔ آٹھ دنوں کا یہ سفرنامہ آٹھ قسطوں میں سلسلہ وار پیش ہے۔
--------------------------- 
(#سفرنامہ ___ پہلی قسط) 

          مؤرخہ 20 جنوری 2026 مطابق 30 رجب 1447 ہجری بروز منگل، دوپہر تین بجے جامعہ ابوالحسن سے تکمیل مشکوٰۃ کرنے والے 17 طلبہ کے سالانہ امتحان کی غرض سے سفرِ لکھنؤ پر روانہ ہوئے، مفتی حفظ الرحمن قاسمی صاحب جامعہ کے استاذِ حدیث و فقہ رخصت کرنے کے لیے ساتھ ہوئے۔ پانچ بجے کی ٹرین تھی لیکن تین گھنٹے لیٹ ہونے کے سبب رات آٹھ بجے سوار ہوسکے۔ اس درمیان طلبہ کو سفر کی ہدایات دی جاتی رہیں اور آدابِ سفر سے واقف کراتے رہے۔ ٹرین کا سفر کافی خوشگوار رہا لیکن ٹرین کی تاخیر کی وجہ سے لکھنؤ جنکشن پر نہ اترتے ہوئے عیش باغ اسٹیشن پر اترنا پڑا۔ تمام طلبہ آرام سے سفر کیے، کچھ غیر مسلم جوڑے اور نوجوان ویٹنگ میں تھے ان کے ساتھ ممکن حد تک خیر خواہانہ رویہ رکھ کر چلے، لیٹنے بیٹھنے کے لیے سیٹوں کی شیئرنگ کرتے رہے اس طرح آپسی تال میل رہا، بےتکلفی اور اعتماد کی فضا پیدا ہوگئی۔ منگل کی دوپہر سے چلے ہوئے دوسرے دن بدھ کو ساڑھے تین بجے لکھنؤ پہنچے۔ جامعہ کے سابق طلبہ نے ہم آنے والے مہمانوں کے لیے اچھا نظم و اہتمام کر رکھا تھا، چار طلبہ حافظ سعید، حافظ ثقلین، ابوبکر اور شیخ رضوان اسٹیشن پہنچے، ٹرین کی تاخیر کی وجہ سے ان کو بڑی پریشانی اٹھانی پڑی، اسٹیشن تبدیل ہوتا رہا آخر میں غیر متوقع طور پر عیش باغ اسٹیشن پر اتار کر تھوڑی دیر کیلئے عیش کِرکِرا کردیا اور بڑی مشکلات اور پریشانیوں سے بذریعے آٹو ندوہ پہنچے۔ 
      جامعہ کے تمام سابق طلبہ جو ندوے میں زیر تعلیم ہیں سب نے پرتپاک استقبال کیا ، حسب سابق جامعہ کے قدیم طلبہ کی طرف سے؛ آنے والے 18 افراد کے لیے عشائیے کا بہترین نظم تھا ماشاءاللہ طلبہ نے اپنے ہاتھوں سے چولہے پر کھانا تیار کیا تھا؛ خلوص و محبت سے تیار کیا گیا کھانا بڑا لذیذ و ذائقے دار تھا، کھانے کے بعد خوشگوار ماحول میں مالیگاؤں سے لائی گئی مٹھائی میزبانوں کی خدمت میں پیش کی گئی۔ کھانے کے درمیان کارگزاری بھی لیتے رہے اور کھانے کے بعد خاصی طویل چہل قدمی ہوئی، اس درمیان جامعہ ابوالقاسم کے طلبہ اور نگراں استاذ مولانا عرفان ندوی سے بھی ملاقات ہوئی، آخر میں کینٹین میں چائے پی کر بستروں پر دراز ہو گئے۔
____________________

ندوہ کے ابناء قدیم میں سے ایک کی رفاقت

         دارالعلوم ندوۃ العلماء پہنچنے پر مہتمم جامعہ ابوالحسن حضرت مولانا جمال عارف ندوی صاحب دامت برکاتہم اور آپ کے رفیقِ سفر؛ مہاراشٹر کے کولپے واڑی سے تعلق رکھنے والے، ندوہ میں زیر تعلیم جامعہ کے فارغ، شیخ عزیر کے والد مولانا عبدالستار ندوی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ حضرت مولانا کا سفر؛ بہار کا تھا اساتذۂ ندوہ سے ملاقاتیں کر کے مغرب بعد بہار کے لیے چل دیئے اور مولانا عبدالستار صاحب ہمارے ساتھ رہے۔ ندوے کی سیر، عشائیہ اور دیر تک چہل قدمی ساتھ ساتھ ہوئی، دوسرے ہی دن آپ اپنے فرزند کے ساتھ رائے بریلی کے لیے روانہ ہو گئے، مولانا کی رفاقت گرچہ بہت کم رہی لیکن بڑی مفید اور معلومات افزا رہی۔ آپ نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی بہت پرانی یادیں اور بہت سی اہم باتیں ہم سے بیان کیں، آپ نے معہد ملت مالیگاؤں کی شاخ مدرسہ مفتاح العلوم (کوپر گاؤں) سے عالمیت مکمل کی اور دو سال ندوہ میں عربی ادب کے شعبہ تخصص ؛ خصوصی ثالثہ اور رابعہ میں داخلہ لیا۔ 1993 سے 1995 تک آپ کا تعلیم کا عرصہ تھا، یعنی آج سے 32 سال قبل کے ندوی فرزند ہیں آپ، __ اُس زمانے میں ندوے کی تعمیرات کیسی تھی؟ اساتذہ کون کون تھے؟ مدرسہ معہد ملت مالیگاؤں کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حنیف ملی رحمۃ اللہ علیہ کا مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور اکابرینِ ندوہ سے کیسا اور کیا تعلق تھا؟ آپ ندوہ میں تشریف لاتے تو کہاں قیام فرماتے؟ ___ یہ ساری باتیں مولانا نے تفصیل سے اور عمارتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بیان کیں۔ آپ کی تھوڑی دیر کی مصاحبت بھی بہت قیمتی رہی اور ندوہ کے قدیم حالات و کوائف سے اچھی واقفیت ہوئی۔

--------------------------- 

جاری ___-__-___-___-__





ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے