بہترین رفقائے سفر
مہپت مئو کے معہد سیدنا ابوبکر صدیق ؓ میں ملحقہ مدارس یعنی دارالعلوم ندوۃ العلماء کی شاخوں سے تکمیلِ مشکوۃ کرکے آنے والے طلبہ کا امتحان ہوتا ہے، مالیگاؤں میں ندوے کی دو شاخیں ہیں جامعہ ابو الحسن اور جامعہ ابو القاسم؛ ابو الحسن سے راقم السطور نعیم الرحمن ندوی اور ابوالقاسم سے مولانا عرفان احمد ندوی اور ان کے صدیق حمیم مولانا توصیف احمد ندوی تھے، ٹرین کی تاخیر کے سبب ہم ندوے شام میں پہنچے تھے اور یہ حضرات صبح ہی سے فروکش ہوچکے تھے، مہتممِ جامعہ کے ساتھ کبار اساتذۂ ندوہ سے ملاقاتوں کا موقع انہیں مل گیا اور بزرگ شخصیت ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی صاحب کی خدمت میں بھی ساتھ پہنچنا ہوگیا۔ ____ مہپت مئو میں یہ ہم سے مل گئے، واپسی کا ٹکٹ بھی ہمارا ساتھ ہی بنا ہوا تھا، یہاں اکٹھا ہو کر شریکِ کار رہے، ایک ہی کمرے میں قیام و طعام رہا۔ ان کی رفاقت پُرلطف رہی، مولانا عرفان ندوی نوجوان فاضل ہیں، باغ و بہار طبیعت کے مالک ہیں اور درس و تدریس کے ساتھ تجارت کی مشغولیت بھی رکھتے ہیں اسی وجہ سے کافی تجربہ کار، لوگوں کے مزاج شناس اور معاشرے کی اچھائی برائی پر گہری نظر رکھنے والے معلوم ہوئے، ان کی رفاقت میں بوریت، اکتاہٹ نہیں ہوئی، اقامت بڑی خیر و خوبی اور دلچسپی سے گزری۔ ان کے سفر کے شریک اور جگری دوست؛ اب ہمارے بھی ساتھی بن گئے تھے، مولانا توصیف احمد ندوی صاحب، ماشاءاللہ ان سے بھی بڑی طبعی مناسبت پیدا ہوگئی، موصوف مرنجاں مرنج طبیعت کے مالک اور کافی اچھی یادداشت اور کاموں میں پیش بینی کے اوصاف رکھتے ہیں۔ درست کہا ہے کسی نے ؛
فالقلبُ یألَفُ کلَّ سمحٍ لیّنٍ _ ومبشرٍ بالخیرِ حین یُلاقی
دل کو ہر اُس نرم خو، خوش خُلق انسان سے لگاؤ ہو جاتا ہے _ جو ملاقات کے لمحے خیر و خوشی کی بشارت لے کر آتا ہے۔
سفر؛ اخلاق و کردار ناپنے کا ترازو
سچ ہے کہ حقیقی اخلاق و کردار کا اندازہ بغیر ساتھ سفر کیے نہیں لگایا جاسکتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے کوئی کسی کی تعریف کرتا یا اس کے بارے میں اچھا خیال ظاہر کرتا تھا تو وہ پوچھتے؛ کیا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے؟ اگر نہیں تو پھر تم اس کو نہیں جانتے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ سفر میں انسان مختلف حالات کا سامنا کرتا ہے اور ان حالات میں اس کے اندر کے پوشیدہ اوصاف اور اچھے برے رویے اور سلوک ظاہر ہوتے ہیں۔
____ لَمَّا شَهِدَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ، فَزَكَّاهُ آخَرُ، قَالَ: هَلْ رَافَقْتَهُ فِي السَّفَرِ الَّذِي يَنْكَشِفُ فِيهِ أَخْلَاقُ النَّاسِ؟ // لعلّكَ صاحبته في سَفرٍ، فالأسفار مكشفة للطباع؟ فقال الرّجلُ: لا، فقال عمر: اجلسْ، فإنّكَ لا تعرفه؟
---------------------------
بعافیت شہر واپسی
الحمدللہ لکھنؤ سے شہر اور گھر واپسی کا سفر بڑی عافیت اور خیریت سے رہا، السفر وسیلۃ الظفر کے تحت چلتے چلاتے علمی، عملی اور طلبہ کے درمیان تربیتی و اصلاحی کام ہوا۔ اور اللہ پاک کا شکر ہے کہ اس سفر میں بھی واپسی میں پیامِ انسانیت کے ذریعے سے اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کرنے اور غیروں کے درمیان اسلام میں انسانیت کے مقام اور اہمیت کو پیش کرنے کی توفیق ہوئی۔
دعا ہے کہ اللہ پاک اسی طرح خیر و خوبی اور حفاظت و عافیت کے ساتھ سفرِِ زندگی کو بھی تمام فرما کر اصل منزلِ مقصود؛ باغِ بہشت تک پہنچا دے۔
آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ. __ ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔
اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ.
آمین یا رب العالمین
0 تبصرے