شدید گرمی اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

✍🏼 نعیم الرحمن ملی ندوی

        پانی زندگی کی بنیاد ہے، جہاں پانی ہے وہاں زندگی ہے، وہاں آبادی ہے، وہاں کھیت کھلیان کی سیرابی ہے۔ پانی کی اہمیت اللہ پاک نے اپنے کلام میں یوں بیان فرمایا ہے:
*"وَجَعْلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ"*
ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ (سورۃ الأنبیاء: 30)
آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی پیاسے کو پانی پلانا زندگی بانٹنے کے ہم معنی ہے۔
☀️
*روشنی تیز بہت تیز ہے؛ مدھم کردے*
*جلتے سورج کی تمازت کو ذرا کم کردے*

         آج کل گرمی کی شدت اپنے عروج پر ہے۔ دوپہر میں سورج کی تپش، خشک ہوائیں اور پیاس کی شدت انسان کو بے حال کر رہی ہیں۔ ایسے موسم کا مقابلہ امدادِ باہمی ہی سے کیا جاسکتا ہے اور شہر عزیز مالیگاؤں میں اس کی شاندار روایت رہی ہے۔
🏺💧🏺🌧️🏺
         ہم ذرا ماضی میں چلیں تو دکھائی دیتا ہے — گلی کوچوں، بازاروں اور مساجد کے باہر جگہ جگہ مٹکے (پانی کے گھڑے) رکھے ہوتے تھے، ہر آنے جانے والا بلا جھجھک پانی پیتا، دعائیں دیتا ہوا آگے بڑھتا تھا۔ یہ صرف پانی نہیں تھا، بلکہ انسانیت، ہمدردی اور صدقہ جاریہ کی ایک خوبصورت تصویر تھی۔
🌡️
         آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شدید گرمی کے باوجود وہ روایت کمزور پڑ گئی ہے۔ حالانکہ ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
📖
احادیث میں پانی پلانے سے متعلق بڑی فضیلت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
*"أفضل الصدقة سقي الماء"*
سب سے افضل صدقہ پانی پلانا ہے۔ (سنن ابی داؤد)
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ ایک خاتون نے پیاسے کتے کو پانی پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو پسند فرمایا اور اسے بخش دیا۔ (صحیح بخاری)
🤔
*سوچنے کی بات ہے کہ جب ایک جانور کو پانی پلانے پر اتنا اجر ہے تو انسانوں کو پانی پلانے کا کتنا بڑا اجر ہوگا!*
🕌
          ہمارے معاشرے میں پہلے یہ خوبصورت روایت تھی کہ گلیوں کے نکڑ پر مٹکے رکھے جاتے تھے، مساجد کے باہر ٹھنڈے پانی کا انتظام ہوتا تھا، دکاندار اپنی دکان کے باہر پانی رکھتے تھے، یہ سب معمولی لیکن بڑا صدقہ جاریہ تھا۔ آج ہم بڑے بڑے کاموں کو ہی نیکی سمجھتے ہیں، جبکہ چھوٹے مگر بڑے فائدہ دینے والے کاموں کو بھول گئے ہیں۔

*ہم کو یہ روایت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، نوجوانوں کو اور سوشل کام کرنے کلبوں اداروں کو اس طرف توجہ دینا چاہیے۔*
🏺💧🌧️🏺💧🌧️

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے