ذکر جہری کی مجالس ، اس کے مقاصداور اس کی ضرورت و اہمیت پر

ذکر جہری کی مجالس ، اس کے مقاصد
اور اس کی ضرورت و اہمیت پر
حضرت قاری الطاف حسین ملی صاحب دامت برکاتہم کا خصوصی خطاب


شہر میں ذکر کی مجالس کا قیام اور ان کی وسعت

  بزرگو، دوستو اور عزیزو! ذہن میں یہ بات آئی کہ آج دعا کو مؤخر کر دیتے ہیں اور چند ضروری باتیں عرض کر دینا چاہیے۔  میرے بزرگو، عزیزو اور دوستو! میں بلا تمہید اپنی بات شروع کرتے ہوئے یہ بات کہوں گا جس کا مقصد یہ ہے کہ الحمد للہ، ثم الحمد للہ! ہمارے اپنے شہر میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ذکر کی مجلسوں کو شروع کرا دیا۔
  جس طرح یہاں بدھ کے روز مجلس ہو رہی ہے، تو جمعرات کے روز بعد نمازِ عشاء تقریباً 10 بجے جھوپڑے کی مسجد میں ہوتی ہے۔ اسی طرح بیلباغ کی نئی مسجد میں جمعرات کے روز ہی عشاء کی نماز کے فوراً بعد ہوتی ہے۔ ہر پیر کو بعد نمازِ عشاء قصاب باڑے کی مسجد میں ہوتی ہے۔ اسی طرح مسجدِ حاجی اسماعیل میں مجلس ہوتی ہے۔ جمعہ کے روز مسجدِ ہلال میں، مسجدِ حذیفہ میں، مسجدِ عمر یوسف میں بھی ہوتی ہے۔ اسی طریقے سے پیر کے روز بعد نمازِ عشاء درسِ قرآن اور اس کے بعد کچھ دیر ذکر اللہ کی مجلس مسجدِ عثمان ابن عفان میں بھی ہوتی ہے۔
  اس کے علاوہ کئی مقامات پر، یعنی مکانات کے اندر ہو رہی ہے۔ تو ظاہر سی بات ہے، جب خیر کا کوئی کام شروع ہوتا ہے تو ہر خیر کے ساتھ شر تو ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس دنیا خیر اور شر کا مجموعہ بنایا ہے۔ جب کوئی خیر کا کام شروع ہوگا، بہرحال شیطان بھی اپنے لوگوں پر محنت کرکے ان کو کھڑا کرے گا۔
  الحمد للہ اتنے مقامات پر مجلس شروع ہوئی اور بہت پہلے سے حضرت مولانا افتخار سالک صاحب دامت برکاتہم بھی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی اپنی بھی 15 روزہ مجالس شہر بھر میں چل پھر کر کے ہوتی ہیں، الگ الگ مقامات پر سنیچر کے روز، خود ان کی اپنی خانقاہ مسجدِ امام المتقین میں بھی مجلس ہو رہی ہے۔ ہمارے بزرگ حاجی خورشید صاحب دامت برکاتہم، ان کی مجلس ہر اتوار کو بعد نمازِ عشاء مسجدِ عبدالرؤوف میں ہوتی ہے۔ تو کئی سالوں سے مجالس کا یہ سلسلہ جاری ہے اور روز بروز بڑھ رہا ہے۔ الحمد للہ، ثم الحمد للہ

ذکر اللہ کا اصل مقصد: دل میں اللہ کی یاد جمانا
  بات یہ عرض کرنا ہے کہ اب تک کے اس طرح کا کوئی شر تو سامنے نہیں آیا، کسی نے کسی قسم کا کوئی اعتراض ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی کسی کے دل میں کوئی خیال آیا۔ لیکن میرے اپنے دل میں یہ خیال آیا کہ حفظِ ماتقدم کے طور پر—حفظِ ماتقدم بولے تو پہلے سے ہی ایسی باتوں کو بیان کر دیا جائے کہ اگر ہمارے کسی ساتھی کے سامنے کوئی اس طرح کی بات چیت کرے کہ اس کا کیا مقصد ہے؟ تو وہ اس کو اطمینان بخش جواب دے سکے۔
  ساری باتوں کا جو خلاصہ ہے، میں اس کو اس طرح بیان کروں گا۔ غور سے سنیں گے۔ ذکر اللہ سے مقصد اللہ کی یاد کو دل میں جمانا ہے۔ ذکر اللہ سے مقصد؟ اللہ کی یاد کو دل میں جمانا ہے۔ جب اللہ کی یاد دل میں جم جائے گی، تو زندگی کے ہر موقع پر ہم کو دین یاد آئے گا کہ ہم جو کام کرنے جا رہے ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم کیا ہے اور نبی کا طریقہ کیا ہے؟ اور جب دل سے اللہ کی یاد نکل جائے گی، تو پھر ہم دھیرے دھیرے دھیرے دھیرے دھیرے دھیرے دین سے دور ہوتے جائیں گے، یہاں تک کہ پھر جری بھی ہو جائیں گے اور کہہ بیٹھیں گے کیا ہوگا؟ سب نپٹ لیں گے۔

قربِ الٰہی کا اثر: اپنے عیوب پر نظر اور اعمال کی قبولیت کی فکر
  اور آدمی جتنا اللہ کی یاد میں آگے بڑھتا جائے گا، پھر اس کا حال یہ ہوگا کہ اللہ کی طاعت کے کام کرے گا۔ نیک عمل کرے گا، لیکن نیک عمل کرنے کے بعد اس کی حالت اس مزدور کی طرح ہو جائے گی جو مزدور پوری محنت کے ساتھ کوئی چیز تیار کیا، لیکن اس کے بعد بھی اس کے دل میں یہ ہے کہ پتہ نہیں، لوگ قبول کریں گے کہ نہیں۔ نہیں سمجھے؟ جیسے باورچی ہے، کھانا بنانے کے بعد خود بھی چکھتا ہے تو وہ تو مطمئن ہو جاتا ہے، لیکن اس کی حالت یہ ہوتی ہے، جب لوگ پنڈال میں کھاتے رہتے ہیں، تو کنارے کھڑے رہ کے لوگوں کا تاثر دیکھتا رہتا ہے۔ اور پھر کوئی پہچان کا مل جاتا ہے تو پوچھتا ہے کیسا بنا؟ تو پھر وہ بیچارہ جب کوئی دو جملہ بولتا ہے تو اس کا دل خوش ہو جاتا ہے۔
  ایک باورچی تھے، ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کو جب کبھی معلوم ہو جاتا تھا کہ قاری صاحب کھانا کھانے آنے والے ہیں، تو بیچارے میرے انتظار میں رہتے اور پوچھتے قاری صاحب، کیسا بنا؟ حالانکہ اپنے کو کچھ ذائقہ وائقہ سمجھتا نہیں۔ اپنے دلجوئی میں ان کو دو جملہ بول دیتے تھے اللہ کی توفیق سے، اس نیت سے کہ مومن کا دل خوش کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ ایک مرتبہ ایسے ہی کہے کیسا بنایا قاری صاحب؟ میں بولا کیا ہوا؟ میں بولا سب کو پسند آ گیا۔ یعنی ایسا بنایا کہ سب کو پسند آ گیا۔
تو میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ آدمی جتنا آگے بڑھتا جاتا ہے اپنے کمال میں، اور جتنا ماہر ہوتے جاتا ہے، تو اس کو اپنے اندر اتنا عیب نظر آتا ہے۔ اور جو ناقص ہوتا ہے، تو اس کی نظر کبھی بھی اپنے نقص اور عیب پر نہیں پڑتی۔ تو ایسے ہی جس کا تعلق اللہ سے جتنا قوی ہوتا جاتا ہے، تو ایک حد تک کے تو یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنے گناہ نظر آتے ہیں۔ پھر یہ حالت ہوتی ہے کہ اس کو اپنی طاعت میں بھی، جو اچھے کام کرتا ہے اس میں بھی کمی نظر آنے لگتی ہے کہ پتہ نہیں قبول ہوا کہ نہیں ہوا۔
ایک دلہن کو اس کی سہیلیوں نے سجایا۔ اب بالکل سجا سنوار کے سب بیٹھ کے اس کی تعریفیں کرنے لگیں کہ تو تو ایسی لگ رہی ہے، تو تو ایسی لگ رہی ہے، تو تو ایسی لگ رہی ہے۔ اب اس کی جتنی تعریفیں کی جا رہی ہیں، وہ بیچاری اتنی رو رہی ہے۔ لوگ بولے ہم تیری تعریف کر رہے ہیں، تو رو رہی ہے؟ کہا کہ ہاں، بات یہی ہے۔ میں اس لیے رو رہی ہوں کہ اصل یہ ہے کہ میں جس کے لیے سجائی گئی ہوں، اس کو پسند آ جاؤں تب کوئی بات ہے۔ تم کو تو پسند آ گئی۔
تو ایسے ہی دنیا تو خوب تعریف کرے، ماشاء اللہ، سبحان اللہ، اور یہ اور وہ اور وہ، اور اللہ کے یہاں سے رد کر دیے گئے تو کیا فائدہ؟ تو بتانا یہ ہے کہ آدمی جتنا اللہ سے قریب بڑھتا جاتا ہے، اس کو پھر اپنے عمل میں اتنا عیب اور نقص نظر آتا ہے۔ کمزوری نظر آتی ہے۔ تو جب اللہ کی یاد دل میں جم جاتی ہے، تو آدمی کی نظر اپنے عیوب اور نقائص پر پڑنے لگتی ہے۔ اپنی خوبی کمالات پر نظر نہیں پڑتی کہ اپنے تو یہ، اپنے تو یہ، وہ کہتے ہیں اپنے تو کچھ نہیں۔

مشائخ کی تدبیر: غفلت کے علاج کے لیے ذکر کے مخصوص طریقے
  اصل چیز اللہ کی یاد کو دل میں جمانا ہے۔ تو ذکر کا مقصد ہی ہے اللہ کی یاد کو دل میں جمانا۔ لیکن مسئلہ یہی ہے کہ اب ہم جو ذکر کرنے بیٹھتے ہیں، تو شیطان ہم کو ذکر کرنے نہیں دیتا۔ سلا دیتا ہے، سستی لے آتا ہے، جمائی آنے لگتی ہے، کوئی کام یاد دلا دیتا ہے، اور ذکر کی جو مقدار ہے، وہ مقدار پوری ہونے نہیں پاتی۔
  تو پھر مشائخ نے اس میں تدبیر کیا۔ جیسے حکیموں نے دوا میں تدبیر کی۔ کیا تدبیر کیا؟ جیسے حکیم لوگ، دوا کڑوی ہے تو اس کو کیا کرتے ہیں؟ گڑ میں، شہد میں ملا کے... اصل یہ ہے کہ دوا اندر پہنچے۔ گڑ اور شہد ضروری نہیں ہے، دوا اندر جائے۔ تو ایسے ہی پھر مشائخ نے کہ علاج تو ذکر اللہ ہی سے ہوگا، لیکن اب امت ذکر کرتی نہیں۔
  تو اب کیا علاج کیا جائے؟ تو آج سے تقریباً 600 سال پہلے مشائخِ قادریہ اور مشائخِ چشتیہ پر اللہ نے اس بات کو کھولا کہ جب کبھی امت غفلت کا شکار ہو جائے اور دوا کی رغبت بھی پیدا نہ ہو، دوا کی طرف رجحان بھی نہ آئے، اس وقت ان کو ایسے دوا کھلاؤ۔ اب ایسی دوا تو ہے نہیں کہ بچوں کی طرح سب ٹانگ وانگ پکڑ کے پلائیں، لیکن کبھی ضرورت پڑتی ہے تو ایسا بھی ہوتا ہے۔ خانقاہ میں لا کے کونڈ دیتے ہیں، نکلنا نہیں یہاں سے۔ آج جیسے بہت سے مریض آ رہے ہیں نا، بولے کہیں نہ کہیں ادھر ادھر پھنس گئے ہیں، اب نکلنا چاہ رہے ہیں، نکلنے نہیں پا رہے، تو ان کا علاج کیا ہے؟ ان کو ٹانگیں ٹولا کر کے لا کے خانقاہ میں ڈال دو، اب یہاں سے نکلنا مت جب تک کہ مکمل علاج نہ ہو جائے۔
  بہرحال، تو کڑوی دوا کو جس طرح حکماء پلاتے ہیں، کھلاتے ہیں، ایسے ہی مشائخ پر اللہ نے اس بات کو کھول دیا کہ جب امت ذکر کی طرف سے دور ہو جاوے، تو ان کے دل میں ذکر کا ذوق و شوق پیدا کیا جائے اور اس کا طریقہ یہ ہو کہ کچھ تھوڑی آواز ہو اور تھوڑا سا ہلنا ہو۔ تو اس سے سستی بھاگ جائے گی۔ چستی آ جائے گی۔ ذوق بھی پیدا ہو جائے اور اس کو سمجھنا کچھ مشکل بھی نہیں ہے۔

حفظِ قرآن کی مثال: حرکت اور آواز کا فطری تعلق
  طبعی بات ہے، فطری بات ہے کہ جو طالبِ علم قرآن کا حفظ کرتا ہے، وہ فطرتاً ہلنے لگتا ہے۔ ہے کوئی ایسا ملا جو کبھی ایسے بیٹھ کے خالی یاد کر لے؟ نہیں، کوئی بھی نہیں ملے گا۔ یاد ہوگا ہی نہیں۔ اور جیسے ہی یاد کرنا شروع کرتا ہے، بلکہ یہ مشہور ہے جو جتنی تیز ہلتا ہے، اتنی تیز اس کو یاد ہوتا ہے۔ اب حافظ صاحب لکڑی بجاتے، تو بچے اور تیز تیز ہلنے لگتے۔ حالانکہ چپکے چپکے بولتے رہتے تھے کہ حافظ جی نہیں دیکھ رہے ہیں، بولے دیکھ، حافظ صاحب ادھر ہی دیکھ رہے ہیں۔ ایسے ہلتے ہیں خوب تیز تیز، سمجھے؟ تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ طالبِ علم جو حفظ کا ہوتا ہے، تو قرآن یاد کرنے کے لیے ہلتا ہے۔ کبھی ایسے ہلے گا، کبھی ایسے ہلے گا۔ کیوں؟ ایک فطری چیز اور ایک طبعی چیز یہ ہو گئی ہے کہ اس طرح پڑھنے سے قرآن آسانی سے یاد ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی ایک طبعی چیز ہے کہ وہ اگر ہل رہا ہے اور بغیر آواز کے پڑھ رہا ہے، تب بھی نہیں پڑھ سکے گا۔ تو ہلنا اسی وقت ہوتا ہے جب وہ آواز نکالتا ہے۔ کیونکہ وہ آواز جب اس کے کان میں جاتی ہے، اس کان میں پڑھنے کے بعد خود اس کو ایک حال اور کیفیت ملتی ہے، بس وہ خود بخود ہلنے لگتا ہے۔
  سمجھ رہے ہیں میری بات؟ تو یہ جو ہلنا ہے، ایک طبعی اور فطری چیز ہے۔ اور ضابطہ یہ ہے کہ حافظِ قرآن جب تک کہ ویسا ہلتا نہیں، اس کو اچھا یاد ہوتا نہیں۔ تو جب قرآنِ کریم کے الفاظ کو دل و دماغ میں اتارنے کا ایک طبعی اور فطری قائدہ یہ بن گیا ہے، تو اللہ کی یاد بھی اس طریقے سے ہل کے اور بول کر کے آسانی سے اندر جا سکتی ہے۔

اجتماعی ذکر کا مقصد: مشق (ریاضت) اور ذوق پیدا کرنا
  پھر ایک بات یہ بھی آتی ہے کہ ایک آدمی ایک ذکر کراتا ہے اور باقی سب اس کی نقل کرتے ہیں، یہ کیسے کیا؟ تو آپ لوگوں نے جن لوگوں نے تجوید کی مشق کی ہوگی، تو قرآن بھی تو ذکر ہے نا؟ اب استاد کیا کرتے ہیں؟ ایک آیت پڑھا کے رک جاتے ہیں، باقی سب ایک ساتھ آواز میں آواز ملا کر پڑھتے ہیں۔ تو وہ استاد ایسا کیوں کراتے ہیں؟ بولے ان کو مشق کرا رہے ہیں۔ کیا کرا رہے ہیں؟ مشق۔ اور اسی مشق کو عربی زبان میں تمرین کہتے ہیں اور ریاضت کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ ریاضت، یعنی ورزش کرا رہے ہیں۔ ریاضت کے معنی؟ ورزش، کہ ان کو پڑھنے کا طریقہ سکھا رہے ہیں۔ تو ایسے ہی جب کوئی ایک آدمی ذکر کراتا ہے اور سب مل جل کر کے ذکر کرتے ہیں، تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سب کو ذکر کرنے کا طریقہ آ جائے۔
ورنہ سب آ کر کے جمع ہو کے اپنا اپنا کریں گے، تو سب آپس میں گڈ مڈ ہوجائے گا، مجلس ایک دم عجیب سی لگے گی۔ تو یہ تعلیم کے لیے ہے، کس کے لیے؟ کہ یہاں آنے والا ذکر سیکھ لیوے، اور جو ذکر کرنے کی رغبت نہیں رکھتا ہے، اس طرح ذکر سن لے گا تو اس کے اندر ذوق پیدا ہوگا، وہ بھی ذکر کرنے والا بن جائے گا۔
  ابھی میرے ایک عزیز بتلا رہے تھے، بولے جمعرات کے روز نئی مسجد بیلباغ میں ذکر ہوتا ہے۔ میں میری اہلیہ کو لے کے گزر رہا تھا، تو بولی کتنا اچھا لگ رہا ہے! یہ بولے۔ لوگ ذکر کر رہے ہیں۔ کہی کتنا اچھا لگ رہا ہے۔ میں نے کہا کہ یہی چیز ہے۔ اللہ کی یاد، اللہ کہنے کی لذت سب کے دل میں ہے، لیکن گناہوں کی وجہ سے دبی ہوئی ہے۔ جب اس طرح کی مجلس میں آ کے کچھ اللہ اللہ کر لیتے ہیں، تو پھر محبت کی وہ چنگاری وہ انگارہ بن جاتی ہے۔ اور پھر ہر ایک کی زبان پر کیا آنے لگتا ہے؟ اللہ، اللہ... جو نہیں کرنے والا ہے، وہ بھی کرنے لگتا ہے۔

مجلسِ ذکر مقصود نہیں یہ ایک مشق و ریاضت ہے
  تو معلوم ہوا، اس طرح ذکر کرنے کا مقصد دل میں اللہ کی یاد کو جمانا ہے۔ اس لیے، میں اصل بات بول دوں... مجلسِ ذکر مقصود نہیں ہے۔ مجلسِ ذکر مقصود نہیں ہے۔ ذکر میں آواز کو بلند کرنا مقصود نہیں ہے۔ ذکر میں دائیں بائیں ہلنا ضروری نہیں ہے۔ ہاں، یہ ایک تدبیر ہے، ایک طریقہ ہے اللہ کی یاد کو دل میں جمانے کا۔ اس کو عبادت کے مقصد سے نہیں کرتے ہیں، ہم اس کو ریاضت کے لیے کرتے ہیں۔ کس کے لیے کرتے ہیں؟ ریاضت۔ ریاضت معنی ورزش، مشق۔
کہ ہم کو مشق ہو جائے۔ ہم ہفتے میں ایک دن اس طرح ذکر کرتے ہیں، تو چارجنگ رہتی ہے، تو پھر پورا ہفتہ اکیلے ذکر کرنا ہم کو آسان رہتا ہے۔ اور اگر کہیں روز اس طرح کی مجلس ہو رہی ہے، اور جس کو یہ مرض ہو کہ میں اکیلے ذکر نہیں کر پاتا، تو چند دن روز آ نا جا کر ایسی مجلسوں میں شرکت کر کے ذکر کرنے لگے، پھر اس کو انشاء اللہ جب اس کی لذت مل جائے گی، تو تنہائی میں ذکر کرنا اس کو آسان ہو جائے گا۔
  پھر میں آخری بات یہ کہوں گا... وہ شخص جس کو طاعت کے کرنے میں اچھا لگتا ہو، اچھا کام کرنے میں دل لگتا ہو، ذکر میں دل لگتا ہو، تلاوت میں دل لگتا ہو، اور دعا مانگنے میں کیفیت بنتی ہو، اور مسجد میں جی لگتا ہو، اچھے لوگوں کے پاس بیٹھنے میں جی لگتا ہو، تنہائی میں اللہ یاد آتا ہو، ایسے شخص کو کوئی ضروری نہیں ہے کہ مجلسِ ذکر میں آئے۔
  اور اگر جس کو یہ لگ رہا ہے کہ میں تنہائی میں گناہ آسانی سے کرتا ہوں، تنہائی میں مجھ کو اللہ یاد نہیں آتا، میرا مسجد میں جی نہیں لگتا، میرا تلاوت میں جی نہیں لگتا، میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں تو شیطان دعا مانگنے نہیں دیتا، کیفیت نہیں بنتی، مسجد سے جی گھبراتا ہے، دین کی محفلوں سے جی گھبراتا ہے، دین کی باتیں سننے کا ذوق نہیں ہوتا، دینداروں کو دیکھ کے بھاگتا ہوں کہ اسلامی پولیس آئی، ابھی پکڑ کے مسجد لے جائے گی، اچھے لوگوں کو دیکھ کر کے اگر ہمارا جی گھبرا رہا ہے، ان سے جی بھاگ رہا ہے، تو سن لیجیے، میں ایک ذمہ دار ہونے کی بناء پر یہ بات کہہ رہا ہوں، ایسے شخص کو ذکر اللہ کی مجلس میں شریک ہونا واجب ہے۔
  اس لیے کہ یہ سب کس لیے ہو رہا ہے؟ دل سے اللہ کی یاد چلی گئی ہے۔ اور کس لیے ہو رہا ہے؟ اندر میں گناہ کی عادت پڑ گئی ہے، اور گناہ کا چھوڑنا واجب ہے، اور گناہ کے چھوڑنے کا سب سے آسان ذریعہ کیا ہے؟ ذکر اللہ کی مجالس۔ سمجھ رہے ہیں؟ اور جس کے دل میں بار بار گناہ کا خیال ہوتا ہے، گناہ کی رغبت ہوتی ہے، اس کو بھی شرکت کرنا واجب ہے۔ اور جس کو ایسا نہیں ہے، ان کو کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ نے ان کو اپنی یاد دی ہے۔

ذکر کے ثمرات: سنتوں پر عمل اور اخلاق و کردار میں پختگی
  اور جب اللہ کی یاد دل میں جم جاتی ہے، تو اس کا دو زبردست فائدہ ہوتا ہے۔ پہلا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کو موقع محل کی دعائیں یاد آنے لگتی ہیں۔ نبی مسجد میں کس طرح داخل ہوتے تھے اور کیا پڑھتے تھے؟ نبی مسجد سے نکلتے تھے تو کیسے نکلتے تھے، کیا پڑھتے تھے؟ نبی استنجا خانے میں جاتے تھے تو کیا پڑھتے تھے، کیسے جاتے تھے؟ استنجا سے نکلتے تھے تو کیا پڑھتے تھے اور کیسے نکلتے تھے؟ اور اسی طرح سونے سے پہلے کیا پڑھتے تھے؟ سو کر اٹھتے تھے تو کیا پڑھتے تھے؟ کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد، یعنی گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری تعلیمات پر دھیرے دھیرے عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ جب اللہ کا دھیان دل میں آ جاتا ہے اور اللہ کا خیال آ جاتا ہے۔
  اور پھر اس کا ایک اثر کیا ہوتا ہے؟ جب یہی کیفیت اور بڑھتی ہے، اور بڑھتی ہے، پھر یہ کیفیت ہوتی ہے کہ بندہ کہیں بیٹھے گا تو سلیقے سے بیٹھے گا، بات کرے گا تو سلیقے سے کرے گا، بڑوں کا ادب کرے گا، چھوٹوں کا اکرام کرے گا، اس لیے کہ اس کے دل میں یہ بات جمی ہے کہ اللہ مجھ کو دیکھ رہا ہے۔ میں کیسے چل رہا ہوں، کیسے بیٹھ رہا ہوں، کیسے بول رہا ہوں، جیسے سی سی ٹی وی کیمرے کو دیکھ کر کے آدمی سائلنٹ اور مہذب ہو جاتا، اب اس کے دل میں خیال آ جائے گا کہ مجھ کو اللہ دیکھ رہا ہے۔

غفلت کی وبائی بیماری اور جگہ جگہ روحانی ہسپتالوں کی ضرورت
  اب یہ کب ہوگا؟ جب ذکر اللہ کی مجلسوں میں شرکت کریں گے۔ تو ذکر اللہ کی یہ مجالس، پھر غور سے سنیں، ذکر کی یہ مجالس عبادت نہیں ہے بلکہ ریاضت ہے۔ اس کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے، ذکر کی رغبت پیدا کی جاتی ہے۔ ہم اس کو ضروری اور بہت واجب سمجھ کے نہ کریں، بلکہ اس وقت تک ضروری ہے جب تک کہ ہماری گناہ کی عادت نہیں چھوٹ جاتی۔
  ابھی لاک ڈاؤن لگا تھا، تو کون سی بیماری تھی؟ اس وقت بیماری تھی کورونا۔ اس وقت کیا ہوا تھا کہ یہ وبائی بیماری ہے، جہاں کہیں معلوم ہوتا ہے یہاں پیشنٹ ہے، اس کو اٹھا کے زبردستی لے جاتے، نہیں لے جاتے تھے؟ سارے ہاسپٹلز بھر گئے، تو پھر کیا کیا گیا؟ عارضی طور پر جگہ جگہ ہاسپٹل بنائے گئے تاکہ مریضوں کو ہم وہاں رکھ سکیں۔ تو یہ کام اب تک کے خانقاہوں میں ہو رہا ہے، آج سے نہیں، برسہا برس سے ہو رہا ہے، صدیوں سے ہو رہا ہے۔ اس طرح ذکر اللہ کی مجالس خانقاہوں میں ہوتی چلی آ رہی ہیں۔
  اب حال یہ ہے کہ گناہ اور غفلت کا مرض کورونا کی طرح اتنا عام ہوا ہے، ایک شخص سے ایسا جس کا سینہ اللہ کی یاد سے غافل ہے، کہیں بیٹھتا ہے تو دسیوں کو غافل کر دیتا ہے۔ اب یہ چونکہ وبائی بیماری ہو گئی ہے، تو اب اسی طرح روحانی ہاسپٹلز، یعنی ذکر اللہ کی مجالس جا بجا قائم کرنے کی ضرورت ہو گئی ہے۔
اور اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ جہاں کہیں ذکر کی مجلس قائم کی جائے گی، اس لیے کہ علاج اللہ کی یاد ہے۔ آج نشہ عام ہے۔ 

ذکراللہ کی اہمیت اور مجالس کا قیام
  آج نا جانے کیسی کیسی چیزیں عام ہیں۔ میں بہت کھول کر نہیں بتانا چاہتا، اس کا علاج سوائے ذکراللہ کی کثرت کے کچھ بھی نہیں ہے۔ دل چونکہ گناہ کر کر کے بالکل سیاہ ہو گئے ہیں، دل بالکل سخت ہو چکے ہیں، اب وہ دل نرم ہو سکتا ہے تو ذکر کی برکت سے ہی نرم ہو سکتا ہے۔ تو اس وقت اس کا طریقہ کیا ہوگا؟ ہم جہاں کہیں ذکر کی مجلس قائم کریں، میری عاجزانہ درخواست ہے، اپنے گھروں میں ذکراللہ کی مجالس قائم کریں۔

نسلِ نو کی تربیت اور حفاظت
  اس کا طریقہ یہ ہوگا، جس مقام پر ذکر کی مجلس ہو، وہاں پر ایک شخص کتاب لے کے تعلیم شروع کرے، تو کچھ لوگ گلی محلوں میں چل پھر کر وہ ہمارے بچے جو موبائل لے کر بیٹھے ہوئے ہیں، چونکہ گناہ اور غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، ان کے سروں پر ہاتھ رکھو شفقت کا، اور محبت سے ان کو یہ بول کر لے کر آؤ، بیٹا کچھ دیر ذکر ہوگا، چل ذکر میں شرکت کر لے، ہو سکتا ہے ہمارے اس طرح کہنے سے کوئی آیا اور اللہ کے نام کی چوٹ اس کے دل پر لگی، تو نا جانے وہ کہاں سے کہاں نکل جائے گا۔ 
  ہم چل پھر کر ان بچوں کو لائیں، ہمارے بچوں نے اس کا تجربہ کیا، ذکر کی مجلس قائم کیا، اور چل پھر کر بچوں کو لا کر جب جمع کیا ہے تو بچوں کی زندگی بدلی۔ وہ بچے جو سڑکوں پر بیٹھ کر کے آدھی آدھی رات تک موبائل دیکھتے تھے، آج ذکر کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو صف اولی کا مصلی بنا دیا۔
  ضرورت ہے اس بات کی۔ اس لیے اگر کوئی اوڑم بوڑم شخص یہ بولے یہ کیا لے کر آئے، بولنا بھائی ہم مریض لوگ ہیں، ہم اپنے مرض کا علاج کر رہے ہیں، اور دوا چونکہ ذکر ہے، اور دوا کھائی نہیں جاتی، بڑی کڑوی دوا ہے، نفس و شیطان کھانے نہیں دیتے، تو ہم دوا کھانے کے لیے تھوڑا سا ہل لیتے ہیں، اور تھوڑا سا بول لیتے ہیں۔ اور کوئی بات نہیں، ورنہ کوئی شیطان آئے گا اور کان میں کچھ گھول دے گا تو جو اوپر ترقی ہوئی ہے، وہ سب ختم ہو سکتی ہے۔ بہرحال ضرورت اس بات کی ہے، کہ ذکراللہ کی مجلسوں میں شرکت کریں اور پھر یہ بات کہوں گا، اگر ہماری اندر کی کیفیت درست ہو چکی ہے، تو پھر کوئی ضرورت نہیں ہے مجلس ذکر میں شرکت کرنے کی۔ لیکن اگر آج بھی گناہ کی عادت نہیں چھوٹی ہے، روز موبائل میں ہم گندی فلمیں دیکھتے ہیں، گانے سنتے ہیں، بداخلاقی کرتے ہیں، تو پھر ہم کو ذکراللہ کی ضرورت ہے۔
  ہم یہ سوچ کر اس پر عمل کریں، اور اپنی ضرورت سمجھ کر آئیں، جا بجا ذکراللہ کی مجلسیں قائم کریں اور لوگوں کو جوڑ کر تھوڑی دیر ذکر کرائیں۔ اللہ کے نام میں بڑی تاثیر ہے، میں کئی واقعات اس سے پہلے سنا چکا ہوں۔ 

باطل کا بڑا چیلنج؛ اگلی نسل کو بچانا 
  اب دوسری بات جو مجھ کو کہنا تھا، میں اس کی طرف آتا ہوں۔ اس وقت باطل کا بہت بڑا چیلنج یہ ہے، تم اپنی اگلی نسل کی حفاظت کر کے بتاؤ۔ اس چیلنج کا جواب اگر دیا جا سکتا ہے تو ذکراللہ کی مجالس کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ باطل نے ایسے ایسے کام کر ڈالے ہیں، کہ بچہ ماں کے پیٹ میں ہی دل کو گندا کر کے آئے گا۔ وہیں سے اپنے دل کو گناہ اور غفلت سے بھر کر کے لائے گا۔ اتنا عام کر دیا موبائل کو کہ جب عورت پیٹ سے ہوگی تو اس کے دل میں ڈال دے گا، دل بہلانے کے لیے موبائل دیکھ لیا کر۔ اب وہ پیٹ والی عورت جب موبائل لے کر کے بیٹھے گی تو اچھا دیکھے گی؟ کیا دیکھے گی پھر؟ وہ وہی سب الٹا سیدھا دیکھے گی، اس کے سارے اثرات اس بچے کے دل پر پڑیں گے، چونکہ تجربہ یہ ہے، ایام حمل میں عورت جتنے اچھے کام کرتی ہے، ان ساری چیزوں کا اثر بچے کے اوپر پڑتا ہے۔ اور واقعات ہیں، عورتوں نے حمل کے ایام میں قرآن کا حفظ شروع کیا، پیدا ہونے والا بچہ حافظ قرآن، جتنا پارہ اس عورت کا حفظ ہوا تھا، اتنے پارے کا حافظ بن کے نکلا۔
  بہت ایک عجیب چیز ہے، اللہ نے اس کو بنایا ہے، وہیں سے تربیت شروع ہوتی ہے، یہ جو ہم کہتے ہیں نا، ماں کی گود پہلا مدرسہ ہے، علماء نے مفسرین نے لکھا ہے، ماں کا پیٹ پہلا مدرسہ ہے، جب بچہ ماں کے پیٹ میں آگیا، تو ہم کو نیکی کے راستے پر چلنا ہوگا، ہم نیکی کے راستے پر چلیں گے، اس کے اثرات بچہ قبول کرے گا۔ بچے کے اوپر اس کے اثرات ہوں گے۔
اس لیے، ضرورت اس بات کی ہے، ہم اپنے گھر میں بھی ذکراللہ کی مجالس قائم کریں، تاکہ ہمارے یہ بچے ہمارے ساتھ بیٹھ کر اللہ اللہ کی ضربیں لگائیں، اور پھر آئندہ جو بچے اللہ نوازیں گے، اور جو اللہ تعالیٰ یہ دولت نوازیں گے، اس کا اثر بھی ان بچوں پر پڑے، تو اس سے باطل کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ ورنہ، آج مشائخ پر اللہ نے یہ بات کھول دی ہے، کہ اگلی نسل بہت ہی خطرناک ہے۔ اور خطرناک سے مراد کیا ہے؟ ان میں بے حیائی ہوگی، مکاری ہوگی، دھوکہ ہوگا، نا جانے کیا کیا ہوگا، اپنے ماں باپ کو نہیں پہچانیں گے وہ۔ اگر علاج ہو سکتا ہے، تو ذکراللہ سے۔ اس لیے عاجزانہ درخواست ہے، ہم اپنی اولاد کی، اگلی نسل کی ابھی سے فکر کریں، بلکہ میں اپنے تمام جوان دوستوں سے درخواست کروں گا، مشائخ نے ایک بہت ہی مجرب عمل بتایا ہے۔

اولاد کو نیک اور صالح بنانے کا مجرب عمل
  اولاد کو نیک اور صالح بنانے کا، وہ عمل یہ ہے، فرض نماز کے علاوہ جو بھی نماز پڑھیں، فرض نماز کے علاوہ جو بھی نماز پڑھیں، واجب کو چھوڑ کر کے، اس میں التحیات، درود ابراہیم اور دعائے ماثورہ پڑھنے کے بعد اگر ہم یہ معمول بنا لیں گے، رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ، اسی قاعدے میں پڑھ کر سلام پھیریں گے، تو علماء نے لکھا ہے، اس سے اولاد نیک اور صالح ہو جائے گی۔ اسی دعا کے ساتھ، رَبِّ اجْعَلْنِي کے ساتھ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ بھی ہے۔ اگر اس کو پڑھیں گے، تو گویا ہم اپنے والدین کی مغفرت کی دعا کر رہے ہیں، پوری امت کے لیے دعا کر رہے ہیں، اس کی برکت یہ ہوگی، اللہ ہمارے بچوں کو ہمارے بعد مغفرت کی دعا کرنے والا بنائیں گے، امت کے لوگوں میں محبت پیدا کریں گے، وہ ہماری مغفرت کی دعا کریں گے۔ اس لیے میرے بزرگو، عاجزانہ درخواست ہے، ذکر کی مجلس کو اُس وقت تک کے ہم کو، جہاں بھی، یہاں چھوٹ جائے، کہیں اور چلے جاؤ، ادھر چلے جاؤ، لیکن ہفتے میں ایک دن اس لیے ضرور شرکت کرو، کہ یہ میرے لیے گویا پاور ہاؤس ہے، یہاں سے مجھ کو پاور ملتا ہے۔ اور پھر کیا ہوگا؟ روزانہ ہم کو انشاءاللہ ذکر کرنا آسان ہو جائے گا، اس لیے عاجزانہ درخواست ہے، ذکر کی مجلسوں میں شرکت کریں، اپنے علاج کے لیے شرکت کریں، تاکہ ہم کو ہفتے بھر تنہائی میں ذکر کرنا آسان ہو، اور عبادت کرنا آسان ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام لوگوں کو کہنے اور سننے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرمائے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

دعائے صحت و مغفرت اور اختتامی دعائیں
   کچھ لوگوں نے دعا کی درخواست کی ہے، اس میں ساجدہ رئیس احمد کی صحت کے لیے دعا کرنا ہے، اسی طرح ابھی راستے میں ایک فون آیا تھا، اس میں بھی انہوں نے کوئی آپریشن کی کوئی بات ہے، ان کی صحت کے لیے بھی دعا کرنا ہے، اللہ تعالیٰ سب کو صحت اور عافیت عطا فرما دے۔ دعا کر لیں۔

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ یا اللہ یا رحمن یا رحیم، یا حی یا قیوم، یا ذالجلال والاکرام،
  اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما دیجیے، خطاؤں سے درگزر فرما دیجیے، جو کہا گیا، سنا گیا اس پر عمل کی توفیق عطا فرما دیجیے۔ مولائے کریم آپ کے پاک نام کی برکت سے، آپ کے پاک نام کی برکت سے ہم سب کی مغفرت فرما دیجیے، دونوں جہاں کی عافیت عطا فرما دیجیے، ہم سب کے لیے اپنے اپنے وقت پر سلامتی ایمان اور سلامتی اعضاء کے ساتھ موت مقدر اور میسر فرما دیجیے، ہم سب کو اپنا محبوب بنا لیجیے، پسندیدہ بنا لیجیے۔ پوری زندگی اتباع سنت کی توفیق عطا فرما دیجیے، اتباع سنت پر زندہ رکھیے، اور اپنے وقت پر اتباع سنت پر ہی موت عطا فرمائیے۔ مولائے کریم دین کا فہم عطا فرما دیجیے، دین کی خدمت کے لیے قبول فرما لیجیے، دین کا ذوق و شوق عطا فرما دیجیے، دین کی رغبت عطا فرما دیجیے، مولائے کریم دین کی خدمت کے لیے جن چیزوں کی، جن صلاحیتوں کی اور جن اوصاف و اخلاق کی ضرورت ہے وہ سب کچھ اپنے فضل و کرم سے عطا فرما دیجیے، مولائے کریم ہماری دنیا کو ہم پر آسان کر دیجیے، حلال پاکیزہ، وسیع روزی، طیب روزی عافیت کے ساتھ بابرکت روزی عافیت کے ساتھ عطا فرما دیجیے۔
  مولائے کریم ہمارے بچوں کو نیک اور صالح بنا دیجیے، ہماری نسلوں کی حفاظت فرما دیجیے، ہماری نسلوں میں دین کے داعیوں اور شیدائیوں کو پیدا فرما دیجیے، دین کے محافظین کو پیدا فرما دیجیے، مولائے کریم باطل کے ہر قسم کے پروپیگنڈے سے ہماری اور پوری امت کی پوری پوری حفاظت فرما دیجیے، مولائے کریم ہماری نسلیں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ آپ کے علاوہ ان کا کوئی محافظ نہیں ہے، مولائے کریم ہمارے گھروں میں ذکر کی مجلس کو قائم فرما دیجیے، ہمارے علاقے میں ذکر کی مجالس قائم فرما دیجیے، ہمارے دلوں میں ذکر کی رغبت اور شوق عطا فرما دیجیے، مولائے کریم وہ سارے طریقے ہم کو بتا دیجیے، جس سے دین کی اور امت کی حفاظت ہو سکتی ہے، مولائے کریم دین کی حفاظت فرما دیجیے، اور امت کی حفاظت فرما دیجیے۔ امت کی ساری پریشانیوں کو دور فرما دیجیے، امت کے حال پر رحم فرما دیجیے۔
  مولائے کریم امت کی لاوارثیت کو ختم فرما دیجیے، امت کو مخلصین کی جماعت عطا فرما دیجیے، دین کے کام کرنے والے افراد عطا فرما دیجیے، ہماری اس کہنے سننے کو بھی قبول فرما لیجیے، اس کے خیرات و برکات سے ہم سب کو مالامال فرما دیجیے، مولائے کریم اپنے فضل و کرم سے بارانِ رحمت کا نزول فرما دیجیے، آس پاس تمام علاقوں میں باران رحمت کا نزول فرما دیجیے، جہاں جس قدر بارش کی ضرورت ہے اتنی بارش عطا فرما دیجیے، ہر قسم کی آفت عطا فرما دیجیے۔

مولائے کریم یہ سب ہمارے اپنے گناہوں کی نحوست ہے، مولائے کریم ہم آپ کے مجرم ہیں اور آپ ہی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر آپ ہی سے معافی مانگ رہے ہیں، آپ نے توفیق دی تو ہم نے ہاتھ پھیلایا ہے، مولائے کریم ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما دیجیے، امت کے حال پر رحم فرما دیجیے، امت کی ساری پریشانیوں کو دور فرما دیجیے، امت کے گناہوں کو معاف فرما دیجیے، مولا یہ وہی امت ہے جس امت کے لیے آپ کا لاڈلا پوری پوری رات تڑپ تڑپ کر کے رویا ہے، آج یہ امت لاوارث ہے، امت میں طرح طرح کے فتنے داخل ہو گئے ہیں، مولا آپ کے علاوہ کون امت کی حفاظت کر سکتا ہے، امت کی پوری حفاظت کر دیجیے، امت کو غفلت سے نکال دیجیے، امت کو گناہوں سے بچا لیجیے، دین کا ذوق و شوق عطا فرما دیجیے، طاعت کا ذوق و شوق عطا فرما دیجیے، گناہوں کی نفرت دلوں کے اندر ڈال دیجیے، مولائے کریم ہمارے ان سب بچوں کو جو لوگ یہاں آئے ہیں اور ہمارے جو ساتھی ہمارے بزرگ آئے ہیں سب کو قبول فرما لیجیے، سب کے دلوں میں اپنی یاد کو جما دیجیے، آپ کا دھن اور آپ کا دھیان عطا فرما دیجیے۔
  مولائے کریم کب تک کے زندگی گناہ اور غفلت کے ساتھ گزرتی رہے گی، آپ نے مولا کتنے لوگوں کو اپنا بنا لیا، ہم کو بھی اپنا بنا لیجیے، ہم کو بھی اپنا بنا لیجیے، آپ ہمارے ہو جائیے، ہم کو ہمارے نفس و شیطان کے حوالے مت کیجیے، مولا ہم آپ ہی کے بندے ہیں، چہ جائے کے بہت گندے ہیں، مولا آپ کے علاوہ ہم کو گندگی سے کون پاک کر سکتا ہے، مولا ہمارے دلوں کی گندگی کو دور کر دیجیے، دنیا کی محبت سے پاک کر دیجیے، حب جاہ سے پاک کر دیجیے، حب باہ سے پاک کر دیجیے، مولا یہ دل آپ نے اپنے لیے بنایا تھا، ہم نے نا جانے اس میں کیسی کیسی محبتیں بھر لی اور پریشانیوں میں پڑ گئے، مولا ہمارے دل کو صاف کر دیجیے، ہمارے دل کو پاک کر دیجیے اور اس دل میں آپ آ جائیے، اس دل میں آپ آ جائیے، مولا یہ آپ ہی کے لیے تھا، ہم نے اس میں نا جانے کیسی کیسی گندگی ڈال لی، ہم کو معاف کر دیجیے، ہمارے نفوس کا تزکیہ فرما دیجیے، ہماری روح کی اصلاح فرما دیجیے، ہمارے نفس کی اصلاح فرما دیجیے۔
  مولائے کریم وہ ساری کیفیات ہم کو عطا فرما دیجیے، جن اچھی کیفیات سے آپ اپنے نیک اور مقبول بندوں کو نوازتے ہیں، ہم کو بھی وہ ساری کیفیات عطا فرما دیجیے، کفار اور مشرکین کی صفات سے ہماری حفاظت فرما دیجیے، تکبر سے، حسد سے، کینے سے، بغض سے، عناد سے ہمارے سینوں کو پاک کر دیجیے، مولائے کریم اس میں اپنی محبت، اپنی نسبت، اپنی معرفت، اپنی محبت کا نور ڈال دیجیے، اپنی ولایت کا نور ڈال دیجیے، مولائے کریم آپ کی ولایت لینے کے لیے، آپ کی محبت کے حصول کے لیے اس جنگل بیابان میں جمع ہیں، مولی قبول فرما لیجیے، مولی قبول فرما لیجیے، مولی قبول فرما لیجیے، یہ سب اپنی خواہشات کو کچل کر کے یہاں جمع ہوئے ہیں، مولائے کریم آپ ہی ان کو نوازنے والے ہیں، ہم سب کو نواز دیجیے، کوئی تو ایک بندہ ایسا اس مجمعے میں ہوگا جس کا اللہ اللہ کہنا آپ کو پسند آ گیا ہوگا، مولائے کریم اس کی برکت سے پورے مجمعے کو اپنی نسبت عطا کر دیجیے، اپنا دھن اور اپنا دھیان عطا کر دیجیے، اور جو جیسی پریشانی کے لیے آیا ہو کہ میری یہ پریشانی دور ہو جائے اس کے لیے، مولائے کریم سب کی پریشانیوں کو آپ جانتے ہیں، سب کی پریشانیوں کو دور فرما دیجیے، بیماروں کو شفا عطا فرما دیجیے۔
  مولائے کریم جو بے روزگار ہیں ان کو اچھا روزگار عطا فرما دیجیے، جن کی روزیوں میں برکت نہ ہو ان کو برکت عطا فرما دیجیے، مولائے کریم جو بہن بھائی اب تک کے بے نکاح ہیں سب کے لیے نیک صالح جوڑے کا انتظام فرما دیجیے، مولائے کریم جو بے اولاد ہیں ان کو نیک صالح اولاد عطا فرما دیجیے، جن کی اولاد نافرمان ہیں ان کو فرمانبردار بنا دیجیے، ہمارے اس جمع ہونے کو قبول فرما لیجیے، اور اس کا ثواب اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک کو بخش دیجیے، آپ کے درجات کو بلند سے بلند ترین فرما دیجیے، مولائے کریم ہماری زندگیوں کو آپ کے محبوب کی روحانی تسکین کا ذریعہ بنا دیجیے۔
 جزی اللہ عنا محمدا ما ھو اھلہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین.


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے