درس سورۃ الماعون اور سورۃ الکوثر



تلاوتِ قرآن مجید

﴿أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾
﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ۝ فَذٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ ۝ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ۝ فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ۝ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ۝ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ ۝ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان، بے انتہا رحم کرنے والے ہیں۔
کیا تم نے اسے دیکھا جو جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔ پھر بڑی خرابی ہے ان نماز پڑھنے والوں کی جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں، جو دکھاوا کرتے ہیں، اور دوسروں کو معمولی چیز دینے سے بھی انکار کرتے ہیں۔

﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾
﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ۝ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ۝ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾

شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے۔
اے پیغمبر یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دی ہے۔ لہٰذا تم اپنے پروردگار کی خوشنودی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ یقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔

سورۃ الماعون کا تعارف اور پس منظر

دو سورتوں کی تلاوت کی گئی، سورۃ الماعون اور سورۃ الکوثر۔ پہلی سورت سورۃ الماعون ہے۔ اس سورت کے اختتام پر، یعنی اس سورت کی آخری آیت میں، ماعون کا لفظ موجود ہے، اس لیے اس کا نام سورۃ الماعون رکھا گیا ہے۔ ماعون کے کیا معنی ہیں؟ ان شاء اللہ آخری آیت کی تشریح میں کریں گے۔ یہ سورت مکی ہے، لیکن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال یہ ہے کہ یہ مدنی سورت ہے۔ جب ہم اس کے مضامین پر غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ اس سورت کی شروع کی آیتیں مکہ کے مشرکین اور کفار کے حالات سے مطابقت رکھتی ہیں، اور آخری جو آیتیں ہیں وہ مدینہ منورہ کے منافقین کے حالات سے ہم آہنگ ہیں۔

مشرکینِ مکہ کی حالت اور ان کی برائیاں

مشرکینِ مکہ کے حالات میں قیامت کا انکار، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ بدسلوکی کرنا، اور مدینہ کے منافقوں کے حالات میں نماز سے غفلت برتنا، اپنے عمل میں ریاکاری کرنا اور معمولی چیزیں برتنے کے دینے میں بھی بخل سے کام لینا شامل ہے۔ یہ ان کے حالات ہیں۔ اسی لیے بعض اہلِ علم کی رائے ہے کہ اس سورت کی ابتدائی آیتیں تو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہیں اور اخیر کی آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں۔

سورۃ الماعون میں اللہ تعالیٰ نے چھ باتوں کی مذمت فرمائی ہے، جن میں سے تین باتیں عام کافروں میں پائی جاتی تھیں جن کو اپنے کفر کا اقرار تھا، اور بقیہ تین باتیں منافقین میں پائی جاتی تھیں۔ منافقین ان کو کہتے ہیں جو اپنے دل میں کفر چھپائیں اور باہر سے اپنے کو مسلمان ظاہر کریں۔
پہلی بات جس کی مذمت کی گئی ہے وہ ہے قیامت کا، بدلے کے دن کا انکار۔ ﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ﴾، کیا تم نے اسے دیکھا جو جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟ مختلف مفسرین نے ولید بن مغیرہ، یا ابوجہل یا ابوسفیان کے نام لیے ہیں کہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس میں تمام ہی کفارِ مکہ مخاطب ہیں، اس لیے کہ عمومی طور پر قیامت کے دن کا انکار تمام ہی کفارِ مکہ کیا کرتے تھے۔

دوسری برائی ہے یتیموں کے ساتھ بدسلوکی کرنا؛ ﴿فَذٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ﴾، وہی تو ہے جو یتیم کو دھکا دیتا ہے۔ ابوسفیان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہفتے میں ایک اونٹ ذبح کیا کرتا تھا اور ایک مرتبہ جب اس نے اونٹ ذبح کیا تو ایک یتیم شخص اس کے پاس آیا اور کچھ اس میں سے مانگا، لیکن اس کے اندر کیسی سنگدلی تھی کہ اس شخص نے اس کو دینے کی بجائے لاٹھی سے اس کی خبر لی اور اس کو مار کر، دھکا دے کر نکال دیا۔ مکہ کے معاشرے میں یتیموں کی بڑی ناقدری تھی اور یتیم جو ہوتے تھے، ان کی میراث کے اندر ان کو حصہ بھی نہیں دیا جاتا تھا، اور اگر ان کا حصہ نہیں دیا جا رہا ہے تو رہتے گھر سے ان کو دھکا دے کر نکال دیا جاتا تھا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔

تیسری برائی بیان کی گئی: بھوکوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہ دینا۔ ﴿وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ﴾، اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا۔ غور کریں گے تو سمجھ میں آئے گا کہ جب کوئی شخص دوسرے کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دے رہا ہے تو وہ خود کیا کھلائے گا؟ وہ بھی نہیں کھلائے گا۔ تو مشرکینِ مکہ کے اندر یہ عادت تھی کہ وہ کھانا تو کھلاتے نہیں تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیا کرتے تھے اور جو لوگ بھوکوں کو کھانا کھلاتے تھے، ان کی خبرگیری کرتے تھے، تو ان لوگوں کو روکا بھی کرتے تھے اور بہانہ بناتے تھے کہ ہم ان کو کھانا کیسے کھلائیں؟ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو اللہ تعالیٰ خود ان کو کھانا کھلا دیتا۔
سورۃ یٰسین میں اس کا ذکر آیا ہے: ﴿ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ۙ ﴾ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرو اور غریبوں، محتاجوں، بھوکوں کو کھانا کھلاؤ، ان کی ضرورتوں کو پورا کرو تو ﴿ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا ﴾ یہ کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ﴿أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَاءُ اللّٰهُ أَطْعَمَهُ ۖ ﴾ کہ ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو خود کھانا کھلا دیتا، ﴿ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴾ ایمان والو! تم تو بڑی کھلی گمراہی میں ہو۔ مشرکین ایمان والوں سے اس طرح سے کہا کرتے تھے۔

اس سلسلے میں مفسرین نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ابوجہل کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو کو بھی نقل کیا ہے، اس کو بھی دیکھ لیجیے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے سخی تھے، غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے، اور ان کے کھانے پینے کا انتظام بھی کرتے تھے۔ تو ابوجہل نے جب دیکھا تو ان سے کہا کہ تم کیوں ان کے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہو؟ کیا اللہ تعالیٰ ان کو کھانا کھلانے پر قادر نہیں ہے؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیوں نہیں۔ تو ابو جہل نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ پھر اللہ نے ان کو محتاج رکھا ہے؟ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں کچھ کو محتاج بنایا ہے اور کچھ کو دولت مند بنایا ہے، اس میں دونوں کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ محتاجوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ صبر سے کام لیں اور مالداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ایسے محتاج بھائیوں پر خرچ کیا کریں۔ اس پر ابوجہل کہتا ہے کہ تم بڑی غلطی پر ہو، گویا تمہارا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کھلانے پر قادر ہیں اور نہیں کھلاتا، اور تم ان کو کھلاتے ہو۔ تو ان کے اس بہانے کو قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تین آیتیں اور تین برائیاں مشرکینِ مکہ اور کفار میں پائی جاتی تھیں۔

منافقین کا کردار اور اعمال میں ریاکاری

آگے منافقین سے متعلق تین باتوں کا ذکر ہے۔ پہلی بات یہ کہ وہ غفلت کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ ﴿فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ۝ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾، پھر بڑی خرابی ہے ان نماز پڑھنے والوں کی جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ یعنی جو منافقین ہوتے تھے، اندر سے تو کفر چھپا ہوا ہے، ان کو اللہ تعالیٰ پر، آخرت پر، جنت دوزخ پر یقین تو ہے نہیں، لیکن مسلمانوں کے درمیان رہتے تھے، اگر وہ اپنے نفاق کو، اپنے کفر کو ظاہر کرتے، تو ان کے درمیان رہ نہیں سکتے تھے، تو اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ تو اس منافقت کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے درمیان رہ کر نماز پڑھا کرتے تھے شرما شرمی میں اور خوف کی وجہ سے۔ لیکن غفلت کے ساتھ پڑھتے تھے، یعنی کبھی پڑھے، کبھی نہیں پڑھے، اور کبھی اتنی تاخیر کر دی کہ وقت گزر گیا، اور کبھی پڑھے تو نماز کے ارکان کو صحیح طور سے ادا بھی نہیں کرتے تھے، بے دلی کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔

بہت سی جگہوں پر قرآن کریم میں ان منافقین کی نماز کا ذکر کیا گیا ہے۔ پانچویں پارے کے آخری رکوع میں بھی ہے: ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللّٰهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ ﴾ کہ جب یہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ﴿ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللّٰهَ إِلَّا قَلِيلًا ﴾ کہ لوگوں کے دکھانے کے لیے کہ ہم مسلمان ہیں، اس کے لیے یہ نماز پڑھا کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کو بہت تھوڑا سا یاد کر لیا کرتے ہیں۔ تو یہ منافقین سے متعلق آیت ہے۔

ان کی دوسری جو برائی ہے وہ ذکر کی گئی ہے۔
﴿الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ﴾، کہ جو دکھاوا کرتے ہیں۔ یعنی نماز پڑھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے میں ان کا جو مقصود ہوا کرتا تھا، وہ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ایک حکم دیا ہے اس پر عمل کر رہے ہیں، بلکہ مقصد یہ ہوتا تھا کہ ہمارے عمل کی نمائش ہو جائے اور جو مسلمان دوسرے ہیں وہ ہم کو مسلمان سمجھیں۔ تو یہ ریاکاری کیا کرتے تھے۔

ماعون کا مفہوم اور بخل کی مذمت

ان کی تیسری برائی کا بیان ہے: ﴿وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾، کہ یہ دوسروں کو معمولی چیز دینے سے بھی انکار کرتے ہیں۔ ماعون کسے کہتے ہیں؟ اسی ماعون کے لفظ پر اس سورت کا نام رکھا گیا ہے۔ ماعون کے معنی ہیں برتنے کی معمولی چیزیں۔ جو عام طور پر پڑوسی ایک دوسرے سے مانگ لیا کرتے ہیں، جیسے برتن وغیرہ۔ ہم آپس میں، لکھنے پڑھنے والے لوگ قلم مانگ لیتے ہیں، کاغذ مانگ لیتے ہیں۔ اسی طرح گیراج وغیرہ کے کام میں ایک دوسرے سے اوزار مانگ لیتے ہیں۔ تو یہ جو معمولی چیز ہوتی ہے، اس کے دینے میں عام طور پر انسان ہاتھ نہیں کھینچتا بلکہ دے دیا کرتے ہیں کہ بھئی ٹھیک ہے یہ لے لو، قلم لے لو، لکھنا ہے لکھ لو، کاغذ لے لو۔ تو یہ معمولی چیزیں ہیں، لیکن یہ منافقین کے اندر بخل اتنا ہوتا تھا کہ یہ معمولی چیزیں دینے سے بھی بخل کیا کرتے تھے اور ہاتھ کھینچے رکھتے تھے، اس کو ذکر کیا گیا کہ یہ ایسے لوگ ہیں۔

اسی کے ساتھ، ماعون کی جو تفسیر ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے کئی صحابہ سے یہ نقل کی گئی ہے کہ ماعون سے مراد زکوٰۃ ہے۔ اور اگر لفظ کے جو دوسرے معنی ذکر کیے گئے ہیں، اس کو اور زکوٰۃ کی تفسیر کو سامنے رکھیں تو بھی اس میں گنجائش ہے، اس لیے کہ زکوٰۃ بھی انسان کی دولت کا بہت معمولی حصہ ہے۔ چالیس روپے میں سے ایک روپیہ، سو روپے میں سے ڈھائی روپیہ، اتنا معمولی ہے۔ تو اگر کوئی شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، تو گویا اتنا معمولی حصہ بھی وہ اللہ تعالیٰ کے نام پر خرچ نہیں کرتا، اللہ کے نام پر اللہ کے محتاج بندوں کو نہیں دیتا، تو وہ گویا ﴿وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾، اتنا بخیل ہے کہ بہت معمولی چیز بھی وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں، اللہ کے نام پر خرچ نہیں کر رہا ہے۔

اس سورت میں چھ برائیوں کو ذکر کیا گیا ہے۔ تو اس سے کیا مقصود ہے؟ اس سے مقصود یہ ہے کہ مسلمان اس سے بچیں اور اس سے دور رہیں۔ بتایا گیا کہ یہ کفار کی عادتیں ہیں، ان کے اندر یہ برائیاں ہیں، یہ منافقین کے اندر ہے۔ اے مسلمانو! تمہاری یہ شان نہیں ہے کہ کافروں، مشرکوں اور منافقین کی عادتوں کو اپنے اندر آنے دیں۔ تو ہم لوگوں کو چاہیے کہ ہم قیامت کے دن کا خوب مضبوط یقین رکھیں، اس دن کے حساب سے ڈریں۔ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، نمازوں کا خوب اہتمام کریں خضوع و خشوع کے ساتھ، دل کی حضوری کے ساتھ پڑھیں اور سخاوت کو اپنائیں، بخل اور کنجوسی سے دور رہیں۔

سورۃ الکوثر کا تعارف اور حوضِ کوثر کی فضیلت

دوسری جو سورت ہے سورۃ الکوثر ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے یعنی اس کا نام کوثر اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس سورت کی پہلی آیت میں ہی لفظ کوثر موجود ہے، اس مناسبت سے اس کا نام سورۃ الکوثر رکھا گیا ہے۔ یہ قرآن کریم کی سب سے چھوٹی مختصر سورت ہے اور اس میں دس الفاظ ہیں جو چالیس حروف پر مشتمل ہیں۔ یہ مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی سورت ہے، مکی سورت ہے۔ پہلی آیت ہے: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾، اے پیغمبر! یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دی ہے۔ دوسری آیت ہے : ﴿ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ﴾ لہٰذا تم اپنے پروردگار کی خوشنودی کے لیے نماز پڑھو۔

کوثر کے معنی لغت کے اعتبار سے تو خیرِ کثیر کے آتے ہیں، یعنی بہت زیادہ بھلائی۔ لیکن حدیث میں اس کی اور بھی تشریح موجود ہے۔ ایک یہ کہ کوثر اس حوض کا نام ہے جو قیامت کے دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تصرف میں دیا جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لوگوں کو اس سے سیراب کریں گے۔ حدیث میں ہے کہ اس حوض پر رکھے ہوئے برتن اتنے زیادہ ہوں گے جتنے آسمان کے ستارے۔ اور یہ بھی ملتا ہے کہ جو اس حوض سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا، جنت میں داخل ہونے تک اس کو پیاس نہیں لگے گی۔ اور حدیث میں یہ بھی ملتا ہے کہ کوثر جنت کی ایک نہر ہے جس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں اور اس کی سطح موتی اور یاقوت کی ہے، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اگر دونوں حدیثوں کو سامنے رکھیں گے تو اس کی صورت اس طرح بنتی ہے کہ اصل میں نہرِ کوثر ہے جنت میں، اور حوضِ کوثر یہ میدانِ محشر میں ہوگا۔ اور جنت کی نہرِ کوثر سے دو پرنالے حوضِ کوثر میں گریں گے، یعنی نہرِ کوثر جو جنت میں ہے، وہاں سے دو پرنالے حوضِ کوثر میں گرائے جائیں گے اور اس کا پانی پھر امتِ محمدیہ پیے گی۔ تو یہ ہے اس کی تشریح

بدعات اور خرافات سے اجتناب

لیکن اسی کے ساتھ یاد رکھنا چاہیے کہ جو بدعات اور خرافات میں پڑے ہوئے لوگ ہیں، وہ حوضِ کوثر پر جب جائیں گے تو وہاں سے ان کو ہکال دیا جائے گا، بھگا دیا جائے گا، نکال دیا جائے گا۔ حدیث میں ملتا ہے کہ بہت سے لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھیں گے حوضِ کوثر پر پانی پینے کے لیے، لیکن فرشتے ان کو دھتکار رہے ہوں گے، نکال رہے ہوں گے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ یہ میرے امتی ہیں، ان کو آنے دو۔ تو اس وقت فرشتے کہیں گے کہ یا رسول اللہ! آپ کے علم میں نہیں کہ ان لوگوں نے آپ کے جانے کے بعد آپ کے دین میں کیسی تبدیلیاں کی ہیں۔ یہ لوگ بدعتی ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہی یہ سنیں گے، آپ غضبناک ہو جائیں گے اور کہیں گے: ﴿سُحْقًا سُحْقًا﴾، بھگاؤ ان کو، نکالو یہاں سے۔

تو محترم بزرگو دوستو! بدعات اور خرافات یہ بہت ہی زیادہ ناپسندیدہ چیز ہیں، اس سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ جو لوگ بدعات و خرافات میں پڑیں گے وہ میدانِ محشر میں سختی والے دن حوضِ کوثر سے پانی پینے سے محروم ہو جائیں گے۔ اب جب حوضِ کوثر سے پانی پینا ان کو نصیب نہیں ہوگا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بھی وہ محروم ہو جائیں گے اور شفاعت بھی ان کو نہیں ملے گی اور بھی بہت زیادہ ان کے نقصانات ہوں گے۔ اس لیے جو کتاب و سنت ہمارے سامنے موجود ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دین جس شکل میں ہم کو دیا ہے، اس میں ہم کو باقی رکھنا ہے۔

دشمنانِ رسول ﷺ کا انجام

اس سورت کی آخری آیت ہے: ﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾، یقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔ ابتر، اس کے لفظی معنی ہیں جس کی جڑ کٹی ہوئی ہو۔ اور عرب کے لوگ اس کو اپنی زبان میں استعمال کرتے تھے اس شخص کے لیے جس کی نسل آگے نہ چلے اور جس کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی بھی نرینہ اولاد، نر اولاد، اولاد دو ہوتی ہیں، ایک مادینہ ہوتی ہے، دوسرے نرینہ ہوتی ہے، مادہ یعنی لڑکیاں اور نرینہ نر سے مذکر اولاد، تو جو نرینہ اولاد تھی، آپ کے لڑکے تھے وہ انتقال کرتے چلے گئے۔ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کا جب انتقال ہوا تو آپ کے دشمنوں نے، جن میں عاص بن وائل یہ بہت پیش پیش تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو طعنہ دیا کہ معاذاللہ آپ تو ابتر ہیں، آپ کی جڑ کٹ گئی ہے، آپ کی نسل آگے چلنے والی نہیں ہے۔ آپ کے انتقال کے بعد پھر سب ختم ہو جائے گا، آپ کا دین بھی ختم ہو جائے گا، اور آپ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔

تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور اس سورت کے ذریعے سے بتا دیا کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے کوثر عطا فرمایا ہے، یعنی خیرِ کثیر عطا کی ہے دنیا میں، اور میدانِ محشر میں آپ کو حوضِ کوثر ملے گا، اور جنت میں نہرِ کوثر تو آپ کی ہوگی ہی، اور اسی کے ساتھ آپ کا مبارک ذکر اور آپ کے دین کو چلانے والے بے شمار ہوں گے۔ ابتر تو آپ کا دشمن ہے، ﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾، یقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔ تو ابتر تو آپ کا دشمن ہے جس کا مرنے کے بعد نام و نشان بھی نہیں رہے گا۔

اور واقعی حقیقت میں ایسا ہی ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہم آج لے رہے ہیں، اور آپ کی سیرتِ طیبہ تو الحمدللہ زندہ جاوید ہے، لیکن طعنہ دینے والوں کو کوئی بھی نہیں جانتا اور اگر کوئی جانتا بھی ہے تو برائی کے نام سے جانتا ہے اور ان کا ذکر بھی اگر ہوتا ہے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی وجہ سے ہوتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کی اور آپ کو ایسا کہا، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کیا۔ بہرحال اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان والے اور آپ کے جو سید گھرانہ ہے وہ آج بھی موجود ہے، لیکن ہم دیکھیں گے کہ ولید بن مغیرہ، ابوجہل، ابوسفیان ان لوگوں کے خاندان میں سے کوئی بھی نہیں پایا جاتا، کوئی بھی نہیں ملتا۔ جتنے مشرکین طعنہ دیا کرتے تھے سب بے نام و نشان ہو گئے۔ اور اگر کسی کا نام و نشان ہے تو ہم آپ کے نبی محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہمارا بھی نام ہو، اور ہم بھی آگے نام لیے جائیں اور آخرت میں بھی ہمارا نام ہو تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کا نام باقی رکھا ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ہم ان کا دامن تھام لیں، ان کی سنتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں، تو ان شاء اللہ ہمارا بھی نام ہوگا اور ہم بھی آگے چلیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے، ہم سب کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم کا فہم عطا فرمائے۔

دعا

﴿اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَلَكَ الثَّنَاءُ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَلَكَ الشُّكْرُ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، فَصَلِّ وَسَلِّمْ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَافْعَلْ بِنَا مَا أَنْتَ أَهْلُهُ، فَإِنَّكَ أَنْتَ أَهْلُ التَّقْوَىٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ﴾

اے اللہ! ہم سب کے بیٹھنے کو قبول فرما لیجیے۔ اے اللہ! قرآن کریم کا فہم ہم سب کو عطا فرما دیجیے۔ قرآن کریم کا فیض ہماری نسلوں میں جاری کر دیجیے۔ قرآن کریم کے فیض سے ہم سب کو مستفید فرما دیجیے۔ اے اللہ! آج کے درس میں جو چھ برائیوں کا تذکرہ ہوا ہے، اے اللہ! ان تمام برائیوں سے اے اللہ! ہماری حفاظت فرما، پوری امت کی حفاظت فرما، ہماری نسلوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جو دوسری سورت میں خیرِ کثیر کا ذکر ہوا، حوضِ کوثر کا، نہرِ کوثر کا ذکر ہوا، اے اللہ! ہم سب کو حوضِ کوثر سے نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے ہاتھوں پانی پینا مقدر و میسر فرما۔ اے اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب اتباع کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! آپ کی شفاعت ہمارے لیے مقدر فرما۔ اے اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنتوں کو، محبتوں کے ساتھ ہم اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، ہم سب کو ایسی توفیق عطا فرما دیجیے۔

﴿وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالَىٰ عَلَىٰ خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ﴾

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے