سورۃ الفاتحہ (درس 4)

 


آسان درسِ قرآن

تعارف اور سورۃ الفاتحہ کا ترجمہ

پناہ میں آتا ہوں میں اللہ کی، شیطان مردود سے۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے، جو بڑا مہربان ہے، نہایت رحم کرنے والا ہے، بدلے کے دن کا وہ مالک ہے۔ ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔

عید الاضحیٰ کے ایام میں جو درسِ قرآن تھا، وہ اسی کی مناسبت سے ہوا۔ اب ہم ہمارا جو سلسلہ وار درسِ قرآن جاری تھا سورۂ فاتحہ سے، اسی کو ہم آگے بڑھاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے ذاتی اور صفاتی نام

سورۂ فاتحہ کے پچھلے درسِ قرآن میں ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ﴾ کی تفسیر بیان ہوئی تھی۔ شرح و بسط کے ساتھ الحمد کے معنی اور اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام ﴿اللَّهُ﴾ کے متعلق تفسیر آئی۔ ہم نے آج جو آیتیں آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں، سورۂ فاتحہ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کے پانچ نام ذکر کیے گئے ہیں۔ جن میں سے ایک نام ﴿اللَّهُ﴾ ہے جو اللہ پاک کا ذاتی نام ہے۔ اور اس کے علاوہ چار نام؛ رب العالمین میں ﴿رَبِّ﴾، اور ﴿الرَّحْمَٰنِ﴾، اور ﴿الرَّحِيمِ﴾، اور مالک یوم الدین میں ﴿مَالِكِ﴾، یہ چار نام صفاتی ہیں۔ جیسے ذاتی نام ہوتے ہیں جن کو بچے کے ماں باپ رکھتے ہیں اور ہمارا نام ہوتا ہے جس سے ہم پکارے جاتے ہیں؛ زید ہے، بکر ہے، عمر ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر اس کے بعد جب ہم کسی صفت سے آراستہ ہوتے ہیں، کوئی فضیلت ہم کو حاصل ہوتی ہے، ہم حافظِ قرآن بنتے ہیں، عالمِ دین بنتے ہیں، تو پھر ہمارے ساتھ ایک نام کا اضافہ ہوتا ہے؛ حافظ فلاں ابن فلاں، مولانا فلاں ابن فلاں، مفتی فلاں ابن فلاں۔ تو جو مفتی ہے، عالم ہے، حافظ ہے، یہ صفاتی نام ہیں جو اس کی صفت کو، جو اس کے وصف کو بیان کرتا ہے۔ تو ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا ایک ذاتی نام ہے ﴿اللَّهُ﴾، اور اس کے علاوہ کم و بیش 99 نام ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو بیان کرتے ہیں۔

اسمائے حسنیٰ اور ان کی اہمیت

یہ صفاتی نام، قرآنِ کریم میں انہی ناموں کو اسمائے حسنیٰ کہا گیا ہے: ﴿وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا﴾ اور اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں، تم انہی ناموں سے اللہ تعالیٰ کو پکارا کرو۔ تو اسمائے حسنیٰ یہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ ان صفاتی ناموں کا صحیح علم ہونا یہ بہت ضروری ہے۔ ان صفاتی ناموں کے کیا معنی ہیں، اس کو سمجھنا بہت زیادہ ضروری ہے۔ اور جن قوموں نے اللہ پاک کے صفاتی ناموں کو سمجھنے میں غلطی کی ہے، ان کا عقیدہ خراب ہو گیا، وہ گمراہ ہو گئے، راستے سے بھٹک گئے۔ جتنی بھی قومیں ہیں ﴿وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ﴾، اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں ہادی، رہنما بھیجے ہیں۔ آسمان سے ہدایت نازل ہوئی ہے کتابی شکلوں میں، صحیفوں کی شکلوں میں، نبیوں کے ذریعے۔ تو ہر قوم میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دینے والے بھیجے۔ تو جو بھی قومیں ہدایت کے بعد گمراہ ہوئی ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات تھیں، ان صفات کو سمجھنے میں انہوں نے غلطی کی، خطا کی، ٹھوکر کھائی جس کی وجہ سے ان کا عقیدہ خراب ہو گیا اور وہ گمراہی والے راستے پر چل پڑے۔

صفاتِ الٰہی سمجھنے میں غلطی اور شرک کا ظہور

دنیا میں بڑی بڑی قومیں ہیں، ان میں سے ایک عیسائی ہیں اور ایک یہودی ہیں۔ انہی میں ہمارے پڑوس میں رہنے والے ہندو ہیں برادرانِ وطن، ان کے اندر شرک آیا ہے۔ ان کے اندر شرک اس وجہ سے آیا ہے کہ انہوں نے صفاتِ الٰہی کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی، اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو ویسا نہیں سمجھا جیسی وہ حقیقت تھی۔ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا، یہودیوں نے عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا۔ ﴿وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ﴾، تو یہودیوں نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بیٹے جب قرار دیے تو، شیر کا بچہ شیر ہوتا ہے، تو خدا کا بچہ کیا ہو گیا؟ خدا ہو گیا، تو ان کو بھی انہوں نے خدا قرار دے دیا۔ تو انہوں نے شرک کو اپنایا، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی صفتِ خلق کو سمجھنے میں ٹھوکر کھائی۔ اسی طرح ہم لوگ دیکھتے ہیں جو ہمارے برادرانِ وطن میں شرک پایا جاتا ہے؛ فلاں دیوی، فلاں دیوتا وغیرہ وغیرہ۔ تو یہ دیوی دیوتا جو ہیں نا، یہ اصل میں فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی بیٹیاں قرار دیا اور اس کو دیوی کا مرتبہ دے دیا۔ اسی طرح فرشتوں کو فلاں فلاں فرشتے، ان کی کتابوں میں، آسمانی کتابوں میں، جو بھی ان کے نبی تھے، ان کے ذریعے سے ان کو معلومات ملیں، تو انہوں نے ٹھوکر کھائی اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ مشرکینِ مکہ جو تھے یہ بھی شرک میں مبتلا ہو گئے، اس کی تفسیر آگے ہم بیان کریں گے، تو اس کی وجہ یہی تھی کہ اللہ کی صفات میں انہوں نے غلطی کی۔

خالق اور والد کے درمیان فرق

اس کو ہم مثال سے دیکھیں؛ اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام ہے خالق، اس کے معنی ہیں پیدا کرنے والا۔ (ہماری مسجد کے امام صاحب کا بھی نام ہے عبدالخالق، ماشاءاللہ) تو خالق کے معنی ہیں پیدا کرنے والا، خلق کرنے والا۔ اور ایک لفظ ہے والد، اس کے معنی بھی لوگ عام طور پر پیدا کرنے والا ہی لیتے ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے معنی میں فرق ہے۔ خالق کہتے ہیں خلق کرنے والے کو، اور خلق کرنا ایک بڑا پروسیس ہے، بڑا مرحلہ ہے۔ اس میں جو ہے چیزیں ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو خلق کرتے ہیں تو پہلے اس کا خاکہ بناتے ہیں، اور خاکہ بنا کر کے پھر اس کے بعد اس چیز کو عدم سے وجود عطا کرتے ہیں، اور پھر وہ چیز وجود میں آ کر کے زندگی پاتی ہے۔ جیسے ایک بڑی عمارت بنانا ہے تو کسی انجینئر کے سپرد وہ کام کیا گیا، تو انجینئر ڈائریکٹ تعمیر کرنا شروع نہیں کر دے گا، پہلے اس کا ایک خاکہ بنائے گا؛ بلڈنگ اتنی منزلوں کی ہونا چاہیے، اس میں اتنے کمرے ہونا چاہیے، اس میں اتنا منزلہ، یہ یہ ساری چیزیں پورا ایک خاکہ بنائے گا۔ پھر اس خاکے کے مطابق وہ بلڈنگ تعمیر کرے گا، عمارت تعمیر کرے گا۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے کائنات بنائی اور کائنات میں جو بھی چیزیں بنائیں تو اللہ تعالیٰ خالق ہیں اس کے۔ تو اللہ تعالیٰ خلق کرتے ہیں، پہلے اس کا خاکہ بناتے ہیں جس کو تقدیر بھی کہتے ہیں، اور پھر اس کے مطابق وہ چیز معدوم سے موجود ہوتی ہے، عدم سے وجود میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کو خلق کیا ہے۔

تخلیقِ انسانی کے مراحل اور سورۃ الانسان کا پیغام

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانسان میں، سورۃ الدہر جس کا دوسرا نام ہے (ایک نام سورۃ الدہر کا سورۃ الانسان ہے)، اس لیے کہ اس میں انسان کی تخلیق کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے، انسان کی ابتدا اور پھر اس کا اچھا یا برا کیا انجام ہونا ہے اس کو بیان کیا ہے۔ جیسے سورۃ الجن ہے تو اس میں جنات کا تذکرہ ہے، ایسے ہی سورۃ الانسان (سورۂ دہر) میں ہم انسانوں کا تذکرہ ہے۔ ہم کو اس کو بہت غور سے پڑھنا چاہیے۔ سورۃ الجن کو جنات بہت اہتمام سے سنتے ہیں، کیوں؟ اس لیے کہ اس سورت میں ان کا ذکر ہے، بڑے اہتمام سے وہ سنتے ہیں۔ ایسے ہی ہم لوگوں کو بھی بڑے اہتمام سے سورۂ انسان کو سننا چاہیے، سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہمارا کیا تذکرہ کیا ہے، ہمارا کیا بیان کیا ہے۔ اس کی پہلی ہی آیت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ﴿هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا﴾ کیا انسان پر ایک وقت ایسا نہیں آیا کہ وہ کچھ بھی نہیں تھا؟ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا؟ ﴿لَّمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورًا، إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ﴾ ہم نے انسان کو مرد و عورت کے ملے جلے نطفے سے بنایا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ انسان کو خلق کرتے ہیں، تو خلق کرنے کے مرحلے ہیں؛ پہلے اللہ تعالیٰ باپ کی پشت میں انسان کا نطفہ خلق کرتے ہیں، پھر اس کے بعد ماں کے رحم میں ایک انڈا اور بیضہ، اس کو خلق کرتے ہیں، پھر اس کے بعد مرد عورت کے ملاپ کے بعد یہ نطفہ اور بیضہ مل کر کے مختلف مرحلوں سے گزر کر کے ایک خوبصورت انسان کی شکل میں ماں کی گود میں آتا ہے۔ تو یہ عملِ تخلیق ہے: ﴿إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ﴾ اور والد اور والدہ یہ اس تخلیق کے عمل کے لیے ایک جگہ، ایک مکان فراہم کرنے والے ہیں۔ جیسے حلوائی کی دکان ہے، حلوائی کی دکان میں آگے کا جو حصہ ہوتا ہے اس میں تیار مال لا کر رکھا جاتا ہے، لیکن اس مال کو تیار کرنے کے لیے اندر ایک کمرہ ہوتا ہے۔ وہاں پر جو بھی پروسیس ہوتا ہے، نظام ہوتا ہے، اس کے مطابق برفی ہے، بنگالی فلاں فلاں فلاں فلاں سب جو ہے تیار کی جاتی ہے، اور تیار کرنے کے بعد جب مال تیار ہو جاتا ہے اس کے بعد اس کو دکان کے شوکیس میں رکھا جاتا ہے۔ تو یہ مکان فراہم کرتے ہیں انسان کی تخلیق کا ماں اور باپ۔ باپ کی پشت میں نطفہ تیار ہوتا ہے اور ماں کے بطن میں بیضہ (انڈا) تیار ہوتا ہے، اس کے بعد پھر جا کر کے ماں کے بطن میں نو مہینے میں ایک انسان کا بچہ وجود پاتا ہے اور اس دنیا کے اندر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی بڑی اچھی مثال سے قرآنِ کریم میں سمجھایا کہ: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ﴾ تمہاری عورتیں، تمہاری مستورات یہ تمہارے لیے کھیتیاں ہیں۔ جس طرح کسان ہوتا ہے، کسان ایک بیج زمین میں ڈال دیتا ہے اور پھر جو زمین ہوتی ہے اس زمین میں بیج پڑتا ہے، آسمان سے اللہ پاک بارش برساتے ہیں، پھر اس کے بعد ایک نباتات کی شکل میں پودا وجود میں آتا ہے، بڑا درخت بنتا ہے۔ ایسے ہی باپ کا نطفہ ماں کے بطن میں جاتا ہے اور جس طرح زمین ایک نباتات کو، ایک پودے کو وجود دیتی ہے، اسی طرح ماں کے پیٹ کی زمین ایک بچے کو وجود عطا کرتی ہے۔

شرک کا بنیادی سبب اور توحیدِ الٰہی

تو یہ تخلیق کے عمل میں والد اور والدہ ایک جگہ اور مکان فراہم کرنے والے ہیں، والد والدہ خالق نہیں ہیں۔ ایسے ہی خالق جو ہے وہ والد اور والدہ نہیں ہے، خالق والد اور والدہ نہیں ہو سکتا۔ اگر اس کو والد اور والدہ قرار دیا جائے تو خالق کا جو مقام ہے نا، اس سے اس کو نیچے اتار دیا جائے گا، اور اس کو خالق سے اتار کر مخلوق کے درجے میں لے جایا جائے گا۔ عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ کی اسی صفتِ خلق کو سمجھنے میں ٹھوکر کھائی اور خالق کو انہوں نے والد سمجھ لیا، اور عیسیٰ علیہ السلام کو ﴿وَلَدُ اللَّهِ﴾ (اللہ کا ولد) قرار دے کر کے کہا کہ یہ ﴿ابْنُ اللَّهِ﴾ ہے، یہ اللہ کا بیٹا ہے، اور پھر اس طریقے سے شرک میں پڑ گئے۔ اس طریقے سے وہ شرک میں پڑ گئے کہ جب ان کو (عیسیٰ علیہ السلام کو) انہوں نے ﴿ابْنُ اللَّهِ﴾ کہا، تو اللہ کی جو الٰہ ہونے کی صفات ہیں لامحالہ اس کو ان کے اندر منتقل ماننا پڑے گا۔ شیر کا بچہ شیر ہوتا ہے، اسی طرح انسان کا بچہ انسان ہوتا ہے، تو خدا کا بچہ بھی خدا ہوگا، لامحالہ یہ ماننا پڑے گا جس کی وجہ سے وہ شرک میں مبتلا ہو گئے۔

اللہ تعالیٰ اس شرک کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور قرآنِ کریم میں جا بجا اس کو بیان کیا ہے کہ یہ بہت بری بات ہے۔ ﴿وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا﴾ ان عیسائیوں نے، نصاریٰ نے، انہوں نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے، رحمان نے ولد کو اختیار کر لیا ہے۔ ﴿لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا﴾ تم نے تو بہت بری بات کہی۔ ﴿تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا، أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدًا﴾ کہ اتنی بری بات ہے کہ قریب ہے کہ اس بری بات سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین میں زلزلہ برپا ہو جائے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں، اس کے اندر پھٹن پیدا ہو جائے اور وہ پھٹ کر کے ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر گر جائیں، اتنی بری بات ہے۔ یہ بات کیا ہے؟ کہ انہوں نے یہ کہا کہ رحمان نے ولد اختیار کر لیا ہے، رحمان نے کسی کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے، یہ اتنی زیادہ بری بات ہے۔

اللہ کو گالی دینے کے مترادف اور سورۃ الاخلاص کا پیغام

حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثِ قدسی میں ارشاد فرمایا کہ یہ جو ﴿ابْنُ اللَّهِ﴾ کہنا کسی کو، اور کسی کو ﴿وَلَدُ اللَّهِ﴾ کہنا کہ یہ اللہ کا بیٹا ہے یا اللہ کی اولاد ہے، اللہ پاک نے اس کو گالی دینے سے تعبیر کیا ہے۔ کوئی اگر اللہ کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ اللہ کا ولد ہے، یہ اللہ کا بیٹا ہے، گویا اس نے اللہ کو گالی دی۔ یعنی کسی انسان کو گالی دینا جتنا برا لگتا ہے، ایسے ہی اللہ کے لیے ولد قرار دینا اللہ کو اتنا برا لگتا ہے۔ اللہ پاک کو تکلیف پہنچے؛ اللہ اس سے پاک ہے۔ اللہ کو ایذا نہیں پہنچ سکتی۔ اللہ تعالیٰ انفعالی کیفیات سے بھی پاک ہیں کہ فوراً غصے میں آ جائیں اور کوئی عمل کر لیں، اللہ اس سے پاک ہیں۔ ہم انسان جذباتی ہوتے ہیں اور ہماری عقل ماؤف ہو جاتی ہے جذبات میں آ کر، اللہ اس سے پاک ہیں۔ ہم کو سمجھانے کے لیے اللہ پاک نے ایک تعبیر اختیار کی اور بتایا کہ تم کو گالی دینے سے جیسا برا محسوس ہوتا ہے، ایسا ہی برا مجھے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ کوئی یہ کہے کہ یہ اللہ کا بیٹا ہے۔ حدیث میں ہے: ﴿شَتَمَنِي عَبْدِي وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتِمَنِي﴾ کہ یہ میرا بندہ جس کو میں نے خلق کیا، یہ مجھے گالی دیتا ہے حالانکہ اس کو مجھے گالی دینا زیب نہیں دیتا۔ پھر اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے تشریح کی، اللہ پاک ہی کی طرف سے: ﴿وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ﴾ گالی دینا، ﴿فَقَوْلُهُ اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا﴾ اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ولد اختیار کر لیا ہے، کسی کو بیٹا بنا لیا ہے۔ ﴿وَأَنَا اللَّهُ الْأَحَدُ﴾ جبکہ میں اللہ ہوں، اکیلا ہوں، ﴿الصَّمَدُ﴾ بے نیاز ہوں، ﴿لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ﴾ میں نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ ہی میں نے کسی سے جنم لیا ہے، ﴿وَلَمْ يَكُن لِّي كُفُوًا أَحَدٌ﴾ اور کوئی میرے برابر اور میرے ہمسر بھی نہیں ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اور شرک کا انجام

گویا عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو ولد اللہ قرار دیا تو ﴿نَعُوذُ بِاللَّهِ ثُمَّ نَعُوذُ بِاللَّهِ﴾ مریم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی کیا قرار دے رہے ہیں؟ ہم آگے نہیں کہیں گے، بس سمجھنا ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ کو اتنا بڑا الزام دے رہے ہیں جبکہ اللہ اس سے پاک ہے۔ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں بیان فرمایا: ﴿بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ اللہ تعالیٰ تو آسمان اور زمین کا انوکھے انداز میں پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ نے پہلے کسی جگہ آسمان اور زمین بنا ہوا تھا، اس کو دیکھ کے نقل کی، ایسا نہیں، اللہ نے اپنے طور سے پہلی مرتبہ ہی اس کو انوکھے انداز میں بنایا ﴿بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ﴾ کہ اس کو ولد کیسے ہو سکتا ہے؟ بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟ جبکہ اس نے کسی کو اپنی بیوی نہیں بنایا ہے۔ ﴿أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ﴾ تو یہ کفر ہے، شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا: ﴿لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ﴾ ان لوگوں نے کفر کیا جو یہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم یہ اللہ ہے، یہ اللہ ہی کون ہے؟ مسیح ابن مریم ہے۔ انہوں نے یہ کہہ کر کے کفر کیا ہے، اور مسیح یعنی عیسیٰ علیہ السلام خود اپنی زندگی میں کہا کرتے تھے: ﴿وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ﴾ کہ اے بنی اسرائیل! اے یہودیوں! تم اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو، میری بندگی مت کرنا، اللہ کی بندگی کرنا، اللہ کی عبادت کرنا ﴿رَبِّي وَرَبَّكُمْ﴾ جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ ﴿إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ﴾ جو شرک کرے گا وہ ایسا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کو حرام قرار دے دیتے ہیں، اور اس کے لیے جہنم میں جانا طے کر دیا جاتا ہے ﴿وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ﴾ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ شرک کرنا یہ ظلم ہے، شرک کرنے والے یہ ظالم ہیں۔ ایک جگہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا اللہ پاک نے: ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ بے شک شرک کرنا یہ چھوٹا موٹا نہیں، عظیم ظلم ہے، بڑا ظلم ہے۔

فرشتوں کو بیٹیاں قرار دینے کی تردید

تو صفتِ الٰہی کو سمجھنے میں غلطی کی جس کی وجہ سے ایک انسان کو خدا کا درجہ دے دیا، ایک پیغمبر کو خدا کا درجہ دے دیا۔ مشرکین نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے دیا اور شرک میں مبتلا ہو گئے۔ اللہ پاک نے ایک جگہ ارشاد فرمایا: ﴿فَاسْتَفْتِهِمْ أَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَهُمُ الْبَنُونَ﴾ ان سے پوچھو کیا ان کے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے تم نے بیٹے قرار دے دیے؟ ﴿أَمْ خَلَقْنَا الْمَلَائِكَةَ إِنَاثًا وَهُمْ شَاهِدُونَ﴾ کیا جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تھا تو تم نے دیکھا تھا، مشاہدہ کیا تھا کہ وہ مونث ہیں؟ مرد نہیں عورت ہیں؟ ﴿أَلَا إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ﴾ سنو وہ جھوٹ بول رہے ہیں، ان کا یہ کہنا جھوٹ ہے۔

صفاتِ الٰہی کا فہم اور دعاؤں میں اسمائے حسنیٰ کا استعمال

تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنا ولد قرار نہیں دیا، اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ کسی سے نکاح کرے۔ اللہ ایک ہیں اور ایک ہو کر کے اللہ تعالیٰ مکمل ہیں، اللہ تعالیٰ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ تو سب سے بڑی معرفتِ الٰہی اور اس کا جو دروازہ ہے، اسی صفاتِ الٰہی کا علم ہے۔ اگر صفتِ الٰہی کے سمجھنے میں غلطی کریں گے تو گمراہی کی طرف چلے جائیں گے اور عقیدہ خراب ہو جائے گا۔ اسمائے حسنیٰ اسی صفاتِ الٰہی کو بیان کرتے ہیں۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ﴿وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا﴾ اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں، تم انہی ناموں سے اللہ تعالیٰ کو پکارو۔ ﴿وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں، وہ جو یہ کام کر رہے ہیں عنقریب ان کو اس کا برا بدلہ دیا جائے گا ﴿سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾

قرآنِ کریم کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں سے بھرا ہوا ہے۔ آیات کے درمیان، آیتوں کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے جا بجا اپنے صفاتی ناموں کو قرآنِ کریم میں ذکر کیا ہے؛ ﴿وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾، ﴿وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾، یہ 'عزیز' اور 'حکیم' یہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے جا بجا اپنی صفات کا ذکر قرآنِ کریم میں کیا ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کے انہی صفاتی ناموں کا حوالہ بھی دیا ہے۔ بہت ساری دعاؤں میں ملتا ہے کہ: ﴿يَا رَحْمَٰنُ ارْحَمْنِي﴾ اے رحمان مجھ پر رحمت کر، ﴿يَا تَوَّابُ تُبْ عَلَيَّ﴾ اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول کر لے، ﴿يَا عَفُوُّ اعْفُ عَنِّي﴾ اے عفو درگزر کرنے والے مجھ سے درگزر کر لے، ﴿يَا رَءُوفُ اُرْأُفْ بِي﴾ اے رأفت اور شفقت کرنے والے مجھ پر شفقت کر، ﴿يَا غَفُورُ اغْفِرْ لِي﴾ اے مغفرت کرنے والے میری مغفرت کر دے۔ تو یہ صفاتی ناموں کی بڑی اہمیت ہے، اس کا صحیح علم ہونا ضروری ہے، اور اس کے صحیح علم کے ساتھ پھر اللہ تعالیٰ کو پکارا جائے اور اس کے حوالے سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعاؤں کو قبول فرماتے ہیں۔

ربوبیت کا مفہوم اور والدین و علماء کی ذمہ داریاں

پہلی جو آیت ہے: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ رب العالمین یعنی جہانوں کا پالنہار۔ رب کہتے ہیں لغت کے اعتبار سے پرورش کرنے کو، تربیت کرنے کو۔ یہ پرورش کا عمل اور یہ تربیت کا عمل 'ربوبیت' کہلاتا ہے۔ اور ربوبیت کے معنی ہیں کسی چیز کو خلق کرنے کے بعد اس کی تمام ضرورتوں کو درجہ بدرجہ اس کی آخری انتہا تک پورا کرنا۔ کسی چیز کو پیدا کرنے کے بعد اس کی موت تک اس کی جتنی بھی ضرورتیں ہیں، وہ جس مرحلۂ حیات میں ہے، اس کی تمام ضرورتوں کو ان تمام مرحلوں میں پورا کرنا یہ ربوبیت کہلاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی شانِ ربوبیت بڑی عجیب و غریب ہے کہ جیسے ہی انسان پیدا ہوتا ہے تو انسان کی جو جسمانی ضرورت ہے، نوزائیدہ بچہ ہے تو فوراً اللہ تعالیٰ دودھ کا انتظام کرتے ہیں، اور ماں پہلے ہی سے کپڑے وغیرہ سی کر کے رکھ لیتی ہے اور دنیا میں آتے ہی نہلا دھلا کر کے محبت بھرے ہاتھوں میں لے کر کے پھر اس کو کپڑے پہناتی ہے، اس کو جو ہے شیریں میٹھا دودھ، اللہ تعالیٰ جو جاری کرتے ہیں چشمہ، اس کو اس سے سیراب کرتی ہے۔ اور پھر اس طریقے سے بڑا ہوتا ہے بچہ، بچہ بڑا ہو کر کے لڑکا ہوتا ہے، نوجوان ہوتا ہے، جوان ہوتا ہے، جوانی کی دہلیز پر پہنچتے ہی اللہ تعالیٰ اس کے لیے جوڑے کا انتظام کرتے ہیں، شادی بیاہ ہوتی ہے، پھر آگے بڑھتا ہے، پھر اس کو اولاد دی جاتی ہے، مکان دیا جاتا ہے، دولت دی جاتی ہے، جو اس کی ضرورتیں ہیں سب پوری کی جاتی ہیں، پھر ادھیڑی، بڑھاپا۔ تو ہر مرحلے میں اللہ تعالیٰ ہر انسان کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی شانِ ربوبیت ہے۔

صرف اللہ تعالیٰ جسمانی ضرورتوں کو پورا نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ مادی اور جسمانی ضرورتوں کے ساتھ ہر انسان کی روحانی اور اخلاقی ضرورتیں بھی پوری کرتے ہیں، اور انہی اخلاقی ضرورتوں کو، انہی روحانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو مبعوث کیا اور آسمانی کتابوں کو نازل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کو اسی لیے نازل کیا تاکہ ہم اپنے اخلاق کو درست کریں، زندگی کیسے گزارنا ہے وہ سیکھیں، کس طریقے سے انسان اور حیوان کی زندگی میں فرق ہوتا ہے اس کو جانیں اور پھر اس کے مطابق ہم اپنی زندگی گزاریں۔ اور آئیڈیل کے طور پر پیغمبر اور رسول کو اللہ پاک نے بھیجا، اس لیے کہ صرف آسمانی کتابیں بھیج دیتا تو بڑی پریشانی ہو جاتی، جب تک پریکٹیکلی کوئی ان آسمانی کتابوں میں آئی ہوئی ہدایتوں کو عملی طور پر کر کے نہ دکھاتا، اس پر عمل کرنا مشکل ہو جاتا۔ ایک کمپنی اپنا سامان فروخت کرتی ہے تو وہ بھی اس فطری طریقے کو اختیار کرتی ہے کہ اگر ہم فریج لیں گے، واشنگ مشین لیں گے اس کے ساتھ ایک گائیڈ بک ہوتی ہے، اور اسی کے ساتھ کمپنی کا ایک آدمی بھی ساتھ میں آتا ہے، وہ گائیڈ بک دکھاتا ہے اور پھر عملاً اس کو برت کے بتاتا ہے کہ دیکھو اس کو ایسے استعمال کرتے ہیں، اس کو اس طرح سے کریں گے اس کی سروس اچھی رہے گی ورنہ یہ نقصان دے گا، فلاں فلاں اس کی تمام چیزیں وہ سب بتا دیتا ہے۔

تو ایسے ہی اللہ تعالیٰ انسانوں کی روحانی اور اخلاقی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے، اس کو انسان جیسی زندگی گزارنے کے لیے، اللہ تعالیٰ آسمانی کتابیں اور پیغمبر اور رسول کو بھی بھیجتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ رب ہیں اور اللہ تعالیٰ مربی بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ معلم بھی ہیں۔ رب اور مربی تو ہم نے سمجھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ معلم بھی ہیں: ﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ﴾ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو، اللہ تعالیٰ تمہیں سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پڑھنے کا حکم دیتا ہے، پڑھنا سکھاتا ہے، اللہ تعالیٰ لکھنے کا حکم دیتا ہے اور لکھنا قلم کے ذریعے، اللہ تعالیٰ لکھنا سکھاتا ہے، اور پڑھنے لکھنے کے ذریعے سے علم دیتا ہے۔ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ جس رب نے تمہیں پیدا کیا ہے، اس رب کے نام سے پڑھو لکھو۔ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ جس نے قلم کے ذریعے سے تمہیں لکھنا سکھایا، تمہیں علم دیا، قلم کے ذریعے سے تمہیں سکھایا، تمہیں علم دیا۔ تو اللہ تعالیٰ ہر ضرورت کو پوری کرتے ہیں۔

محترم بزرگو، دوستو! اللہ تعالیٰ کی یہ شانِ ربوبیت ہے، اس سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ ہم اس کی طرف بھی توجہ کریں، یہ بڑا اہم پہلو ہے۔ محترم بزرگو، دوستو! یہی شانِ ربوبیت ماں باپ سے بھی مطلوب ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جو تخلیق کا عمل کرتے ہیں، اس میں سب سے زیادہ جن کے کردار کو منتخب کرتے ہیں وہ ماں باپ ہوتے ہیں؛ کہ باپ کی پشت میں نطفہ خلق ہوتا ہے بچے کا بالکل آغاز، اور اسی طریقے سے اس نطفے کی پرورش کے لیے جو بھی چیز چاہیے وہ بیضہ اور انڈے کی شکل میں ماں کے رحم میں وہ چیز پیدا ہوتی ہے، پھر اس کے بعد ماں کے رحم میں پورا انسان وجود پاتا ہے۔ تو ماں اور باپ کو اللہ تعالیٰ تخلیق کے عمل میں سب سے بڑا کردار ادا کرنے کے لیے منتخب کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ کی جو شانِ ربوبیت ہے کہ جیسے ہی اس دنیا میں بچہ پیدا ہوتا ہے اللہ کی شانِ ربوبیت اپنا کام شروع کر دیتی ہے، تو ماں باپ کے حوالے یہ بچے ہوتے ہیں، ان کی بھی بڑی ذمہ داری ہے کہ اپنے اندر اس شانِ ربوبیت کو پیدا کریں اور اس کو اپنائیں کہ بچے کی خوب اچھی پرورش کریں۔ اللہ کی نعمت سمجھ کر، اللہ کی امانت سمجھ کر کے، شرعی احکام کی روشنی میں اور نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے جو ہدایتیں دی گئی ہیں کہ اس کا اچھا نام رکھیں، اور اسی کے ساتھ اس کی اچھی پرورش کریں، یہ ساری چیزیں اپنانا ہے اور بچے کی خوب اچھی تعلیم اور اس کی تربیت کا اہتمام کرنا ہے۔

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کی جو تاکید کی ہے اولاد کو، اور اسی کے ساتھ ماں باپ کے لیے اولاد کو جو دعا سکھلائی ہے اس میں ماں باپ کی اسی شانِ ربوبیت کا حوالہ دیا ہے اور ربوبیت کی ذمہ داری کا حوالہ دیا ہے۔ وہ آیت ہے: ﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾ تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ تاکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرنا ہے اور ﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا ہے۔ ﴿إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ﴾ ماں باپ میں سے دونوں یا کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو تم ان کو اف بھی نہ کہنا ﴿وَلَا تَنْهَرْهُمَا﴾ ان کو جھڑکنا نہیں ﴿وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾ اور ان سے جب ہمکلام ہونا تو شریفانہ طریقے پر ہمکلام ہونا ﴿وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ﴾ اور جو ان سے کوئی سلوک کرنا تو ان کے ساتھ تواضع کے ساتھ پیش آنا ﴿وَقُل﴾ اور جب دعا کرنا تو یہ کہنا ﴿رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾ کہ اے پروردگار، اے اصلی پروردگار، اے اصلی رب! تو ان ماں باپ پر رحمت کر کیوں؟ ﴿كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾ اس وجہ سے کہ جب میں چھوٹا تھا تو انہوں نے میری پرورش کی ہے، انہوں نے میری تربیت کی ہے۔ ﴿رَبّیٰ يُرَبِّي تربیۃً﴾ تربیت کے معنی ہیں پرورش کرنا، تو رب کا، شانِ ربوبیت کا اللہ تعالیٰ نے حوالہ دیا کہ یہ ماں باپ پرورش کرتے ہیں، پالتے ہیں، تو ماں باپ کی بڑی ذمہ داری ہے کہ شانِ ربوبیت کو اپنے اندر پیدا کریں۔

اور اسی کے ساتھ جو علماء ہیں، جو اہلِ علم ہیں، قرآنِ کریم کو پڑھتے ہیں پڑھاتے ہیں، ان کی بھی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنے اندر شانِ ربوبیت کو پیدا کریں۔ اس لیے کہ ماں باپ کا جو کام ہوتا ہے پرورش کرنے کا، وہ جسم سے زیادہ متعلق ہوتا ہے، ماں جو ہے وہ جسمانی مالش کرے گی، اس کی صحت کا خیال رکھے گی، باپ جو ہے کمائے گا اور پھر کھانے پینے کی چیزیں لے کر آئے گا، لباس فراہم کرے گا، یہ زیادہ جسم کی جو ضرورتیں ہیں، یہ ماں باپ سے متعلق ہیں۔ ہاں ماں باپ ماشاءاللہ تعلیم کی بھی فکر کرتے ہیں، بڑے ہوئے تو اسکول مدرسے میں ڈالتے ہیں، ایسے اور بھی جو ضرورت کی چیزیں ہیں ساری کرتے ہیں۔ لیکن جو علماء ہیں، اہلِ علم ہیں، تو جو انبیاء کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اخلاقی تربیت کے لیے منتخب کرتا ہے اور آسمانی ہدایتیں ان کو دیتا ہے کہ میرے بندوں کی نفس کی تربیت کریں، ان کو تعلیم دیں اور ان کی اخلاقی تربیت کریں، یہ چیز اہلِ علم کی جو انبیاء کے علوم کے وارث ہیں ان کی ذمہ داری ہے۔

اور اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ایک جگہ اس کو بیان کیا ہے: ﴿كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ﴾ کہ اے اہلِ علم! اے علماء کی جماعت! ﴿كُونُوا رَبَّانِيِّينَ﴾ تم ربانی بن جاؤ، رب والے بن جاؤ، اللہ والے بن جاؤ، سب سے پہلے اپنے آپ کو اللہ سے جوڑنا ہے، اپنے آپ کو رب والا بنانا ہے۔ اور پھر اسی کے ساتھ اپنے اندر شانِ ربوبیت پیدا کر کے اپنی امت، امتِ محمدیہ کے حق میں اپنے آپ کو مربی بنانا ہے۔ ﴿كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ﴾ اس وجہ سے کہ تم لوگوں کو کتابِ الٰہی سکھاتے ہو، کتابِ الٰہی کا علم دیتے ہو، ﴿وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ﴾ اور اس وجہ سے کہ تم اس کتابِ الٰہی کو پڑھتے پڑھاتے ہو۔

تو جو کتابِ الٰہی کو پڑھتے پڑھاتے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ تربیت کا کام کریں۔ ماں باپ ماشاءاللہ کرتے ہیں، پھر انہی اہلِ علم معلمین اور علماء کے حوالے کر دیتے ہیں مکتب میں، مدرسے میں تاکہ یہ ان کی اخلاقی تربیت کریں، ان کی روحانی تربیت کریں، ان کی عادتوں کو بنائیں اور جو بھی بری عادتیں ہیں ان سے ان کو دور کریں۔ تو اس آیت میں جو رب ہے، رب کی جو صفت ہے اس سے یہ جو ماں باپ ہیں ان کی ذمہ داری بھی سمجھ میں آتی ہے اور جو علماء ہیں ان کی بھی ذمہ داری سمجھ میں آتی ہے کہ ماں باپ کو بھی شانِ ربوبیت اپنے اندر پیدا کرنا ہے اور تربیت کی ذمہ داری کو ادا کرنا ہے۔ اسی طرح ﴿كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ﴾ اس آیت کی روشنی میں اہلِ علم علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اندر تربیت کی شان پیدا کریں اور ان کے حوالے امت اپنے بچوں کو کرتی ہے تو ان کی خوب اچھی تربیت کریں، اس کے علاوہ بھی بڑی عمر کے جو لوگ ہیں ان کی بھی تربیت کریں، ان کو بھی علم سکھائیں۔

اور ماشاءاللہ ہمارا جو درسِ قرآن میں بیٹھنا ہے اور تیاری کر کے آپ کے سامنے درسِ قرآن پیش کرنا ہے یہ اسی تربیت کا حصہ ہے کہ ہم مل جل کر کے ایک مذاکرہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سمجھیں، سمجھائیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

اختتامی دعا

دعا کریں:

﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ﴾
﴿اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَلَكَ الثَّنَاءُ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَلَكَ الشُّكْرُ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَصَلِّ وَسَلِّمْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَافْعَلْ بِنَا مَا أَنْتَ أَهْلُهُ، فَإِنَّكَ أَنْتَ أَهْلُ التَّقْوَىٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ﴾

اے اللہ ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما دیجئے، ہماری خطاؤں سے، لغزشوں سے درگزر فرمائیے۔ اے اللہ اس قرآنِ کریم کو سمجھنے سمجھانے کے لیے ہمارا اکٹھا ہونا قبول فرما لیجیے۔ اے اللہ قرآنِ کریم کا فہم عطا فرما دیجیے، قرآنِ کریم کی جو عظیم نعمت ہے، اے اللہ اس نعمت کا احساس ہمیں پیدا کر دیجیے، احساس ہمیں عطا کر دیجیے اور اس کی خوب قدردانی کی توفیق عطا کر دیجیے۔ اے اللہ آج کے درسِ قرآن میں جو باتیں آئی ہیں، اے اللہ اس سے ہمیں سمجھ میں آیا کہ آپ کی شانِ ربوبیت کتنی زیادہ ہے۔ اے اللہ، اے اللہ ہمارے ذمے جو بھی تربیت کے فرض ہیں، اے اللہ ہم سب کو اس کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرما دیجیے۔

ہم میں جو ماں باپ ہیں بحیثیت ماں باپ ان کو اپنی اولاد کی خوب اچھی تعلیم و تربیت کی توفیق عطا فرما دیجیے۔ ہم میں جو اہلِ علم ہیں اے اللہ ان اہلِ علم کو تعلیم و تربیت کی جو ذمہ داری دی گئی اے اللہ اس کو بھی ادا کرنے کی توفیق عطا فرما دیجیے۔ اے اللہ یہ جو بچے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اے اللہ ان تمام بچوں کی خوب اچھی تعلیم و تربیت فرما دیجیے۔ اے اللہ اصل مربی تو آپ ہی ہیں، آپ ہی رب ہیں اے اللہ۔ اے اللہ جو بھی دوسرے تربیت کا فرض انجام دیتے ہیں بحیثیت ماں باپ یا بحیثیت علماء کے اے اللہ، اے اللہ یہ واسطہ اور ذریعہ ہیں، اے اللہ آپ واسطے اور ذریعے کے محتاج نہیں ہیں، اے اللہ لیکن سنت اللہ اس دنیا میں آپ نے یہی اختیار کی ہے، یہی بنائی ہے کہ سبب کے ذریعے سے اے اللہ عمل یہاں پر وجود میں آتا ہے لیکن آپ سنت اللہ کے ساتھ قدرت اللہ بھی ظاہر کرتے ہیں۔

اے اللہ اصل مربی آپ ہیں، آپ ہی ہم سب کی خوب اچھی تربیت کر دیجیے، اے اللہ خوب اچھی تعلیم کر دیجیے، اے اللہ ہماری بھی، ہماری نسلوں کی بھی خوب اچھی تعلیم و تربیت کر دیجیے، ہم سب کا خاتمہ ایمان پر مقدر میسر فرما دیجیے۔

﴿وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ﴾

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے