سورۃ الفاتحہ درس (١)


________________________ 
درس کے موضوعات 

1) سورہ فاتحہ ایک مکمل دعا ہے جسے اللہ الرحمٰن نے قیامت تک کے انسانوں کیلئے خود سکھائی ہے ایسے ہی جیسے سب سے پہلے انسان آدمؑ کو رب العالمین نے دعا اور کلماتِ توبہ سکھائے۔
( قرآن سے ماخوذ دعا : اللہم یا رحمٰن ، علِّمنی القرآن و علِّمنی البیان)

2) سورہ فاتحہ کے سات اہم نام اور ان کے پس منظر
1) سورۃ الدعاء و سورۃ المناجاۃ
2) اُمّ القرآن و اُمّ الکتاب
3) سورۃ الحمد و سورۃ الشکر
4) السبع المثانی
5) سورۃ الشفاء و سورۃ الشافیہ
6) سورۃ الحفاظۃ
7) فاتحۃ الکتاب

3) مسئلہ فاتحہ خلف الإمام یعنی امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم؟
________________________ 

تلاوتِ قرآن اور ترجمہ

﴿أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ۝ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۝ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۝ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۝ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ صَدَقَ اللّٰهُ الْعَظِيمُ
پناہ میں اتا ہوں میں اللہ کی، شیطان مردود سے شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
 تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جو سب پر مہربان ہے، بے انتہا مہربان ہے، جو روز جزا کا مالک ہے۔ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما، ان لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام کیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کے راستے کی جن پر غضب نازل ہوا ہے، اور نہ ان کے راستے کی جو بھٹکے ہوئے ہیں۔ 
سورۃ الفاتحہ اس کی تلاوت ہوئی، ترجمہ پیش کیا گیا، اس سورت کی تفسیر کی طرف ہم چلتے ہیں۔

مکی اور مدنی سورتوں کا معیار:
سورہ فاتحہ مکی سورت ہے، اس میں اختلاف بھی ہے، کچھ علماء کا کہنا یہ ہے کہ یہ مدنی سورت ہے۔ مکی اور مدنی کیا ہے؟ کسی بھی سورت کا مکی ہونا یا مدنی ہونا، معیار ہے اس کا ہجرت، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی، 53 سال میں، نبوت ملنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں 13 سال گزارے۔ اس 13 سال کے عرصے میں جو بھی قرآن نازل ہوا، وہ سب کے سب مکی کہلاتا ہے۔ اور ہجرت فرمانے کے بعد جو 10 سالہ زندگی ہے، اس 10 سالہ زندگی میں جو بھی قرآن نازل ہوا، جو سورت جو آیت نازل ہوئی، وہ مدنی کہلاتی ہے، چاہے وہ جگہ کے اعتبار سے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہو۔ جیسے فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما چکے تھے، مدینہ تشریف لے جا چکے تھے، لیکن فتح مکہ کے لیے جب آئے ہیں تو یہاں پر بھی قرآن نازل ہوا، کچھ آیتیں نازل ہوئی، خاص طور پر یہ آیت : ﴿اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ اور اسی کے ساتھ ﴿وَاتَّقُو يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللّٰهِ﴾ لیکن ایک ان کو مکی نہیں کہا جائے گا، ان کو مدنی کہا جائے گا، اس لیے کہ مکی اور مدنی میں جگہ کا اعتبار نہیں ہے، وقت کا اعتبار ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا اعتبار ہے۔ راجح یہی ہے کہ یہ سورت سورہ فاتحہ مکی ہے۔ کچھ علماءِ تفسیر کا یہ کہنا ہے کہ یہ سورت دو بار نازل ہوئی ہے، مکہ مکرمہ میں بھی نازل ہوئی ہے اور ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں بھی نازل ہوئی ہے۔ اس سورت کی فضیلت کی وجہ سے، یہ سورت بڑی فضیلت والی ہے، اس لیے اللہ پاک نے اس کے دو مرتبہ نازل کرنے کا اہتمام فرمایا۔ ایک مکی زندگی جو 13 سال پر محیط ہے اور دوسرے مدنی زندگی جو 10 سال پر محیط ہے، دونوں زندگی میں، دونوں دور میں اللہ پاک نے اس سورت کو نازل فرمایا۔ اس سورت کی اہمیت اس سے سمجھ میں آتی ہے۔

سورہ فاتحہ بحیثیت دعا اور حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ:
سورہ فاتحہ اپنی اصل کے اعتبار سے ایک دعا ہے اور یہ دعا اللہ پاک کی سکھلائی ہوئی ہے۔ اللہ پاک انتہائی علیم ہیں، انتہائی حکیم ہیں، اللہ پاک نے جو دعا سکھلائی ہے وہ انتہائی علم والی اور حکمت والی ہے، جامع ہے مانع ہے، اس لیے کہ اللہ تعالی کی سکھلائی ہوئی ہے۔ اللہ تعالی نے یہ دعا کیوں سکھلائی؟ یہ سوال ہے۔ اللہ تعالی نے یہ جو دعا سکھلائی ہے، اس میں خاص ﴿اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ صراط مستقیم کی دعا سکھلائی ہے، سیدھے راستے کی ہدایت کی دعا سکھلائی ہے، اس لیے کہ انسان خود سے دعا کرنا نہیں جانتا۔ اس کو کیا دعا اللہ تعالی سے مانگنا چاہیے، اُس کو بنیادی طور پر اِس کا بھی علم نہیں ہے۔ اللہ تعالی کی رحمت ہے، اللہ تعالی کی عطا اور بخشش ہے، اللہ تعالی کی صفت توّاب ہے، اللہ تعالی کی صفت رحیم اور رحمان ہے کہ اللہ تعالی خود اس سے دعا سکھلاتے ہیں اور پھر اپنے خزانۂ عامرہ سے اس دعا کی قبولیت پر عطا و بخشش بھی کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو بھی دعا سکھلائی۔ آپ کو وہ واقعہ یاد ہوگا، آدم علیہ الصلاۃ والسلام سے جب خطا ہو گئی تو بہت شرمندہ ہوئے، دل سے بہت شرمندہ تھے، نادم تھے، زبان سے معذرت کرنا چاہتے تھے، لیکن الفاظ عذر و معذرت کے نہیں جانتے تھے۔ کیسے اللہ تعالی سے توبہ کریں اس خطا پر؟ اس کا علم نہیں تھا، تو اللہ تعالی نے آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو، سب سے پہلے انسان ہمارے آپ کے جد امجد، ان کو توبہ کے کلمات سکھائے۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے: ﴿فَأَزَلَّھُمَا الشَّيْطَانُ عَنْھَا فَأَخْرَجَھُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا اھْبِطُو بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ﴾ کہ آدم اور حوا ان دونوں کو شیطان نے ڈگمگا دیا اور جنت کی جن نعمتوں میں وہ تھے اس سے نکلوانے کا سبب بن گیا۔ اب جب دنیا میں اتار دیے گئے، دنیا میں آنے کے بعد آدم علیہ الصلاۃ والسلام اپنی خطا پر بڑے نادم اور شرمندہ ہوئے لیکن الفاظ توبہ کے نہیں جانتے تھے، تو اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے توبہ کے کلمات سکھائے اور آدم علیہ السلام نے توبہ کے وہ کلمات سیکھے: ﴿فَتَلَقَّىٰ اَدَمُ مِنْ رَبِّہِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْہِ ۚ إِنَّہُ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾ کہ اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو کچھ کلمات سکھائے، آدم علیہ السلام نے وہ کلمات سیکھے، پھر اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کی، اس لیے کہ وہ اللہ ہے ہی بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور بہت زیادہ رحم کرنے والا۔ 
وہ کلمات کیا تھے؟ یہی توبہ کے کلمات تھے۔ سورہ اعراف میں، وہ کلمات کیا تھے اس کا ذکر بھی موجود ہے۔ سورہ اعراف میں اللہ تعالی نے اس کو بیان کیا: ﴿فَدَلَّاھُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَھُمَا سَوْآتُھُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْھِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّۃِ ۖ وَنَادَاھُمَا رَبُّھُمَا أَلَمْ أَنْھَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَۃِ وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ﴾ اللہ تعالی نے بیان فرمایا کہ شیطان نے آدم و حوا دونوں کو شیشے میں اتار لیا اور دونوں کو بہکا دیا، پھر یہ ہوا کہ دونوں نے جس درخت سے منع کیا گیا تھا، اس درخت سے کھا لیا، اور نتیجے میں جنتی لباس اتر گیا، برہنہ ہو گئے، فورا جنت کے درختوں سے اپنی شرمگاہوں کو ڈھانکنے لگے۔ اللہ تعالی نے ان کو پکارا: ﴿وَنَادَاھُمَا رَبُّھُمَا أَلَمْ أَنْھَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَۃِ﴾ کیا ہم نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا؟ اللہ تعالی نے پھر یہ بھی کہا:  وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴾ ہم نے یہ بھی نہیں بتا دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے، شیطان کی باتوں میں مت آنا؟ اب یہ ہوا کہ آدم علیہ السلام نادم اور شرمندہ ہو گئے، تو جواب میں کیا کہا: ﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ دونوں نے، آدم و حوا دونوں نے اللہ تعالی سے دعا کی: اے ہمارے پروردگار! ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا﴾ ہم نے اپنے اوپر بڑا ظلم کر لیا ہے، ﴿وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا﴾ اگر آپ نے ہماری مغفرت نہیں کی، ہم پر رحمت نہیں کیا، ﴿لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ تو ہم کیا ہو جائیں گے؟ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ تو اللہ تعالی نے پہلے انسان کو اپنی رحمت سے، اپنی صفت توّابیت سے توبہ کے کلمات سکھائے، اور اس کے بعد ان کی توبہ کو قبول بھی کر لیا، یہ اللہ تعالی کی بے پناہ رحمت کا ایک حصہ ہے۔


صراطِ مستقیم کی دعا اور اللہ کی صفات کا اقرار:
اسی طرح اللہ تعالی نے صراط مستقیم، سیدھے راستے کی دعا بھی انسان کو سکھلائی، اس لیے کہ انسان بنیادی طور پر نہیں جانتا کہ دنیا میں آنے کے بعد وہ کس طریقے سے اپنے خالق اور مالک تک پہنچے؟ اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے؟  کون سا راستہ اختیار کرے کہ جس جگہ سے وہ آیا ہے، اس کے ماں باپ جس جگہ سے بھیجے گئے یعنی جنت سے، دوبارہ اس جگہ پہنچ جائے اور اپنے رب کی ملاقات سے اور اپنے رب کے دیدار سے سرفراز ہو، وہ نہیں جانتا، تو اللہ تعالی اپنی رحمت سے سورہ فاتحہ کی شکل میں وہ راستے کی دعا سکھلاتے ہیں، اور بتاتے ہیں کہ اس دعا کو مانگنے سے پہلے، سب سے پہلے اپنے خالق اور مالک کی بلند صفات کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرنا ہے: ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، ہر قسم کا شکر اللہ ہی کے لیے ہے، جو ﴿رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ہے، جہانوں کا پروردگار ہے، اس کی ایک بلند صفت ہے رب۔ ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾ جو بڑا مہربان ہے، نہایت رحم کرنے والا ہے، بے انتہا رحم کرنے والا ہے۔ ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ جو روز جزا کا مالک ہے، یہ اس کی بلند صفات، اس کا اقرار کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرے۔ اس کے بعد اپنی بندگی اللہ کے سامنے پیش کرے، بندگی کا اقرار کرے اور اس سے مدد طلب کرے: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ اے پروردگار! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور پھر تجھی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ اس کے بعد پھر صراط مستقیم کا، اس سیدھے راستے کا سوال کرے: ﴿اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ اے پروردگار! ہمیں یا مجھے صراط مستقیم کی ہدایت فرما، سیدھے راستے کی رہبری فرما، رہنمائی فرما۔ تو یہ ہے دعا کا طریقہ۔ اللہ تعالی کی جو صفت توّاب اور اللہ کی جو صفت رحیمیت، اس کا ظہور یہ ہے کہ اللہ تعالی بندے کو خود دعا سکھلاتے ہیں اور پھر بندے کی دعا کو قبول کرتے ہیں اور پھر اپنے لامحدود خزانے سے اس دعا کی قبولیت کا سامان فرماتے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ہم اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔


قرآن و حدیث میں منقول دعاؤں کی اہمیت: (مناجاتِ مقبول)
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے کم و بیش 40 ربنا کی شکل میں ہم آپ کو دعا سکھلائی، علماء نے ان 40 ربنا کو جمع کیا ہے، یہ ایسی ربنا ہے جو اللہ کے یہاں ایکسیپٹڈ ہے، قبول کی گئی ہے، اللہ کے ہاں مقبول ہے، جو بندہ بھی ان ربنا کے ذریعے سے دعا کرے گا اللہ تعالی کے یہاں اس کی دعا قبول کر لی جاتی ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ پاک نے دعائیں سکھلائی، الہام کی، اور مناجات مقبول کے نام سے علماء نے ان دعاؤں کو جمع کیا ہے۔ ایک بڑے عالم، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے مناجات مقبول کے نام سے جو دعا کی کتاب چھاپی ہے، اس میں پوری دعائیں ہیں، 40 ربنا یہ بھی ہے، اور پورے ذخیرہ حدیث میں جتنی دعائیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ساری دعاؤں کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے بارے میں: ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْھَوَىٰ ۝ إِنْ ھُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾ ایک مرتبہ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! آپ غضب کی حالت میں بھی ہوتے ہیں، آپ عام زندگی میں بھی ہوتے ہیں، آپ کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات کو حدیث کی شکل میں لکھا جائے ہر وقت کے کلمات کو؟ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس زبان سے نکلنے والی ہر بات چاہے غضب کی حالت ہو، چاہے عام حالت ہو، ہر حالت میں حق ہی نکلتی ہے۔ اور اللہ تعالی نے اس کی سند دے دی کہ نبی کی زبان سے جو بھی نکلتا ہے وہ خواہش سے نہیں نکلتا، یہ تو اللہ کی وحی سے نکلتا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو منقول دعائیں ہیں وہ سب کے سب کیا ہیں؟ اللہ تعالی کی سکھلائی ہوئی ہے، اسی لیے اس کا نام رکھا مناجات مقبول، وہ مناجات، وہ دعائیں جو اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہیں۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہم آپ کے لیے بہت بڑی نعمت ہے، بہت بڑی نعمت ہے، بہت قیمتی نعمت ہے، حالانکہ عام دعا کے بارے میں بھی اللہ تعالی فرماتے ہیں: ﴿اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ میرے بندو! مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ اللہ کی طرف سے دعا کا حکم ہے اور قبولیت کا وعدہ ہے، جو بندہ دعا نہیں کرتا اللہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔ تو عام دعاؤں کے بارے میں یہ حکم ہے، جو دعا اللہ نے خود سکھلائی، جو دعا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلی ہو، ان دعاؤں کا کتنا اونچا مقام ہوگا! اس لیے علماء کہتے ہیں کہ جب ہم سے خطا ہو جائے، تو ہم یہ جو دعائیں قرآن و حدیث میں منقول ہیں ان کی طرف رجوع ہوں، اور ان کے سہارے سے ہم دعا کریں۔ جیسے اگر ہم سے کوئی خطا ہو جائے، ہم دعا کریں اللہ معاف فرما دیجئے، یہ ایک انداز ہے، دوسرا یہ انداز ہے کہ اللہ میرے باپ آدم علیہ السلام سے خطا ہوئی تھی، انہوں نے جو دعا مانگی تھی، توبہ کے کلمات کہے تھے، میں انہی توبہ کے کلمات کو دہراتا ہوں: ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ جس طرح میرے باپ جد امجد، ان کی دعا کو قبول کیے تھے، توبہ کو قبول کیے تھے، میری بھی توبہ قبول کر لیجئے، میری بھی دعا قبول کر لیجئے، ان شاء اللہ وہ دعا قبول ہو جائے گی۔ علماء کہتے ہیں کہ وہ گناہ معاف ہو جائے گا، اللہ تعالی کے ہاں اتنا زیادہ اس کی اہمیت ہے۔ تو یہ جو دعائیں ربنا کی شکل میں اور مناجات مقبول کی شکل میں ہیں، یہ عظیم نعمت ہے، اور یہ اس لیے ہے کہ جب ہم کو کوئی ضرورت پیش آئے تو ہم ان دعاؤں کی طرف رجوع ہو اور دیکھیں کہ اپنی ضرورت کے مطابق کون سی دعا ہے؟ اور پھر اس دعا کو لے کر اللہ کے حضور پیش کریں۔


مسنون دعاؤں کی برکت:
(نیک اولاد کے لیے ایک بزرگ کا واقعہ) 
ایک بزرگ تھے، ان کی اولاد بڑی فرمانبردار تھی، بڑی دیندار تھی۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی اولاد اتنی فرمانبردار ہے، یہی آپ کے بھائی ہیں وہ بھی تو نیک ہیں آپ کی طرح، وہ بھی اچھے ہیں لیکن ان کی اولاد اُتنی فرمانبردار نہیں ہے، اُتنی اچھی نہیں ہے، آپ کون سی دعا کرتے ہیں؟  کہا کہ میں دعا ہی کرتا ہوں۔ آپ بتا دیجیے کون سی دعا کرتے ہیں؟ میں بھی مانگ لوں وہ دعائیں۔ تو کہا کہ میں وہ دعا کرتا ہوں جو اللہ تعالی نے سکھلائی ہے اور پھر انہوں نے بتایا کہ نماز تہجد میں دوسری رکعت میں وہ دعا جو اللہ تعالی نے سکھائی ہے: ﴿رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّۃَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنی بیویاں اور ہماری اولاد ان کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنا کر ہمیں عطا کیجیے، ہمارا فرمانبردار بنائیے ان کو، ہمارا اتنا اطاعت گزار بنائیے کہ یہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائیں، ان کو دیکھ کر کے دل خوش ہو جائے، آنکھیں خوش ہو جائے، اور ﴿وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾ یعنی میرے تمام اہل خانہ افراد کو متقی فرمانبردار بنا تاکہ میں متقیوں کا سربراہ بنوں، اگر وہ فاجر و فاسق ہوں گے، گنہگار ہوں گے، تو میں کس کا سربراہ بنوں گا فاجر فاسق کا؟ تو یہ دعا اللہ تعالی نے سکھائی، اس دعا کو مانگ کر کے وہ اپنی اولاد اور پورے خاندان کو کیا بنا لیے؟ متقی بنا لیے۔ ایسے ہی ہم کو چاہیے کہ ہم اپنی تمام ضرورتوں میں قرآن حدیث کی طرف رجوع کریں اور اس میں جو دعائیں ہیں اس میں دیکھیں کہ اپنی ضرورت کے مطابق کون سی دعا ہے اور اس دعا کو اپنائیں۔


تحدیثِ نعمت: درسِ قرآن کے لیے رہنمائی اور دعا
قرآن کریم میں ہے: ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾ اپنے رب کی نعمت بیان کرو۔ اور دنیوی نعمت سے زیادہ قیمتی اخروی نعمت ہوتی ہے، دینی نعمت ہوتی ہے۔ تحدیث بالنعمت کے طور پر میں آپ کے سامنے اپنی ایک بات رکھتا ہوں کہ جب مجھ ناچیز کو ذمہ داری دی گئی درس قرآن کی، تو ایک احساس ہوا کہ ہمارے پاس نہ علم ہے، نہ مطالعہ ہے ویسا، اور نہ ہی وہ بیان کرنے کی اہلیت اور ملکہ ہے، تو کیسے اس ذمہ داری کو ادا کریں گے؟ بڑوں سے مشورہ کیا، پھر حافظ عبدالخالق صاحب جو آپ کے امام صاحب ہیں، انہوں نے حوصلہ دیا۔ ذمہ داری کو تو قبول کر لیے، لیکن یہ تھا کہ ہم کیسے یہ ذمہ داری کو پورا کر سکیں گے؟ نہ ویسا علم ہے، مطالعہ ہے، اور نہ ہی ویسا ملکہ ہے بیان کرنے کا، ویسی استعداد ہے، تو ذہن گیا کہ قرآن و حدیث میں دیکھنا چاہیے، اس ضرورت کے لیے کون سی دعا ہے؟ اگر اس دعا کو اللہ کے حضور پیش کیا جائے تو قبول ہو جائے یا قبولیت کی زیادہ امید ہے۔ تو ذہن گیا سورۃ الرحمن کی طرف: ﴿الرَّحْمٰنُ ۝ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ۝ خَلَقَ الْإِنْسَانَ ۝ عَلَّمَہُ الْبَيَانَ﴾ ﴿الرَّحْمٰنُ﴾ سب سے زیادہ مہربان، ﴿عَلَّمَ الْقُرْآنَ﴾ جس نے اپنی رحمت سے قرآن کا علم دیا، قرآن سکھایا، ﴿خَلَقَ الْإِنْسَانَ﴾ اسی نے انسان کو خلق کیا، ﴿عَلَّمَہُ الْبَيَانَ﴾ اور اسے بیان کرنے کا ملکہ دیا، اس کی استعداد دی، اس کو بات کرنے کا سلیقہ دیا۔ جب اس کی طرف ذہن گیا تو بڑی خوشی ہوئی اور ذہن میں آیا کہ ہاں، یہ دونوں میری ضرورت ہے، اور یہ دونوں ضرورتیں اس دعا کے اندر موجود ہیں کہ قرآن کا علم ملے، اور قرآن کو، اس علم کو بیان کرنے کا بھی علم ملنا چاہیے، ملکہ ملنا چاہیے، صلاحیت و استعداد ملنی چاہیے، تو بہت خوشی ہوئی، اور پھر ہم نے اس کو دعا کی شکل دے دی: «اَللّٰھُمَّ يَا رَحْمٰنُ عَلِّمْنِي الْقُرْآنَ وَعَلِّمْنِي الْبَيَانَ» کہ اے رحمان! مجھے قرآن کا علم دے اور پھر اس علم کو بیان کرنے کا ملکہ و صلاحیت عطا کر۔ اگر آپ میں سے کوئی تقریر و بیان کرتا ہو، درس دیتا ہو تو اس دعا کو اپنانا چاہیے، اس سے ان شاء اللہ بڑا فائدہ ہوگا۔ تو اپنی ہر ضرورت میں جب ہم قرآن کی طرف رجوع ہوں گے، تو ان شاء اللہ ہم کو اس ضرورت کے مطابق دعا ملے گی، اور جب دعا کریں گے تو ان شاء اللہ وہ دعا اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوگی۔


سورہ فاتحہ کے متعدد نام اور ان کی افادیت:
تو محترم بزرگو دوستو! قرآن کریم کی جو پہلی سورت ہے، سورہ فاتحہ، یہ دعا ہے، اسی لیے اس سورت کا ایک نام ہے سورۃ السؤال ، سورۃ المناجات۔ اس سورت کے قرآن حدیث میں، اور اسی طرح کچھ علمائے تفسیر سے بہت سے نام منقول ہیں، اور وہ نام ایسے ہیں کہ اس سورت کی کیا اہمیت ہے؟ اس کی کیا فضیلت ہے؟ اور اس کی کیا افادیت ہے؟ یہ تینوں چیزیں یہ نام ظاہر کرتے ہیں، بتاتے ہیں۔ کم و بیش تفسیر کی کتابوں میں 25 نام اس سورت کے ذکر کیے گئے، جن میں سے ایک نام سورۃ السؤال اور سورۃ المناجات ہے۔ ہم پوروں کا احاطہ نہیں کر سکتے، وقت بھی نہیں ہے، تو جو ضروری اور اہم ہیں، ہم ان ناموں کو پیش کرتے ہیں، اور ان کے پیچھے کیا وجوہات ہیں، کیا اس کی فضیلت اہمیت ہے، وہ انشاءاللہ آپ کے سامنے ذکر کریں گے۔ چھ نام اور ہیں جس کو آج کے اس درس قرآن میں پیش کرنا ہے۔

ام القرآن / ام الکتاب
ایک نام تو ہم نے دیکھ لیا، دوسرا نام ہے اس کا ام القرآن، ام الکتاب۔ ام کہتے ہیں ماں کو، کسی چیز کی، اس کے مرادی معنی ہیں بنیاد، شروعات، جو ماں ہوتی ہے، بچے کی زندگی کی شروعات اسی کے بطن میں ہوتی ہے، زندگی کا آغاز وہیں سے ہوتا ہے، بنیاد وہیں سے پڑتی ہے، اس لیے اس کو ام یعنی ماں کہا جاتا ہے۔ سورہ فاتحہ کو ام القرآن کہا گیا، ام الکتاب کہا گیا، اس لیے کہ اس سورت میں تمام بنیادی مضامین قرآنی کا احاطہ ہے۔ 
قرآن کریم میں جتنے بھی مضامین آئے ہیں، ان تمام مضامین کی جو بنیاد ہے، وہ تمام بنیادیں اس سورہ فاتحہ میں موجود ہے۔ اس سورت میں جو دعا ہے: ﴿اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ یہ دعا اس سورت میں مانگی گئی، اور اللہ تعالی نے سورہ بقرہ کی پہلی ہی آیت میں بیان کیا کہ یہ کتاب کیا ہے؟ وہی جو دعا مانگی آپ نے ہدایت کی، وہی یہ کتاب ہے: ﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ ھُدًى لِلْمُتَّقِينَ ۝ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ﴾ کہ یہ کتاب کیا ہے؟ یہ ہدایت ہے متقیوں کے لیے جو ایمان والے ہیں۔ ﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ﴾ یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک شبہ نہیں ہے، اس میں کوئی شک شبہ نہیں ہے، لیکن اس کتاب کی اصل یا بنیادی چیز کیا ہے؟ کہ یہ ﴿ھُدًى لِلْمُتَّقِينَ﴾ متقیوں کے لیے یہ ہدایت ہے، ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ﴾ جو ایمان والے ہیں۔ تو یہ اس سورت میں، سورہ فاتحہ میں جو دعا مانگی گئی ہے، پورا قرآن اسی دعا کی قبولیت کا مظہر ہے، پورا قرآن اسی دعا کی قبولیت ہے۔

سورۃ الحمد اور سورۃ الشکر
اس کاتیسرا نام ہے سورۃ الحمد، سورۃ الشکر۔ اس کا آغاز ہی ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ﴾ سے ہو رہا ہے، شکر سے ہو رہا ہے، اسی لیے اس کا نام سورۃ الحمد اور سورۃ الشکر ہے۔ اس سورت میں جو کہا گیا: ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ﴾ ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، ہر قسم کا شکر اللہ ہی کے لیے ہے، یہ دعوی ہے، یہ ایک بات ہے، اس دعوے کی کیا دلیل ہے؟ اس بات کے ثبوت کے لیے کیا باتیں ہیں؟ وہ سورہ فاتحہ کی انہیں اگلی آیتوں میں ذکر کی گئی ہے: ﴿رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ یہ سب بتاتے ہیں کہ اللہ تعالی ہی تعریف کا مستحق ہے۔ جب اس کی تشریح کی جائے گی اگلے درسِ قرآن میں انشاءاللہ، اُس وقت آپ اس کے مضمون کو اور اچھے طریقے سے سنیں گے۔ تو خلاصہ یہ ہے کہ اس سورت میں جو ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ﴾ بیان کیا گیا کہ تمام قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے یہ دعوی ہے، اور اس دعوے کے لیے اگلی آیتوں میں دلائل فراہم کیے گئے ہیں، اس وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ الحمد اور سورۃ الشکر ہے۔

السبع المثانی
اس کا ایک نام ہے السبع المثانی، اور یہ نام قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے، سورہ حجر میں ہے: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ﴾ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے اپ کو سات ایتیں دی ہیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں اور قرآن عظیم دیا ہے۔ السبع المثانی، السبع کے معنی ہیں سات، اور المثانی مثنی کی جمع ہے، اس کے معنی ہیں دو دو۔ جب بھی نماز پڑھی جاتی ہے تو ہر نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھی جاتی ہے، اور نماز کم از کم دو رکعت ہوتی ہے، جب بھی سورہ فاتحہ پڑھی جاتی ہے نماز میں تو دو مرتبہ پڑھی جاتی ہے، تو ہر بار دو بار پڑھی جانے والی سورت ہے؛ سورہ فاتحہ، اس وجہ سے اس کا نام ہے المثانی ہے، اور یہ سات آیتوں پر مشتمل ہے، اس کا پورا نام ہوا السبع المثانی، قرآن کریم نے اس کا یہ نام دیا ہے۔

سورۃ الشفاء اور دم کرنے کا واقعہ
اس کا پانچواں نام ہے، وہ ہے سورۃ الشفاء، سورۃ الشافیة، یہ بیماریوں سے شفا ہے۔ کن قسم کی بیماریوں سے شفا ہے؟ حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بیان کیا ہے: «فِي فَاتِحَۃِ الْكِتَابِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ» اللہ تعالی کی کتاب کی فاتحہ میں یعنی سورۃ الفاتحہ میں ہر بیماری سے شفا ہے، ہر بیماری سے شفا اللہ تعالی نے رکھی ہے، ظاہری بیماری ہو یا باطنی بیماری ہو، جسمانی بیماری ہو یا روحانی بیماری ہو، ہر بیماری سے شفا ہے۔ ایک واقعہ ملتا ہے، چند صحابہ سفر کر رہے تھے، راستے میں ایک قبیلے کے پاس رات ہو گئی، وہاں پر قیام کرنے کا انہوں نے ارادہ کر لیا، قبیلے کے پاس آئے، کہا کہ ہم کو اپنا مہمان بنا کر کچھ جگہ دے دو، کچھ کھانا دے دو، ہم رات میں یہی ٹھہر جائیں گے کھانا پینا کھا لیں گے۔ لیکن ابھی اسلام پوری طرح پھیلا نہیں تھا، وہ غیر مسلم تھے، تو انہوں نے انکار کر دیا کہ نہیں، ہم نہیں جگہ دیتے اور ہم نہیں مہمانی قبول کرتے۔ مجبوراً صحابہ اس قبیلے سے آگے جا کر کنویں کے پاس ؛ وہاں پر انہوں نے خیمہ بنایا اور رات ٹھہرنے کا انتظام کیا۔ اللہ تعالی کا کرنا ایسا ہوا کہ اس قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، یا بچھو نے ڈنک مار دیا۔ اب وہ پریشان ہو گئے، تو انہوں نے اپنے ایک آدمی کو بھیجا کہ جاؤ دیکھو! ان لوگوں میں کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے اور کوئی منتر جانتا ہے کیا زہر اتارنے کا؟ اب جب یہ آئے تو یہ چند صحابہ تھے، ان میں سے ایک صحابی رسول کہنے لگے کہ ہاں میں جانتا ہوں، لیکن میں اسی وقت جھاڑوں گا جب تم مجھے بدلے میں کچھ بکریاں دو گے، اگر تمہارا سردار اچھا ہو جائے تو بکریاں ہم کو دو گے؟ اور ضرورت بھی تھی، بھوکے پیاسے تھے، دودھ پی کر تھوڑا رات کٹ جائے گی۔ تو کہا کہ ٹھیک ہے ہم دیں گے۔ آئے اور آکر انہوں نے یہی سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا شروع کیا، اور دم کرتے کرتے یہ حالت ہوئی کہ وہ سردار جو اٹھنے بیٹھنے سے عاجز تھا، چند لمحوں کے بعد وہ چلنے پھرنے لگا۔ لوگوں نے دیکھا کہ ارے! واقعی زہر اتر گیا ہے! تو چند بکریاں ان کو دی گئی، وہ بکریاں لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے، بڑے خوش ہوئے۔ جب ساتھیوں کے پاس آئے، تو وہ صحابہ ہیں، انہوں نے کہا کہ تم نے کیسے جھاڑا؟ انہوں نے سب بتایا کہ یہ سورہ فاتحہ پڑھ کے دم کیا تھا اس سے وہ زہر دور ہو گیا۔ اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا ہے: «فِي فَاتِحَۃِ الْكِتَابِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ»، تو کہا کہ ٹھیک ہے، لیکن تم نے قرآن پر اجرت لی ہے۔ انہوں نے قرآن پر اجرت لینے کو اچھا نہیں جانا، کہا کہ ٹھیک ہے ہم اس کو استعمال نہیں کرتے ہیں، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، سارا معاملہ رکھا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ایک روایت میں ہے کہ آپ نے مسکرایا، ہنسا، اور کہا کہ اس میں میرا بھی حصہ لگا دینا، اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْہِ أَجْرًا كِتَابُ اللّٰہِ» کہ جن چیزوں پر تم اجرت لیتے ہو ان میں سب سے زیادہ اجرت لیے جانے کے مستحق کوئی چیز ہے تو وہ اللہ کی کتاب ہے۔ گویا یہ بتا دیا کہ وہ حلال ہے۔ اس سے سمجھ میں آیا کہ جھاڑ پھونک کرنے پر یا عملیات پر اگر کوئی اجرت لیتا ہے تو یہ جائز ہے۔ تو یہ سورت کیا ہے؟ سورۃ الشفاء ہے، اس سورت میں شفا ہے۔


سورۃ الحفاظہ
اس کا چھٹا نام ہے سورۃ الحفاظہ، حدیث میں ہے، رات میں سوتے وقت جو سورہ اخلاص پڑھ لے اور سورہ فاتحہ پڑھ لے تو موت کے علاوہ ہر شر سے اس کی حفاظت ہو گئی۔ ایک واقعہ ملتا ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوے میں تھے، حضرت انس بن مالک انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں نے گھیر لیا، دشمن کا پورا جتھا آیا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے لیے کوششیں کرنے لگا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے ہی دیکھا یہ صورتحال، تو اس سورت کی جو دو آیت ہے اس کو آپ نے پڑھا: «يَا مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، إِيَّاكَ أعْبُدُ وَإِيَّاكَ أسْتَعِينُ»، «يَا مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، إِيَّاكَ أعْبُدُ وَإِيَّاكَ أسْتَعِينُ»۔ جیسے ہی یہ پڑھنے لگے، تو حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ کچھ اجنبی شکلیں ہیں، کچھ اجنبی لوگ ہیں، وہ اترتے ہیں اور اتر کر اس فوج پر جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کا ارادہ کرتی ہے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں، بیشتر کو پچھاڑ دیتے ہیں، زخمی کر دیتے ہیں اور بہت سے بھاگ جاتے ہیں۔ تو یہ حفاظت کی سورت ہے، اللہ کے نبی علیہ السلام نے سورہ فاتحہ کے یہ دو کلمات پڑھے جس سے دشمن سے حفاظت ہو گئی۔


فاتحة الکتاب اور نماز میں قرأت خلف الإمام کا مسئلہ:
اس کا جو ساتواں نام ہے وہ بڑا مشہور نام الفاتحہ ہے، اور یہ فاتحہ نام اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ یہ حدیث، جو ہم نے شروع میں پڑھی ہے: «فِي فَاتِحَۃِ الْكِتَابِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ» اس میں یہی سورۃ مراد ہے تو فاتحۃ الکتاب، یہ نام اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اسے فاتحۃ الکتاب اس لیے کہتے ہیں کہ موجودہ ترتیب میں قرآن کا جو آغاز ہوتا ہے اسی سورت سے ہوتا ہے، فاتحہ کے معنی آغاز اور ابتدا۔ اسے فاتحۃ الصلاۃ بھی کہا جاتا ہے یعنی نماز کی شروعات، نماز کے اندر جو شروعات ہوتی ہے، اسی سورت سے ہوتی ہے، ہر رکعت میں منفرد اور امام اس کو پڑھتے ہیں۔ ہاں مقتدی امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہیں پڑھے گا، یہ بڑا مشہور مسئلہ ہے قرأۃ خلف الامام۔ کہا جاتا ہے۔ 
اگر آپ چاہیں تو دو منٹ میں اس کو بیان کر دیتا ہوں کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟ دیکھیے! فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اس کو بہت آسان انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ بہت علمی مسئلہ ہے، سب کے بڑے دلائل ہیں، خود امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے اور بھی دوسرے ائمہ کے یہاں کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھی جائے گی اور بغیر سورہ فاتحہ پڑھے نماز نہیں ہوگی۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا کیا مسلک ہے؟ تو ہم دیکھ لیں کہ ایک حدیث ہے بخاری شریف کی: «لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْكِتَابِ» اس کی نماز نہیں جس نے اپنی نماز میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی۔ اس حدیث کے پیش نظر فقہاء نے کہا ہے کہ امام اور منفرد کے لیے، منفرد؛ جو تنہا نماز پڑھ رہا ہے، اور عورتیں نماز پڑھتی ہیں، تو ان کے لیے نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے، پہلی دو رکعت میں واجب ہے اور اگلی رکعتوں میں مستحب ہے۔ اب یہ کہ مقتدی کا کیا حکم ہے؟ یہاں تو احادیث ایسی ہے کہ جس میں سب کا حکم آرہا ہے کہ مقتدی ہو ، امام ہو کہ منفرد ہو، ہر ایک کے لیے ہے کہ جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھے گا اس کی نماز ہی نہیں ہے، یہ حدیث میں ہے، تو آپ نے مقتدی کو کیوں الگ کر دیا؟ تو مقتدی کے لیے یہ حکم ہے کہ اس کیلئے امام کی قرأت کافی ہے، یہ حدیث سے ثابت ہے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: «مَنْ كَانَ لَہُ إِمَامٌ فَقِرَاءَۃُ الْإِمَامِ لَہُ قِرَاءَۃٌ» جو ایسی حالت میں نماز پڑھ رہا ہو کہ اس کا کوئی امام ہو، یعنی وہ مقتدی ہونے کی حالت میں نماز پڑھ رہا ہو، تو امام کی قرأت اس کی قرأت ہوگی، امام کا پڑھنا اس کا پڑھنا، اس کے پڑھنے کی طرف سے سمجھا جائے گا۔ گویا دوسرے لفظوں میں مقتدی کے لیے امام کی قرأت کافی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جس نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے، ادھوری ہے، سوائے یہ کہ جو نماز پڑھنے والا ہے وہ کسی امام کے پیچھے ہو: «إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ»۔ یہ سمجھ میں آیا کہ اگر امام کے پیچھے ہیں تو سورہ فاتحہ نہیں بھی پڑھے تو بھی چل جائے گا۔
 ابتداء میں صحابہ کا طرز عمل قرأت خلف الامام کا تھا ، امام کے پیچھے وہ بھی قرأت کیا کرتے تھے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے تھے اور پیچھے صحابہ بھی قرأت کیا کرتے تھے، قرآن پڑھا کرتے تھے۔ اس پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُو لَہُ وَأَنْصِتُو لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ جب قرآن پڑھا جائے تو تم غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر اللہ کی رحمت کی جائے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت نماز میں قرآن پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے، یعنی قرآن کریم کو نماز میں پڑھا جا رہا تھا امام کے پیچھے تو اس کی ممانعت کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ اس لیے عہد صحابہ سے لے کر کے آج تک، یہ متفق علیہ مسئلہ جمہور امت کا ہے کہ جہری نمازوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی اور سری نمازوں میں، یعنی عصر اور ظہر میں بھی، امام کے پیچھے پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں سری نمازوں میں گنجائش ہے لیکن مفتی بہ قول یہی ہے کہ سری نمازوں میں بھی امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ 

آج کا درس انہی باتوں پر ہم مکمل کرتے ہیں، ان شاء اللہ جو چیزیں رہ گئی ہیں وہ اگلے درس قرآن میں بیان کی جائے گی۔


اختتامی دعائیں اور ایصالِ ثواب
دعا فرمائیں : «اَللّٰھُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا أَنْتَ أَھْلُہُ، وَلَكَ الثَّنَاءُ كَمَا أَنْتَ أَھْلُہُ، وَلَكَ الشُّكْرُ كَمَا أَنْتَ أَھْلُہُ، فَصَلِّی وَسَلِّمْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا أَنْتَ أَھْلُہُ، وَافْعَلْ بِنَا مَا أَنْتَ أَھْلُہُ، فَإِنَّكَ أَنْتَ أَھْلُ التَّقْوَى وَأَھْلُ الْمَغْفِرَۃِ. اَللّٰھُمَّ آتِنَا مِنْ فَضْلِكَ أَفْضَلَ مَا تُوتِی عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ. يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّہُ، وَلَا تَكِلْنَا إِلَىٰ أَنْفُسِنَا طَرْفَۃَ عَيْنٍ، وَلَا تَنْزِعْ مِنَّا صَالِحًا مَا أَعْطَيْتَنَا، وَلَا تَفْتِنَّا فِيمَا أَحْرَمْتَنَا. 
 اے اللہ! ہم سب کے اس بیٹھنے کو قبول فرما لیجئے، اے اللہ! یہ عظیم کتاب ہے، آپ عظمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے، اے اللہ! اس کتاب کا پڑھنا پڑھانا، سننا سنانا، اس کا درس دینا اور تفسیر کرنا یہ سب عظمت والے کام ہیں، اے اللہ! آپ نے ہمیں یہ توفیق بخشی، اے اللہ! ہم سب آپ کے شکر گزار ہیں، اے اللہ! اسے تاحیات مداومت اور پابندی کے ساتھ انجام دینے کی توفیق عطا فرما دیجئے، قرآن کریم کا فہم عطا فرما دیجئے، قرآن کریم سے عشق عطا فرما دیجئے، قرآن کریم کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما دیجئے۔
 اے اللہ! آج ایک بڑے عالم دین حضرت مولانا غلام وستانوی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، آپ کی جوارِ رحمت میں وہ پہنچ چکے ہیں، اے اللہ! ان کا بڑا امت پر احسان ہے، بڑی قربانیاں ہیں، بڑی خدمات ہیں، اے اللہ! ان سب کو قبول فرما کر ان کی مغفرت فرما دیجئے، ان کے درجات کو بلند فرما دیجئے۔ اے اللہ! آج ہم نے جو پڑھا ہے سنا ہے، اے اللہ! یہ بڑا اجر و ثواب کا کام ہے، اے اللہ! ہم سب یہ اجر و ثواب ان کے لیے ایصال کرتے ہیں، ان کو اس کا ثواب عطا فرما دیجئے، اور ہمیں بھی اس سے محروم نہ رکھیے۔ اے اللہ پاک! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما کر ہماری ان دعاؤں کو شرف قبولیت عطا فرما دیجئے۔

 وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالَىٰ عَلَى خَيْرِ خَلْقِہِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِہِ وَأَصْحَابِہِ أَجْمَعِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ. 
________________________ 

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے