درس سورۃ الفیل و سورۃ القریش
﴿أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ﴾
﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ﴾ ﴿أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ﴾ ﴿وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ﴾ ﴿تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ﴾ ﴿فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ﴾
پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی شیطان مردود سے۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان، بے انتہا رحم کرنے والے ہیں۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا؟ کیا اس نے ان لوگوں کی ساری چالیں بیکار نہیں کر دی تھیں؟ اور ان پر غول کے غول پرندے چھوڑ دیے تھے جو ان پر پکی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے، چنانچہ انہیں ایسا کر ڈالا جیسے کھایا ہوا بھوسا۔
﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ﴾
﴿لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ﴾ ﴿إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ﴾ ﴿فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ﴾ ﴿الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾
شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے۔ چونکہ قریش کے لوگ عادی ہیں، یعنی وہ سردی اور گرمی کے موسموں میں (یمن اور شام کے) سفر کرنے کے عادی ہیں، اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے مالک کی عبادت کریں جس نے بھوک کی حالت میں انہیں کھانے کو دیا اور بد امنی سے انہیں محفوظ رکھا۔
دو سورتیں تلاوت کی گئیں: سورہ فیل اور سورہ قریش
سورۃ الفیل کا تعارف
پہلی سورت سورۃ الفیل ہے، جو مکی ہے اور پانچ آیتوں پر مشتمل ہے۔ ایک رکوع ہے۔ فیل کے معنی ہاتھی کے ہیں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے، پیدائش سے پہلے، آپ کے نبی بنائے جانے سے پہلے۔ یمن کے ایک حبشی عیسائی حاکم ابرہہ نے ہاتھی کے لشکر کے ساتھ خانہ کعبہ کو اڑھانے کی کوشش کی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ اس فوج کو عرب اصحاب الفیل سے یاد کرتے تھے، ہاتھی والے۔ اس سورت میں اس واقعے کا ذکر ہے اور اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الفیل ہے۔
مکہ مکرمہ میں جب یہ سورت نازل ہو رہی تھی، اس وقت کچھ لوگ ایسے موجود تھے جنہوں نے اللہ کی قدرت کے اس واقعے کو اپنے سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا، دیکھا تھا۔ اس لیے اس واقعے کا ذکر کیا جا رہا ہے، مقصد یہ ہے کہ اہل مکہ عبرت حاصل کریں، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی اور مخالفت سے باز رہیں۔ ان کو یہ سبق حاصل ہو کہ جیسے اللہ تعالیٰ اپنے گھر کی حفاظت کے لیے دشمنوں کو ٹھکانے لگا سکتے ہیں، اسی طرح اپنے نبی کی حفاظت کے لیے بھی پیغمبر کے دشمنوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کی قدرت حرکت میں آ سکتی ہے اور ان کو تباہ و برباد کر سکتی ہے۔
آیتوں کی تفسیر
﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ﴾
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا؟
﴿أَلَمْ یَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ﴾
کیا اس نے ان لوگوں کی ساری چالیں بیکار نہیں کر دی تھیں؟
﴿وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ﴾
اور ان پر غول کے غول پرندے چھوڑ دیے تھے۔
﴿تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ﴾
جو ان پر پکی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے
﴿فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ﴾
چنانچہ انہیں ایسا کر ڈالا جیسے کھایا ہوا بھوسا۔
یہ ابرہہ کے لشکر کی طرف اشارہ ہے جو کعبے پر چڑھائی کرنے کے لیے ہاتھیوں پر سوار ہو کر آیا تھا۔
یمن اور حبشہ کا تاریخی پس منظر
یمن اور حبشہ سے متعلق کچھ ضروری تفصیل سن لیں کہ یمن کا جو ملک ہے اگر ہم نقشے میں دیکھیں گے تو اس سے قریب ہی حبشہ کا ملک ہے۔ جس کو آج کل ایتھوپیا کہا جاتا ہے۔ یہاں پر جو شاہِ حبشہ تھا، وہ عیسائی تھا، اس نے کسی وجہ سے یمن پر حملہ کیا اور حملہ کرنے کے بعد یمن پر جب اس کی حکومت قائم ہو گئی تو وہاں اس نے اپنی عیسائیت کو فروغ دینے کی کوشش کی اور اس میں بڑی حد تک کامیاب ہو گیا، حتیٰ کہ یمن میں اکثریت عیسائیوں کی ہو گئی اور وہاں پر عیسائی مذہب غالب آ گیا اور بہت کم عرب قبائل بچے جو اپنے شرک و کفر میں مبتلا تھے اور گویا دین ابراہیمی کے مدعی تھے، دعویدار تھے۔ دین ابراہیمی میں تو کفر شرک نہیں ہے لیکن بہرحال کچھ عمل وہ کیا کرتے تھے، جیسے خانہ کعبہ کا حج کرنے کے لیے وہ ہر سال جایا کرتے تھے اور وہاں جو بھی بچی کچی کچھ روایات رہ گئی تھیں اس کو انجام دیا کرتے تھے، تو یہ دین ابراہیمی کے مدعی تھے اور وہ اپنے دین پر قائم تھے۔
شاہ حبشہ نے ایک حبشی عیسائی حاکم ابرہہ کو حکومت وہاں کی سونپی۔ اور یہ جو ابرہہ تھا، یہ بہت پرجوش عیسائی مبلغ بھی تھا اور وہ چاہتا تھا کہ پورے یمن کے اندر عیسائیت غالب آ جائے اور وہاں کے لوگ عیسائی مذہب کو قبول کر لیں اور دھیرے دھیرے پھر پورے عرب کے اندر عیسائیت پھیل جائے اور وہاں پر عیسائیوں کا غلبہ ہو جائے۔ وہ یہ سوچا کرتا تھا، کوششیں کیا کرتا تھا لیکن اس کو محسوس ہوا کہ اس مشن میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کے لیے خانہ کعبہ ہے۔
خانہ کعبہ سے ایسا تعلق تھا عربوں کا کہ کفر و شرک میں مبتلا ہو جانے کے باوجود حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے وقت کی تعلیم و تبلیغ تھی، پھر ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جدوجہد تھی، کوششیں تھیں کہ خانہ کعبہ کی عظمت ان کے اندر بہت بسی ہوئی تھی اور کسی صورت میں بھی وہ عیسائیت کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھے اور ہر سال وہ حج کرنے کے لیے مکہ مکرمہ جاتے تھے اور خانہ کعبہ کا طواف وغیرہ کیا کرتے تھے۔ تو اس کو یہ بات بہت کھَلتی تھی اور احساس تھا کہ یہ خانہ کعبہ بہت بڑی رکاوٹ ہے عیسائیت کی تبلیغ اور اس کی نشر و اشاعت میں۔
ابرہہ کا کلیسا اور عربوں کا ردِ عمل
تو اس نے یہ کیا کہ یمن میں ایک عالیشان کلیسا تعمیر کیا اور یمن کے لوگوں میں یہ اعلان کرا دیا کہ آئندہ کوئی شخص تو حج کرنے کے لیے مکہ مکرمہ نہ جائے اور اسی کلیسا کو بیت اللہ سمجھے۔ جب یہ بات یمن کے عرب قبائل کے اندر سنی گئی اور ان تک پہنچی تو اس خبر سے، اس اعلان سے ان کے اندر غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے یہ کیا کہ رات کے وقت تو اس کلیسا میں جا کر گندگی پھیلا دی، قضائے حاجت کر دی اور کچھ روایتوں میں ملتا ہے کہ اس کلیسا کے کچھ حصے میں آگ بھی لگا دی۔
اب ابراہہ کو جب یہ معلوم ہوا تو اس کو بہت غصہ آیا اور اس نے تحقیق کروائی کہ پتہ کیا جائے کن لوگوں نے کیا ہے؟ تو اس کو معلوم ہوا کہ انہی عربوں میں سے کسی نے یہ حرکت کی ہے جو خانۂ کعبہ حج کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ جب اس کو یہ معلوم ہوا تو اور زیادہ اس کا غصہ بھڑک گیا۔
قبیلہ بنو کنانہ یہ ایک عرب قبیلہ تھا، اس قبیلے کا ایک آدمی اس کے دربار میں سردار تھا۔ تو اس نے اس کو بلایا اور کہا کہ جا کر تمہارے قبیلے میں اعلان کر دو کہ آئندہ سال سے تم خانہ کعبہ حج کرنے نہیں جائیں گے بلکہ اس کلیسا کا حج کریں گے اور اس کلیسا کو بیت اللہ سمجھیں گے۔ جب یہ شخص تو گیا قبیلے میں تو قبیلے کے لوگوں نے اس کا قتل کر دیا۔ جب یہ خبر اس کو معلوم ہوئی تو اور اس سے اور زیادہ غصہ میں آ گیا اور اس نے ٹھان لیا کہ اس خانہ کعبہ ہی کو میں ڈھا دوں گا، منہدم کر دوں گا جس کی وجہ سے یہ لوگ ایسا ردعمل دے رہے ہیں۔
لشکر کی تیاری اور مکہ کی طرف پیش قدمی
تو اس نے پھر یہ کیا کہ ایک بڑا لشکر تیار کر کے مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ مکہ مکرمہ کی آبادی اس وقت تو تقریباً دو ہزار کے آس پاس تھی لیکن اس نے اپنا مشن کامیاب بنانے کے لیے ساٹھ ہزار کا لشکر تیار کیا اور اس میں ایک دستہ ہاتھیوں کا بھی رکھا تاکہ رعب دباؤ قائم ہو اور وہ لشکر لے کر بڑھا۔ راستے میں عرب کے کئی قبیلوں نے اس سے جنگ کی لیکن ابرہہ کے لشکر کے ہاتھوں ان کو شکست تو کھانا پڑا اس لیے کہ بڑا لشکر تھا اور ہاتھی سے کبھی مقابلہ عربوں کا ہوا نہیں تھا۔ تو یہ سارے عرب قبیلے شکست کھا گئے اور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ تھوڑے تھوڑے لڑ رہے تھے، مختلف مقامات پر لڑ رہے تھے۔ اگر یہ سارے عرب قبیلے اکٹھا ہو کر کسی ایک مقام پر آتے تو شاید کچھ مؤثر تدبیر ہوتی اور کچھ مؤثر ردعمل ہوتا لیکن یہ مختلف مقامات پر ٹکڑیوں میں جنگ کی جس کی وجہ سے شکست کا سامنا ان کو کرنا پڑا۔
آخر کار یہ لشکر مکہ مکرمہ کے قریب ایک مغمّس نامی جگہ ہے وہاں تک پہنچا اور وہاں پہنچنے کے بعد اس نے اپنے لشکر کے آدمیوں کو بھیجا رعب جمانے کے لیے مکہ مکرمہ کے لوگوں پر، کہ جاؤ جتنے آس پاس جانور چر رہے ہیں، اونٹ چر رہے ہیں ان کو لوٹ کر لے آؤ۔ تو بہت سارے اونٹ لوٹ لیے گئے جس میں سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب کے بھی اونٹ تھے۔
عبد المطلب کی ملاقات ابرہہ سے
پھر یہ ہوا کہ اور بات چیت چلی۔ عبد المطلب آئے اور انہوں نے ابرہہ کے سامنے بات چیت کی۔ ابرہہ نے جب دیکھا حضرت عبد المطلب کو تو بہت متاثر ہوا اس لیے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا کی جو شخصیت تھی وہ بڑی پروجیہ تھی۔ جب ابرہہ نے یہ دیکھا تو بہت متاثر ہو گیا۔ ابرہہ نے بجائے اس کے کہ تخت پر بیٹھتا اور ان کو نیچے بٹھا کر بات کرتا، ابرہہ ان کے اکرام میں تخت سے نیچے اتر گیا اور ساتھ میں بیٹھ کر ایک ترجمان کے ذریعے سے اس نے بات کی۔ پوچھا کہ بھئی تم کیوں آئے ہو؟ کہا کہ ہم لوگ خانہ کعبہ کو ڈھانے کے لیے آئے ہیں اور اگر آپ لوگ اہلِ مکہ رکاوٹ نہیں بنتے ہیں تو ہم آپ کو کچھ نہیں کہیں گے، ہم صرف خانہ کعبہ کو ڈھانا چاہتے ہیں۔ اس میں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کہا کہ آپ نے جو ہمارے دو سو اونٹ لیے ہیں وہ واپس کر دو۔
تو ابرہہ نے جب یہ سنا تو کہا کہ میں اتنے بڑے مشن کے لیے آیا ہوں خانہ کعبہ کو ڈھانے، جس کے اوپر تمہاری عزت ہے اور تمہارا سارا دارومدار ہے، آپ اس کے لیے ایک لفظ بھی، ایک جملہ بھی نہیں کہہ رہے ہیں اور آپ کو اپنے اونٹوں کی پڑی ہے، آپ کی بات سن کر تو میرے دل میں جو آپ کی عظمت اور وقعت تھی وہ گھٹ گئی۔ تو حضرت عبد المطلب نے کہا کہ دیکھئے! میں اونٹوں کا مالک ہوں، اس کی حفاظت میرے ذمے ہے اور اس خانہ کعبہ کا ایک اور مالک ہے، ایک رب ہے؛ اللہ، وہ اس کی حفاظت کے لیے کافی ہے۔ ہم تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن وہ تمہارا مقابلہ کر سکتا ہے اور اُس کے حوالے ہم نے اس کے گھر کو کر دیا ہے۔
یہ کہہ کر وہ وہاں سے واپس آتے ہیں، مکہ مکرمہ میں آ کر اپنے لوگوں کو کہتے ہیں کہ اب سب اپنی حفاظت کے لیے پہاڑوں پر، وادیوں میں چلے جائیں۔ ہم اس لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ پھر چند لوگوں کو لے کر خانۂ کعبہ پہنچے ہیں اور کعبہ کے دروازے کو پکڑ کر کے بڑی آہ و زاری کی، گریہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں اور کہا کہ باری تعالیٰ یہ گھر آپ کا ہے، آپ اس کی حفاظت پر قادر ہیں، ہم اس کی حفاظت نہیں کر سکتے، اتنے بڑے لشکر کے مقابلے کے لیے ہم کھڑے نہیں ہو سکتے ہم اس گھر کو آپ کا ہے، آپ کے حوالے کرتے ہیں اور ہمارا یقین ہے کہ آپ اس کی حفاظت کر لیں گے۔ یہ کہہ کر پھر آپ بھی چوٹیوں پر، وادیوں پر، پہاڑوں پر چلے جاتے اور وہاں سے دیکھتے رہتے ہیں۔
پرندوں کا عذاب
پوری رات گزر جاتی ہے۔ جب دوسرا دن ہوتا ہے اگلی صبح آتی ہے تو ابرہہ اپنے لشکر کے ساتھ بڑھنے کی کوششیں کرتا ہے لیکن ایک عجیب بات پیش آتی ہے کہ جو ہاتھیوں کا دستہ تھا اس کا ایک سردار تھا جس پر یہ خود بیٹھا ہوا تھا محمود نامی ہاتھی۔ وہ ہاتھی آگے چلتا، اس کے پیچھے سارے ہاتھی چلتے، لیکن ہوا یہ، اللہ کی قدرت ایسی کہ محمود نامی ہاتھی وہ آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ جب اس کا رخ دوسری طرف کیا جاتا، یعنی تین مختلف سمتوں میں کیا جاتا، مکہ، خانۂ کعبہ کی طرف چھوڑ کر تین سمتوں میں کیا جاتا تو ہاتھی چل پڑتا، یمن کی طرف رخ کیا جاتا چل پڑتا، شام کی طرف کیا جاتا چل پڑتا، لیکن جیسے ہی خانۂ کعبہ کی طرف رخ کرتے تو غیظ و غضب میں آ جاتا، بھڑک جاتا اور اُدھر قدم بڑھانے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ یہ عجیب صورتحال دیکھ کر لوگ پریشان تھے اور پھر اسی درمیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے سامنے سے عجیب و غریب قسم کے پرندوں کا ایک غول آتا ہے اور وہ پورے لشکر پر چھا جاتا ہے۔ ہر پرندے کے پنجوں میں اور چونچ میں تین تین کنکر تھے جو انہوں نے پورے لشکر والوں پر برسا دیے۔ ان کنکریوں نے لشکر کے لوگوں پر وہ کام کیا جو بارودی گولی بھی نہیں کر سکتی تھی۔ جس پر بھی یہ کنکری لگتی تھی اس کے پورے جسم کو چھیدتی ہوئی زمین کے اندر گھس جاتی تھی۔ یہ عذاب دیکھ کر سارے ہاتھی بھاگ کھڑے ہوئے اور جب ہاتھی پیچھے بھاگے ہیں تو اپنے لشکریوں کو روندنے لگے اس میں بہت سارے یوں ہی مر گئے۔ اس کے بعد جس کے اوپر بھی یہ کنکری پڑتی وہ وہیں پر تڑپنے لگتا اور ہلاک ہو جاتا کچھ دیر کے بعد۔ کچھ لوگ تو بھاگ گئے جو راستے میں جا کر مر گئے اور بڑی تعداد وہیں پر ہلاک ہو گئی۔
ابرہہ اِس نے جب یہ صورتحال دیکھی تو وہ بھی بھاگنے لگا۔ اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ وہ یہاں نہ مرے یمن جا کر مرے۔ تو ابرہہ کے جسم میں ان کنکریوں کی وجہ سے ایسا زہر سرایت کر گیا کہ اُس کا ایک ایک جوڑ گل کر سڑ کر گرنے لگا۔ کسی حالت میں اسے یمن لایا گیا۔ جب وہ یمن سے نکلا تھا مکہ کی طرف، تو ایسا کڑیل جوان تھا، بہادر، طاقتور، سپہ سالار کی حیثیت سے، سج دھج کر نکلا تھا، لیکن جب وہ واپس آ رہا تھا تو انتہائی مریل اور جسم گل رہا تھا۔ حتیٰ کہ جب یمن پہنچا تو یمن میں پہنچ کر اس کا سارا بدن بہہ بہہ کر ختم ہو گیا اور اس کی موت سب سے زیادہ عبرتناک ہوئی ہے۔ اس کے دو ہاتھی بان مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے جو اپاہج اور اندھے ہو گئے تھے۔
یہ واقعہ اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی ولادت باسعادت سے دو مہینہ پہلے کا ہے۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا جو ان کی بہن ہیں، اِن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اِن دونوں نے اُن دونوں اپاہج اندھوں کو دیکھا تھا۔ یہ واقعہ اس صورت میں ذکر کیا گیا۔
غرض یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے اور اسی کے ساتھ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ دیکھئے جو لوگ نبی کی دشمنی کر رہے ہیں اور اُن کے مقابلے میں آ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا انجام بھی اصحاب الفیل کی طرح ہو سکتا ہے۔
اس واقعے کی حکمتیں
اس واقعے میں اگر غور کریں گے تو بہت سی باتیں اور بہت سی مصلحتیں نظر آتی ہیں جس کو حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم نے اپنی آسان تفسیر میں ذکر کیا۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ابرہہ کے لشکر کو بہت سے عرب قبائل نے راستے میں روکنا چاہا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ چاہتے تو کامیاب ہو سکتے تھے، اس کی جو تدبیریں ہم نے شروع میں بتائیں کہ سب کے دل میں آتا کہ چلو اتنا بڑا لشکر ہے تو مل کر مقابلہ کیا جائے، سارے عرب کے لوگ اکٹھا ہو جاتے اور اس کا مؤثر جواب دیتے، ایسا ممکن تھا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات منظور نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات منظور تھی کہ یہ شکست کھائیں مکہ تک پہنچیں اور لوگ مادی طاقت کے مقابلے میں غیبی طاقت کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کر لیں کہ چھوٹے چھوٹے پرندوں اور چھوٹی چھوٹی کنکریوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان لشکر کا کام تمام کر دیا۔ گویا آج کے حساب سے یہ پرندے جنگی جہاز بن گئے اور ان کی کنکریاں بم بن گئیں آج کے حساب سے۔
دوسری یہ کہ یہ پرندوں کی فوج یمن ہی میں ابرہہ کی فوج کو ٹھکانے لگا سکتی تھی، ان کو اڑنا کیا مشکل تھا؟ وہ تیزی سے سفر کرتی راستے ہی میں یا پھر یمن میں جا کر کے ابرہہ کو وہیں کے وہیں ختم کر دیتی مگر یہ واقعہ مکہ میں پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ کی مصلحت تھی کہ اہل مکہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور انہیں اللہ پر یقین ہو جائے، اللہ کی قدرت ان کو سمجھ میں آ جائے۔
تیسری بات یہ کہ فوج کے کچھ بچے کچھے لوگ اور خود ابرہہ یمن تک پہنچے اور وہاں جا کر ان کی موت ہوئی۔ حالانکہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ مکہ ہی میں سب کے سب مر جاتے لیکن اس میں مصلحت یہ تھی کہ اہل یمن بھی اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور پھر کبھی برے ارادے سے کعبۃ اللہ کی طرف نظر اٹھانے کی بھی ہمت نہ کریں۔
کل کے یمنی عیسائی اور آج کے یمنی حوثی شیعہ:
جس طریقے سے ابرہہ کے زمانے کے عیسائیوں نے جو اسلام دشمن تھے انہوں نے؛ حملہ کیا تھا، منہ کی کھائی تھی۔ آج یمن کے شیعہ جو حوثی ہیں وہ مکہ مکرمہ تک میزائل داغ رہے ہیں لیکن اگر انہوں نے برے ارادے سے خانۂ کعبہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو یقیناً اللہ کی قدرت سے اس کی حفاظت کا سامان ہوگا اور ان کو عذابِ الہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کو اس سے سبق لینا چاہیے۔ ان کو اس سے سبق لینا چاہیے۔
اسی کے ساتھ یہ کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت (570 ء) پانچ سو ستر عیسوی میں ہوئی ہے اور یہ واقعہ اِسی سال پیش آیا ہے۔ اور اللہ کے نبی علیہ السلام کی ولادت ربیع الاول مہینے میں ہوئی۔ اس سے دو مہینے پہلے یہ واقعہ محرم الحرام میں پیش آیا۔ گویا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ذریعے سے عرب کی سرزمین میں جو انقلاب ہونے والا تھا اور جس کا مرکز مکہ مکرمہ کو بننا تھا، یہ واقعہ اُس کی تمہید تھی۔ اور اس واقعے کی وجہ سے خانہ کعبہ کی اور مکہ کی عظمت یمن اور حبشہ تک پہنچ گئی۔ اس لیے کہ یمن کی خبر حبشہ تک پہنچے گی۔ اس طریقے سے قریش کا دبدبہ لوگوں کے دلوں میں بیٹھ گیا اور یقین ہو گیا کہ خانۂ کعبہ اللہ تعالیٰ کا محبوب گھر ہے۔ اس لیے بعض اہلِ علم نے اس واقعے کو نبوتِ محمدی کا ایک ایسا معجزہ قرار دیا ہے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے پہلے ہی پیش آ گیا تھا۔
سورۃ قریش کا تعارف اور مناسبت
اگلی سورت سورہ قریش ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ پہلی ہی آیت میں قریش کا ذکر آیا ہے اور قریش یہ عرب کا سب سے معزز قبیلہ تھا، اسی لیے اس سورت کا نام قریش ہے۔
دونوں سورتوں میں مناسبت :
سورہ فیل ہم نے پہلے پڑھی، اس کے بعد سورہ قریش کو پڑھ رہے ہیں۔ ان میں ایک گہری مناسبت پائی جاتی ہے کہ اصحاب الفیل کا جو واقعہ پیش آیا تھا، اس کا تعلق کعبۃ اللہ کے ساتھ ساتھ اس کے متولی قریش مکہ سے بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قریش مکہ پر یہ احسان کیا کہ ان کے خون کا ایک قطرہ بہے بغیر ان کو ابرہہ کے مقابلے میں، ان کے دشمن کے مقابلے میں فتح عطا کر دی۔ اب اس سورت میں قریشِ مکہ پر اللہ تعالیٰ کا ایک اور احسان کا ذکر کیا جا رہا ہے، جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
﴿لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ﴾
چونکہ قریش کے لوگ عادی ہیں۔
﴿إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ﴾
یعنی وہ سردی اور گرمی کے موسموں میں (یمن اور شام کے) سفر کرنے کے عادی ہیں۔
﴿فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ﴾
اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے مالک کی عبادت کریں۔
﴿الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾
جس نے بھوک کی حالت میں انہیں کھانے کو دیا اور بد امنی سے انہیں محفوظ رکھا۔
جاہلیت میں قریش کی تجارت اور امن
اس سورت کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں یعنی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اور نبوت سے پہلے عرب میں ہر جگہ قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا اور کوئی شخص بھی آزادی اور امن کے ساتھ سفر نہیں کر سکتا تھا اس لیے کہ راستے میں چور ڈاکو یا اس کے دشمن قبیلے کے لوگ اس کو مارنے اور لُوٹنے کے لیے تیار رہتے تھے لیکن قریش کا معاملہ الگ تھا۔ قریش کا قبیلہ بیت اللہ کے پاس رہتا تھا، خانہ کعبہ کے پاس، اور جو خانہ کعبہ کے حج کے لیے آتے تھے بیت اللہ کی زیارت کے لیے آتے تھے تو یہ لوگ بیت اللہ کی خدمت کرتے تھے، ان لوگوں کی خدمت کرتے تھے۔ اس لیے سارے عرب کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے اور جب وہ سفر کرتے تھے تو ان کو کوئی نہیں لُوٹتا تھا۔ اس وجہ سے قریش کے لوگوں کا یہ معمول تھا کہ اپنی تجارت کے لیے سردیوں میں یمن کا سفر کرتے تھے اور گرمیوں میں شام جایا کرتے تھے۔ اسی تجارت سے ان کا ذریعہ معاش تھا۔ مکہ مکرمہ میں جیسا ہم جانتے ہیں نہ کھیتی تھی نہ باغات تھے نہ پانی تھا لیکن اس کے باوجود اہل مکہ بڑی خوشحال زندگی گزارتے تھے، قریش مکہ بہت اچھی زندگی گزارتے تھے، اُس کی وجہ یہی دو سفر تھے کہ وہ یمن جاتے تھے اور اس کے بعد پھر شام جاتے تھے دو سفر کر کے خوب اچھی کمائی کر لیتے تھے اور سال بھر بیٹھ کر کھاتے تھے۔ تو یہ جو سفر کرنے کی سہولت ان کو حاصل تھی، یہ بیت اللہ کی برکت تھی اس کے پڑوسی ہونے کی وجہ سے سب لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ اس وجہ سے ان کو چاہیے کہ اس گھر کے مالک یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اور بتوں کو پوجنا چھوڑ دیں کیونکہ اسی گھر کی وجہ سے ان کو کھانے کو مل رہا ہے اور اسی کی وجہ سے انہیں امن و امان کی نعمت ملی ہوئی ہے۔
تین احسانات کی یاد دہانی
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کو اس صورت میں تین احسانات، تین انعامات یاد دلائے ہیں اور یہ تینوں انعام ان کو خانہ کعبہ کی وجہ سے حاصل ہیں:
ایک یہ کہ گرمی اور سردی کے موسم میں بغیر کسی خوف اور خطرے کے لمبے تجارتی سفر کرتے تھے۔
دوسرے یہ کہ ایسی سرزمین جہاں پر پانی نہیں تھا، گھاس تک نہیں اُگتی تھی لیکن ان کے لیے غذائی چیزیں مہیا ہو جاتی تھیں۔
اور تیسرے یہ کہ امن قائم کرنے والی کوئی حکومت نہیں تھی، اس کے باوجود ان کو پورے ملک میں امن حاصل تھا۔
اور اگر غور کریں گے تو یہ جو چیز ان کو حاصل تھی یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ تھا اور یہ دعا انہوں نے اس وقت مانگی تھی جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اور ان کی والدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو انہوں نے وہاں آباد کیا تھا، اس وقت انہوں نے دعا مانگی تھی:
﴿رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا﴾
کہ اے میرے پروردگار اس شہر کو امن و امان والا بنا دے۔
﴿وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ﴾
اور ان کے رہنے والوں کو پھلوں کا رزق عطا فرما۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر کرتے ہوئے جو قریش مکہ کو بیت اللہ کی وجہ سے حاصل تھے، تلقین کی ہے کہ ان نعمتوں کا شکرانہ یہ ہے کہ تم بتوں کو پوجنے کے بجائے اس گھر کے سچے خدا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔
عملی سبق
تو اللہ تعالیٰ نے اس صورت میں یہ تلقین کی ہے، اس سے ہم کو ایک سبق ملتا ہے کہ معاشی ضرورت کا پورا ہو جانا اور امن و امان کا حاصل ہونا یہ دو بڑی نعمتیں ہیں اور اس کا شکرانہ یہ ہے کہ ہم ان نعمت کے دینے والے یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کی بندگی کریں۔
آج اگر ہم دیکھیں اپنے مالیگاؤں شہر میں تو واقعی صورتحال یہ ہے کہ یہ دونوں نعمتیں ہم کو حاصل ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اسی شہر میں پاور لوم کی ایک صنعت دے دی اور بھی دوسری صنعتیں وجود میں آ رہی ہیں، تو ہم لوگوں کو جو ذریعہ معاش ہے اور معاشی ضرورت ہے وہ ساری اسی شہر میں الحمدللہ پوری ہو رہی ہے اور امن و امان بھی کافی عرصے سے ہم کو حاصل ہے۔ ۲۰۰۶ کا غالباً فساد ہوا تھا اس کے بعد اب تک فساد نہیں ہوا ہے۔ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ ہم لوگ امن و امان کے ساتھ ہیں۔ جب یہ دو نعمتیں ہم کو حاصل ہیں تو ہمارے اوپر بڑا شکرانہ بھی ضروری ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کو پورا کرنے والے بنیں اور گناہوں سے اور برے کاموں سے ہم اپنے آپ کو بچائیں۔
جو شہر میں بری لعنت چل رہی ہے، سودی نظام چل پڑا ہے اور بے حیائی پھیلتی جا رہی ہے، نشہ عام ہوتا جا رہا ہے اور اسی کے ساتھ بہت سی برائیاں زناکاری جنم لے رہی ہیں، ہم لوگوں کو چاہیے کہ ہم خود بھی ان سے بچیں اور ان برائیوں کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں جتنی ہم کوشش کر سکتے ہیں ہم کریں۔ چند آدمیوں کو بھی اگر ہم پکڑ کر سمجھا دیں اور ان برائیوں سے ان کو روکیں تو انشاءاللہ اس اصلاحی کام میں ہمارا بھی حصہ لگ جائے گا اور سب سے پہلا اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب ہم بولیں گے تو ہم پہلے بچیں گے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
دعا
﴿اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ كُلَّمَا ذَكَرَهُ الذَّاكِرُونَ، وَصَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ كُلَّمَا غَفَلَ عَنْ ذِكْرِهِ الْغَافِلُونَ، اللَّهُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَىٰ، وَاجْعَلْ آخِرَتَنَا خَيْرًا مِنَ الْأُولَىٰ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ صَلَاحَ السَّاعَاتِ وَالْبَرَكَةَ فِي الْاَوْقَاتْ.﴾
اے اللہ ہم سب کے بیٹھنے کو قبول فرما لیجئے، اے اللہ ہم سب کو قرآن کریم سے خوب گہرا تعلق عطا فرما دیجئے، قرآن کریم کا فہم عطا فرما دیجئے، اے اللہ جو دو سورتوں کی آج تفسیر ہوئی ہے، اے اللہ اس تفسیر سے ہم کو خوب مستفید فرما اور اس سے جو عملی اسباق ہم کو مل رہے ہیں ان پر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرما دیجئے، اے اللہ آپ کی عظیم قدرت ہمارے سامنے آئی، اے اللہ ہم کو اپنی عظیم قدرت کا احساس عطا فرما دیجئے، آپ کی عظمت کا احساس عطا فرما دیجئے، اے اللہ جس طریقے سے آپ نے خانۂ کعبہ کی حفاظت اس وقت کی تھی جب عیسائی دشمنوں نے اس کو ڈھانا چاہا تھا، اے اللہ اسی طرح آج حوثی، رافضی، یمن کے لوگ ہی خانۂ کعبہ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں، اے اللہ جس طرح آپ نے اس زمانے میں حفاظت کی، اے اللہ آج بھی اور تا قیامت اس کی حفاظت کا سامان فرما دیجئے، اے اللہ جس سورہ قریش میں آپ نے دو نعمتوں کا ذکر کیا ہے، اے اللہ آپ نے ہم کو یہ دونوں نعمتیں بھرپور انداز میں عطا فرمائی ہیں، اے اللہ ان نعمتوں کی قدردانی کی خوب توفیق عطا فرما کر ہم سب کو اپنی عبادتوں میں لگا دیجئے، اے اللہ خوب فرما برداری عطا فرما دیجئے، ہر قسم کی نافرمانی سے اور معاشرتی برائیوں سے ہم سب کی حفاظت فرما دیجئے۔
﴿وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَىٰ عَلَىٰ خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ﴾

0 تبصرے