آغاز درس قرآن (رابعہ مسجد) بعنوان قرآن کی عظمت اور افادیت

آغاز درس قرآن (رابعہ مسجد) 
بعنوان قرآن کی عظمت اور افادیت 
بتاریخ : 29 شوال 1446 مطابق 27 اپریل 2025 

أَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
﴿ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ. قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ﴾
[ يونس: 57 _ 58]
﴿لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ۚ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ صَدَقَ اللہُ الْعَظِيمُ
پناہ میں آتا ہوں میں اللہ کی؛ شیطان مردود سے
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔
لوگو تمہارے پاس ایک ایسی چیز آئی ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نصیحت ہے اور دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان ہے۔ اے پیغمبر کہو کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور رحمت سے ہوا ہے۔ لہذا اسی پر تو انہیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ اس تمام دولت سے کہیں بہتر ہے جسے یہ جمع کر کر کے رکھتے ہیں۔

دوسری آیت میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا تو تم اسے دیکھتے کہ وہ اللہ کے رعب سے جھکا جا رہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے، اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔

#درس قرآن کی شروعات اور بنیادی مقاصد :
رمضان المبارک کے بعد آج پہلا درس ہے اور ارادہ یہ ہوا کہ اب آغاز سے، بالکل ابتدا سے اس کی شروعات ہو۔ لیکن پھر مناسب معلوم ہوا کہ پہلے درسِ قرآن میں دو اہم چیزیں سامنے آجائیں۔ ایک تو قرآن کریم کی عظمت اور دوسرے قرآن کریم کی افادیت، یہ دونوں چیزیں جب ہمیں اچھی طرح سے علم میں آجائے گی، معلوم ہو جائے گی، تو ہمارے دل میں قرآن کریم کی عظمت بھی پیدا ہوگی اور قرآن کریم کی افادیت کا احساس بھی جاگے گا اور ہمارا تعلق مع القرآن ، قرآن سے جو تعلق ہے وہ بڑھے گا اس میں اضافہ ہوگا۔

#قرآن کریم کی حفاظت (چار بنیادی اوصاف) :
پہلی جو آیت تلاوت کی گئی اس میں قرآن کی افادیت کا بیان ہے۔
اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ اے لوگو! تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس جو چیز آئی ہے یعنی قرآن کریم، یہ چار اوصاف اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔

ایک تو یہ کہ یہ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ، تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت نامہ ہے۔
دوسرے یہ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ، یہ سینوں کی بیماریاں، مراد قلب کی بیماریاں، دلوں کی بیماریوں کے لیے یہ شفا ہے قرآن کریم۔
وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ، تیسری چیز یہ ہدایت ہے، وَرَحْمَةٌ اور رحمت ہے لِّلْمُؤْمِنِينَ ایمان والوں کے لیے۔
قُلْ بِفَضْلِ اللہِ، اللہ پاک فرماتے ہیں نبی علیہ الصلوۃ والسلام سے کہ آپ اعلان کیجئے کہ یہ قرآن آیا ہے اللہ کا فضل لے کر اور اللہ کی رحمت لے کر آیا ہے۔ قرآن کریم کے ساتھ اللہ کا فضل آیا ہے، اللہ کی رحمت آئی ہے۔ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا، لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس پر خوشی منائیں، خوش ہوں۔ اس لیے کہ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ، یہ قرآن کریم ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جس کو یہ لوگ جمع کر کر کے، سینت کر کے، ذخیرہ کر کے، خزانوں کے طور پر جمع کر کے رکھتے ہیں، ان تمام چیزوں کے مقابلے میں یہ قرآن کریم بہتر ہے۔
چار اوصاف بیان کیے گئے جو بتاتے ہیں کہ قرآن کریم کی افادیت کیا ہے۔
پہلی چیز ہے مَوْعِظَةٌ، قرآن کریم نصیحت نامہ ہے۔ قران کریم موعظت ہے۔ نصیحت، موعظت کہتے ہیں ایسی باتیں جس سے دل نرم ہوں اور دل، قلوب اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائیں۔ دنیا کی غفلت کا پردہ چاک ہو جائے، اور آخرت کی فکر پیدا ہو جائے۔ یہ چار اوصاف جس کلام میں پائے جاتے ہیں اس کو موعظت اور نصیحت کہا جاتا ہے۔ تو قرآن کریم کے اندر یہ چاروں باتیں پائی جاتی ہیں جو اس کو موعظت اور نصیحت کا درجہ اور مقام دیتی ہیں۔ قرآن کریم میں جا بجا ایسے واقعات ہیں، ایک طرف ثواب کا ذکر ہے تو فوراً عذاب کا ذکر ہے، ایک طرف جنتوں کی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے قرآن، دوسری طرف جہنم کے عذابات، اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے، جس سے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔ کبھی خوش ہوتے ہیں کہ جنت کی نعمتیں اتنی ہیں، ایسی ہیں، اس کے فوراً بعد ہی جہنم کا تذکرہ ہوتا ہے تو دل نرم پڑتے ہیں کہ اللہ اکبر، اتنے خطرناک عذابات منتظر ہیں اس آدمی کے جو کفر و شرک کی طرف چلا جائے۔
تو قرآن کریم کے اندر یہ چاروں صفتیں پائی جاتی ہیں کہ اس سے قلوب نرم پڑ جاتے ہیں، اور دل اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جاتے ہیں اور دنیا کی غفلت کا پردہ چاک ہو جاتا ہے اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے۔
دوسری جو صفت بیان کی گئی وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ، قرآن کریم کی افادیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ سینوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ یہ جسموں کی بیماریوں کے لیے بھی شفا ہے۔ لیکن قرآن کریم خاص ذکر کرتا ہے کہ یہ دل کی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ اس لیے کہ جسمانی بیماریوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے علاج کی ہدایت انسانوں کو کردیا ، اس میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں ہے، ہر ایک کو جسمانی بیماریوں میں اللہ تعالیٰ شفا دیتے ہیں۔ لیکن قلوب کی بیماریاں، اس کا علاج انسان کے بس میں نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم اتارا اور اس میں قلوب کی بیماریوں کا ذکر کیا اور اس کا علاج بتایا۔ دل کی بیماریاں کیا ہیں؟ دل کی بیماریاں ہیں حسد، جلن، کینہ، کپٹ، تکبر، بدگمانی، مال کی محبت، حب جاہ، مقام و مرتبے کی محبت، خوشامد پسندی، عجب و خود پسندی، اپنے آپ کو پسند کرنا، دوسرے کو حقیر سمجھنا۔ یہ ساری دل کی بیماریاں ہیں اور جسموں کی بیماریوں سے زیادہ خطرناک ہیں دل کی بیماریاں۔ اس لیے کہ جسم کی بیماریاں زیادہ سے زیادہ آدمی کو کیا کرے گی؟ موت سے ہمکنار کر دے گی اور قبر تک پہنچا دے گی۔ یہ ہے جسمانی بیماریوں کی انتہا۔ لیکن جو دل کی بیماری ہے، جو قلب کی بیماری ہے وہ قبر سے آگے جہنم تک پہنچا دیتی ہے انسان کو۔
اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں ارشاد فرمایا ہے لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ: چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ کَذَّاب: جھوٹا جنت میں نہیں جائے گا۔ کینہ پرور شخص کی ایسی رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی جو بخشش والی، مغفرت والی رات ہوتی ہے۔ تو جسمانی بیماریوں سے زیادہ خطرناک ہیں روحانی بیماریاں، قلوب کی بیماریاں۔ اور قران کریم اس کے لیے شفا ہے اور قرآن کریم اس کا علاج فراہم کرتا ہے۔ یہ دوسری صفت ہے۔
تیسری صفت جو ذکر کی گئی ہے وہ ہدایت ہے، وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ. ہدایت کہتے ہیں رہبری کو، رہنمائی کو، ایک انسان جب اس دنیا میں آنکھیں کھولتا ہے، اس کو شعور کی آنکھیں کھلتی ہیں، تو سمجھ میں آتا ہے، احساس ہوتا ہے، اس کے دل میں سوال جاگتا ہے، من میں باتیں آتی ہیں کہ میں کون ہوں؟ میں کہاں سے آیا ہوں؟ مجھے جانا کہاں ہے؟ مجھے پیدا کس نے کیا ہے؟ اور میں مر جاؤں گا، اگرچہ میں جینے کی خواہش رکھتا ہوں لیکن موت تو آئے گی، جس طرح لوگوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں، ارتھیاں اٹھ رہی ہیں، لوگ تابوت میں پیک کر کے زمین کے گڑھوں میں دبائے جا رہے ہیں، ایک وقت میرا بھی آئے گا، میں بھی چلا جاؤں گا۔ تو مجھے پیدا کس لیے کیا گیا ہے؟ مجھے کس نے پیدا کیا ہے؟ موت کون دیتا ہے؟___ یہ سارے سوال انسان کے ذہن میں اٹھتے ہیں، قرآن کریم اس بارے میں ہدایت ہے، رہنمائی ہے، رہبری ہے۔ اور قرآن کریم بتاتا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کس نے پیدا کیا؟ کیوں پیدا کیا؟ موت کیوں آتی ہے؟ اور اس دنیا کے بعد کون سی دنیا ہے آخرت ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ اس ساری ہدایت اور رہنمائی قرآن کریم دیتا ہے۔
ورحمۃ _ چوتھی صفت ہے رحمت؛ رحمت سے مراد اور بھی چیزیں لی گئی ہیں لیکن اس کو خاص کیا گیا ہے جنت اور آخرت کی نعمتوں سے، کہ قرآن کریم کی ہدایت پر جو عمل کر لیتا ہے پھر قرآن اس کے لیے رحمت بن جاتا ہے اور اس کو اللہ کی بارگاہ میں بخشوا کر جنت میں پہنچا دیتا ہے۔ تو یہ چار صفتیں ہیں اس کلام کی کہ اس قرآن کریم کی افادیت کی یہ چار باتیں ہیں۔ اس سے ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کریم کی افادیت کو محسوس کریں اور قرآن کریم کو اپنے لیے نصیحت نامہ سمجھ کر کے اس پر عمل کریں اور یہ دلوں کی بیماریوں کا علاج ہے، قرآن کریم کو پڑھ کر اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں اس پر عمل کریں گے تو ان شاء اللہ ہمارے جسموں کے ساتھ ساتھ دل کی جو بیماریاں ہیں، قلب کی جو بیماریاں ہیں وہ سب دور ہوں گی۔ اسی کے ساتھ یہ ہدایت ہے اور رحمت ہے۔ یہ چار چیزیں اس کی افادیت ہیں۔


قرآن کریم کی عظمت اور تجلی الہی :
دوسری جو آیت پڑھی گئی اس میں قرآن کریم کی عظمت کا بیان ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں 
لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ. کہ اگر ہم اس قرآن کو اپنی اصلی حالت پر اتار دیتے اور کس پر اتارتے کسی پہاڑ پر، تو تم دیکھتے کہ یہ پہاڑ اس کے وزن سے، اس کے بوجھ سے دب جاتا اور اللہ کی خشیت سے پھٹ جاتا۔ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ. کہ ہم تمثیل بیان کرتے ہیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ اس میں غور و فکر کریں۔
اس میں قرآن کریم کی عظمت کا بیان ہے۔ قران کریم کلام الہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کیا عظمت ہے ہم اس کو سمجھیں گے تو قرآن کی عظمت کا سمجھنا ہمارے لیے آسان ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کائنات کا خالق ہے، مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑی عظمتوں والی ہستی ہے، بڑی قدرتوں والی ہستی ہے۔ تمام تر توانائیاں اور طاقتیں، تابناکیاں، ضوفشانیاں، برقی لہریں یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ نے خلق کی ہیں۔ تو خالق اپنی ذات میں بے پناہ تجلیات اور انوار رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات میں کس قدر انوار ہیں، تجلیات ہیں، تابناکیاں ہیں اس کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں یوں بیان کیا ہے۔ حِجَابُه النُّورْ : کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور تمام مخلوقات کے درمیان ایک پردہ ہے، ایک حجاب ہے وہ حجاب نور کا ہے۔ نبی علیہ الصلوۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ. کہ اگر اللہ پاک اس حجاب کو، اس نور کے پردے کو اپنی ذات سے ہٹا دے تو اللہ تعالیٰ کی ذات کی وہ تجلیات ہیں کہ جس کی وجہ سے تا حد نظر، منتہائے نظر تک جتنی مخلوق ہوگی سب جل کر خاک ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی ذات میں وہ تجلیات ہیں۔ تجلی کس کو کہتے ہیں؟ ایک ہے جلّیٰ: جس کے معنی روشن کرنا اور ایک ہے تجلیّ : اس کے معنی ہیں خود سے روشن ہونا۔ تو اللہ تعالیٰ کی ذات میں خود سے روشنی ہے، نور ہے، تابناکیاں ہیں، ضوفشانیاں ہیں، انوار ہیں، تجلیات ہیں، تو یہ تجلیات ایسی پاور فل ہیں، طاقتور ہیں کہ اگر وہ حجاب ہٹ جائے نور کا تو جتنی مخلوق ہے سب جل کر خاک ہو جائے۔ جیسے کرنٹ ہوتا ہے کسی کو اگر تار لگا دیا جائے تو وہ کوئلہ ہو جاتا ہے۔ اس کے جسم میں جتنا خون ہے سب خشک ہو جاتا ہے اور انسان مر جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کرنٹ کا برقی لہروں کا بھی خالق ہے تو اس کی اپنی ذات میں کس قدر توانائیاں ہوں گی۔
ہم اگر غور کریں کہ ایک سورج ہے، 12 بجتا ہے، ایک بجتا ہے، دو بجتا ہے ہم اس سے آنکھیں نہیں ملا پاتے۔ ایک سورج سے آنکھیں نہیں ملا سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک کہکشاں میں تین کھرب سورج بنائے ہیں اور سائنسدانوں کا کہنا یہ ہے کہ تین کھرب سے زیادہ کہکشائیں ہیں جن کے اندر اتنے بڑے بڑے سورج ہیں۔ جب اتنے ساری توانائیوں کے مرکز کو پیدا کیا ہے اللہ نے، تو اللہ کی ذات میں کس قدر توانائیاں ہوں گی، کیسی طاقت ہوگی کہ اس کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کریم کی طرف آتے ہیں۔ قرآن کریم میں سورہ اعراف میں آیت نمبر 142_ 143 میں اللہ تعالیٰ نے ایک واقعے کو ذکر کیا ہے۔
وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ. کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ تم کوہِ طور پر آؤ اور چالیس دن کا ایک چلہ مقرر کیا، ان کے مجاہدے کے لیے طے کیے۔ دن میں روزے رکھتے تھے اور رات میں عبادتیں کرتے تھے۔ جب یہ پورا ہو گیا چلہ، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ہم کلامی کا شرف بخشا۔ جب بات چیت ہوتی ہے اور محبوب؛ حقیقی ہے تو دیدار کا شوق ہونے لگتا ہے۔ جب بات چیت ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام کے دل میں اللہ تعالیٰ سے محبت اور زیادہ ہو گئی اور دیدار کا شوق ہوا۔ تو موسیٰ علیہ السلام اللہ پاک سے کہتے ہیں رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ. مجھے دکھائیے نا اپنا آپ، میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔


اللہ تعالی کو دیکھنے کا مطالبہ اور طلب کی قسمیں:
دیکھیے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا یا طلب رکھنا دو قسم کی ہے۔ ایک وہ طلب ہے دیکھنے کی یا وہ مطالبہ ہے دیکھنے کا جو ضد پر ہے۔ جیسے آج کل ملحدین کہتے ہیں، اسٹیفن ہاکنگ جو بڑا سائنسدان گزرا ہے اس سے پوچھا گیا خدا کو تم مانتے ہو؟ کہا کہ آسمانوں میں بڑے لمبے دور تک گئے، دوربین لگائے کہیں خدا نظر نہیں آیا، اس لیے ہم نہیں مانتے۔ جب خدا نظر آئے گا تو ہم مانیں گے۔ یہ مطالبہ ضد کا مطالبہ ہے۔
قران کریم میں ایک جگہ بیان کیا گیا کہ بنی اسرائیل، انہی موسیٰ علیہ السلام کی قوم ہے، جب موسیٰ علیہ السلام ان کو پیغام پہنچایا تو انہوں نے ضد کرتے ہوئے کہا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً. کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ہرگز ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہم اللہ تعالیٰ کو کھلی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ جب یہ مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غضب نازل ہوا، فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ. تم دیکھ رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے تم پر بجلیاں ٹوٹ پڑیں اور تم کو موت کی گھاٹ اتار دیا۔ تو ایک مطالبہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے دیکھنے کا جو ضد میں ہوتا ہے۔ جب تک ہم اللہ کو اپنی نظروں سے نہ دیکھ لیں ہم ایمان نہیں لائیں۔ یہ مطالبہ غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ایمان بالغیب اللہ کو مطلوب ہے۔ اگر اللہ کو دیکھ لیا جائے تو ایمان بالمشاہدہ ہو جائے گا۔ دیکھ کر ایمان لانا ہو جائے گا، یہ اللہ کو مطلوب نہیں۔ عقل کی روشنی میں، وحی کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کو پہچاننا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ماننا ہے۔ تو یہ مطالبہ جو ضد پر مبنی ہے اللہ کے یہاں مردود ہے۔
لیکن یہ جو مطالبہ تھا یہ مطالبہ نہیں گویا طلب تھی۔ موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام محبت میں اللہ تعالیٰ سے کہہ رہے ہیں رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ. میرے رب مجھے اپنا آپ دکھائیے نا، میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ تو محبت کی بنیاد پر کیے گئے مطالبے کو اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اور فرمایا کہ لَن تَرَانِي. اے موسیٰ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ وَلَٰكِنِ انظُرْ إِلَى الْجَبَلِ. لیکن ایسا کر لو کہ پہاڑ کو دیکھ لو۔ میں پہاڑ پر اپنی تجلی کو، اپنی ذات کو ظاہر کروں گا فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي. اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہا تو پھر تم مجھے دیکھ لینا۔ پہاڑ انسان کے مقابلے میں پتھروں سے بنی ہوئی مخلوق ہے۔ ہزار طوفان گزر جائے، ہوائیں، بارش، سیلاب آجائے پہاڑ اپنی جگہ رہتا ہے ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ لیکن انسان اس کے مقابلے میں مٹی سے بنا ہوا ہے اور ہوا کا تیز جھونکا اس کو متاثر کر دیتا ہے، پانی کا ایک ریلا اس کو بہا لے جاتا ہے تو انسان اس کے مقابلے میں بہت کمزور ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک پہاڑ بڑا مضبوط ہے پتھروں سے بنا ہوا ہے، میں اس پر اپنی تجلی کو ظاہر کروں گا اگر یہ میری تجلی کو برداشت کر لے، اپنی جگہ باقی رہ جائے تو تم بھی دیکھ لینا۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا. جیسے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی تجلی ظاہر کی، پہاڑ جل کر سرمے کی طرح ریزہ ریزہ ہو گیا۔ جل کر بھسم ہو گیا۔ وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا. اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ حالانکہ تجلی پہاڑ پر گری تھی، اللہ تعالیٰ کی تجلی پہاڑ پر ظاہر ہوئی تھی لیکن اس کا عکس پڑا ہے، اس کے عکس میں اتنی تاثیر تھی کہ موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات کی تجلی کس قدر طاقتور اور توانائیوں سے بھرپور ہے۔ فلما افاق، جب موسیٰ علیہ السلام کو ہوش آیا، افاقہ ہوا، تو کہنے لگے سُبْحَانَکَ. تیری ذات پاک ہے، تُبْتُ إِلَيْكَ. میں توبہ کرتا ہوں کہ میں نے آپ سے، آپ کو دیکھنے کا مطالبہ کیا وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ. میں اس بات پر سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں کہ تجھے سر کی آنکھوں سے اس زندگی میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
محترم بزرگو دوستو یہ آیت تجلئ ذات کو بتاتی ہے۔ جو کیفیت تجلیاتِ ذات میں ہے وہی کیفیت تجلیاتِ صفات میں بھی ہے۔ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ کی ذات سے نکلا ہوا ہے، جو تاثیر اللہ کی ذات میں ہے کم و بیش وہی تاثیر اللہ تعالیٰ کی صفات میں، اور خاص طور پر صفتِ کلام میں بھی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ. کہ اگر ہم اس قرآن کو اپنی اصلی حالت پر اتار دیتے کسی پہاڑ پر، تو تم دیکھتے کہ پہاڑ اس کے وزن سے، اس کے بوجھ سے دب جاتا اور اللہ کی خشیت سے پھٹ جاتا۔ 
تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ. 
کہ ہم تمثیل بیان کرتے ہیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ اس میں غور و فکر کریں۔
اس تمثیل پر اگر غور کیا جائے تو ایک بڑی معنی خیز بات واضح ہوتی ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں دو اقوال ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس آیت میں جو مثال بیان کی گئی ہے وہ فرضی ہے۔ گویا بتایا جا رہا ہے کہ اگر قرآن کو پہاڑ جیسی سخت اور سنگین چیز پر نازل کیا جاتا اور جس طرح انسان کو فہم و شعور دیا گیا ہے پہاڑ کو بھی فہم و شعور دیا جاتا، تو پہاڑ اس قرآن کی عظمت کے سامنے جھک جاتا، بلکہ ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ لیکن انسان نے اپنی فطری صلاحیت کو کھو دیا اور اپنی خواہش پرستی اور نفس پرستی و خودغرضی میں مبتلا ہو کر اپنے دل کو اس تاثر سے محروم کر دیا، جس کی وجہ سے وہ قرآن سے متاثر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا: ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً. کہ قرآن کے نازل ہونے کے بعد، یہ قرآن سے اثر نہیں لیتے، یہ لوگ کافر ہیں، یہود و نصاریٰ کا اس آیت میں ذکر ہے کہ ان کے دل پتھروں کی طرح سخت ہو گئے، بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ ان کی قساوت قلبی بڑھ گئی ہے۔ پھر اللہ پاک فرماتے ہیں کہ پتھروں میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کے اندر یہ خاصیت ہے: وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ. بعض پتھر تو وہ ہیں کہ جس کے پھٹنے سے ندیاں جاری ہو جاتی ہیں۔ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ. کچھ پتھر تو ایسے ہیں جب وہ پھٹتے ہیں تو اس میں سے چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔ "وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ" اور کچھ پتھر تو ایسے ہیں جو اللہ کی خشیت کو محسوس کر کے گر پڑتے ہیں، اوپر سے نیچے گر پڑتے ہیں۔ یہ پتھروں کی صلاحیت، پتھروں کے اندر یہ تاثر ہے، لیکن انسان اپنے دل کو پتھر سے بھی زیادہ سخت بنا لیا ہے۔ تو ایک قول اس آیت کی تفسیر میں یہ کہا گیا کہ اس میں جو مثال ہے وہ فرضی ہے۔
لیکن دوسری جو تفسیر کی گئی ہے وہ یہ بیان کیا گیا کہ یہ حقیقت ہے، یہ فرضی مثال نہیں ہے۔ اگر اللہ قرآن کو اُس کی اصلی حالت میں پہاڑ پر اتارے، رکھ دے، تو پہاڑ آج بھی دب جائے، اس کے بوجھ کو سہار نہ سکے اور ریزہ ریزہ ہو جائے۔ اس کے دلیل میں کچھ آیتیں ذکر کیں کہ
اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی مخلوق بنائی ہے، پہاڑ ہیں، درخت ہیں، کائنات کی تمام چیزوں میں شعور اور ادراک ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے: إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإشْرَاقِ. داؤد علیہ السلام کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا، وہ داؤد علیہ السلام کے ساتھ مل کر صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے۔ یہ بتاتا ہے کہ پہاڑوں کے اندر بھی شعور و ادراک ہوتا ہے۔ ..... وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ. کہ ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہیں، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ ساتوں آسمان اور زمین، اور اس کے درمیان جتنی مخلوق ہیں، سب کے سب اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔....... معلوم ہوا کہ پہاڑ اور درخت وغیرہ کے اندر بھی شعور اور ادراک ہے۔ جب شعور اور ادراک ہے، اور قرآن اللہ کی تجلی ہے تو اللہ کے کلام کی تجلی پہاڑ پر ظاہر ہو گی تو ضرور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔ تو یہ مثال حقیقی ہے۔


قرآن کا بوجھ اور نبی علیہ السلام کے دل کی مضبوطی (واقعہ شق صدر) :
اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ حقیقت ہے کہ قرآن کے اندر اتنی پاور ہے، اتنی طاقت ہے کہ اس کو پہاڑ جیسی سخت اور سنگین مخلوق بھی برداشت نہیں کر سکتی تو پھر انسان؛ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلام کو کیسے برداشت کر لیا؟ غور و فکر کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دو باتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو انسانوں کے لیے قابل برداشت بنا دیا۔ اس کی پاور کو کم کر دیا، توانائی کو کم کر دیا تاکہ انسان اس کو برداشت کر سکے۔ اور دوسری یہ کہ قرآن جس جگہ پر اترا ہے، جس شخصیت پر اترا ہے، اس کے قلب کو اللہ تعالیٰ نے مضبوطی عطا کر دی۔
قرآن کریم کہاں نازل ہوا؟ وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ. نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ. عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ. یہ قرآن رب العالمین کا نازل کردہ ہے، اس کو روح الامین لے کر آئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے قلب پر اتارا ہے۔ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر اترا ہے۔ سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کریں گے معلوم ہوگا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے، نزولِ قرآن سے پہلے، یعنی 40 سالہ زندگی سے پہلے چار مرتبہ مختلف فیہ طور پر اور متفق علیہ طور پر دو مرتبہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گویا اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ہے۔
اوپن ہارٹ سرجری کی گئی، یعنی سینے کو کھولا گیا، دل کو نکالا گیا، دھویا گیا آبِ زمزم سے، پھر اس سینے کو ایمان اور حکمت کے نور سے بھر دیا گیا۔ چار سال کی عمر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، طائف میں ہیں، اچانک جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کے ساتھ آتے ہیں۔ اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ہم عمروں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آپ کو پکڑتے ہیں، ایک طرف لے جاتے ہیں، لٹاتے ہیں، سینہ چاک کرتے ہیں جبرائیل علیہ السلام، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے سے دل مبارک کو نکالتے ہیں، گوشت کا ایک چھوٹا سا لوتھڑا تھا، خون کا اس کو باہر پھینکتے ہیں، آبِ زمزم سے اس کو دھوتے ہیں۔ پھر جنت سے لایا ہوا ایمان اور حکمت کے نور سے بھرا ہوا پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں انڈیلتے ہیں۔
یہ پہلی مرتبہ ہوا۔ بچے دوڑتے ہوئے دائی حلیمہ کے پاس گئے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں نے پکڑ لیا، قتل کر دیا ہے۔ وہ روتی پیٹتی آتی ہیں، دیکھتی ہیں تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحیح سلامت ہیں۔ ان سے پوچھتی ہیں بیٹا کیا ہوا؟ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ آئے تھے ایسا ایسا میرے ساتھ ہوا، لیکن مجھ کو کچھ ہوا نہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر سینہ چاک کرنے کے نشان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ یہ ایک واقعہ 4 سال کی عمر میں ہوا۔
پھر شبِ معراج میں بھی یہ واقعہ ہوا۔ جبرائیل علیہ السلام اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پر، چھت کھول کر اترتے ہیں اور یہی عمل دہراتے ہیں۔ سینہ چاک کرتے ہیں، قلب مبارک کو نکالتے ہیں، آبِ زمزم سے دھوتے ہیں، پھر جنت سے لایا ہوا ایمان اور حکمت کا نور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں انڈیلتے ہیں، بھر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا؟
ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دل، اللہ کے کلام کے نزول کے بوجھ کو سہار سکے، اور دل مضبوط ہو سکے۔ یہ زبردست حکمت اس کے پیچھے پوشیدہ تھی۔
لیکن اس سب کے باوجود، وحی کا بوجھ اتنا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب وحی نازل ہوتی تھی، سخت سردی میں بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پسینے سے شرابور ہو جایا کرتے تھے، اور آپ کی پیشانی مبارک پر پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح نمودار ہو جایا کرتے تھے۔
ایک جگہ ایسا ملتا ہے کہ جب وحی نازل ہوتی تھی اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قصویٰ اونٹنی پر سوار ہوتے تھے، وہ اونٹنی اتنی بڑی اور طاقتور جانور، اس وحی کے بوجھ کو برداشت نہیں کر پاتی تھی، بیٹھ جایا کرتی تھی۔
ایک روایت میں یہ بھی ملتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے، اسی وقت وحی نازل ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اتنا بوجھ مجھے محسوس ہوا کہ مجھے اپنی ران کی ہڈی ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اتنا بوجھ ہوتا تھا وحی کا۔ تو جانور اور انسان بھی اس کو برداشت نہیں کر پاتے تھے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ تھی کہ اس کو برداشت کر لیتی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا: إِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ۞ (اے نبی ﷺ !) ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا ہے آپ کی زبان پر تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (الدخان 58) 

جب قلبِ مبارک پر نازل کیا گیا قرآن، زبانِ نبوت سے ظاہر ہو گیا، تب اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں کے لیے، اس کو پڑھنے والوں کے لیے اسے آسان کر دیا۔ سورہ قمر میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ.... کہ ہم نے قرآن کو آسان کر دیا ہے۔ 


محترم بزرگو دوستو! یہ قرآن کی عظمت ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالی نے اس کو ہمارے لیے آسان کر دیا، اب ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اس قرآن کریم سے جڑیں۔ ایک جگہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ﴾ [الحديد: 16]
کیا ایمان والوں کا دل ابھی تک اللہ کے ذکر سے اللہ کے قرآن سے نرم نہیں پڑھا، وہ اس کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ یہ بطور تعجب ہے کہ قرآن سے پہاڑ تک اثر لے لیتے لیکن انسانوں کے قلوب اس سے اثر نہیں لیتے۔

محترم بزرگو دوستو! ہم قرآن کریم کی تلاوت ویسے نہیں کرتے جیسے کرنی چاہیے جس عظمت کے ساتھ کرنی چاہیے، نہیں کرتے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن کریم سے جڑیں اور دلوں میں خشوع پیدا کریں۔ 


قرآن سے جڑنے کے تین درجے:
قرآن سے جڑنے کے تین درجے ہیں ایک یہ کہ تجوید کے ساتھ پڑھیں، تجوید کے ساتھ پڑھنا لازمی ہے ضروری ہے امام جزری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں 
( والأخذ بالتجويد حتم لازم + من لم يجود القرآن آثم ) کہ قرآن کریم کو تجوید سے پڑھنا حتمی ہے لازمی ہے جو قرآن کریم کو تجویز سے نہ پڑھے وہ گنہگار ہے 
 دوسرے یہ کہ معانی سمجھ کر پڑھنا۔ قرآن کریم کو اگر بغیر سمجھے پڑھیں گے تو ثواب ملے گا اور اللہ کا قرب ملے گا لیکن یہ اصل میں کتاب ہے ہدایت کی اور ہدایت اس وقت ملے گی جب اس کو سمجھ کر پڑھا جائے 
اور تیسرا درجہ ہے قرآن کریم میں تدبر اور تفکر کا، جس کا ایک راستہ یہ بھی ہے کہ ہم درسِ قرآن میں پابندی سے شریک ہوں۔


موجودہ حالات کی خطرناکی اور قرآن سے رہنمائی (ایک سچا واقعہ) :
محترم بزرگو دوستو ! ہمارا شہر پچھلے کچھ مہینوں سے عجیب حالات سے گزر رہا ہے، یہ مہینہ شوال کا ہے، 26 _ 27 تاریخ ہے پچھلا مہینہ رمضان کا گزرا ہے، ان دو مہینوں میں ایک درجن سے زیادہ خودکشیاں ہو گئیں شہر میں، اگر ہم غور کریں تو اس کی بڑی وجہ قرآن کریم سے ہمارا ربط نہ ہونا ہے، ایک ایسا شخص جس کے لیے قرآن موجود ہو، وہ اس پر ایمان رکھتا ہو اور وہ خودکشی کر لے، حرام موت مرے یہ اس کیلئے زیبا نہیں دیتا۔

 قرآن کریم سے اگر ہم اپنا تعلق جوڑیں گے تو ہم کو احساس ہوگا کہ قران کریم کیسا زندہ کلام ہے اور کیسے رہنمائی اور کیسی رہنمائی کرتا ہے ایک صالح نوجوان، قرآن کریم سے جڑے ہوئے، ترجمہ قرآن بھی پڑھتے ہیں، ماشاء اللہ حافظ عالم ہیں، ان کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، سانحہ پیش آیا کہ ایک بچہ ان کے یہاں ہوا، 11 دن میں انتقال کر گیا، اس کے کچھ عرصے کے بعد پھر ان کی اہلیہ امید سے ہوئی، خوشی ہوئی لیکن پانچویں مہینے میں حمل ساقط ہوگیا، ضائع ہوگیا، اسی طرح تیسری مرتبہ ہوا کہ تیسرے مہینے میں یہ مسئلہ ہو گیا، تین تین حادثات ان کے ساتھ پیش آئے۔ جب ہم ان سے ملے تو بڑے رنجیدہ تھے، ان کی بیوی بھی بہت زیادہ رنجیدہ، بڑی پریشان تھیں۔ کہتے ہیں کہ جمعہ کا دن آیا، پیر کے دن آپریشن وغیرہ سے گزرے تھے۔ جمعہ کا دن آیا، انہوں نے قرآن کریم کھولا، سورۃ کہف پڑھنا شروع کی، کہتے ہیں کہ سورہ کہف پڑھنے سے پہلے میرے دل میں شکوے کی کیفیت تھی، ایک غم تھا لیکن جب میں نے اسے ختم کیا تو میں نے اللہ کا شکر ادا کیا، میرے اندر شکر کی کیفیت پیدا ہوئی۔ وہ کون سی چیز تھی قرآن میں، سورہ کہف کے اندر کہ ابھی شکوے کی کیفیت تھی اور ابھی شکر کی کیفیت میں چلے گئے؟ کیسے ان کو رہنمائی ملی؟ انہوں نے کہا کہ میں نے قرآن بند کیا اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا : اللھم لک الحمد ولک الشکر، الحمد للہ علی کل حال. اصل میں سورہ کہف کے اندر ایک واقعہ ہے موسی اور خضر علیہما السلام کا، خضر علیہ السلام موسی علیہ السلام کو لیکر نکلتے ہیں، قرآن نے فرمایا : حتی اذا لقیا غلاما فقتلہ. راستے میں ایک لڑکا ملتا ہے، کھیل رہا تھا، خضر علیہ السلام اس کو پکڑتے ہیں، اس کو قتل کر دیتے ہیں، موسی علیہ السلام چیں بجبیں ہوتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں اقتلت نفسا زکیۃ بغیر نفس. تم نے ناحق ایک معصوم کی جان لے لی، لقد جئت شیئا نکرا. تم نے بہت برا کام کیا۔
 خضر علیہ السلام آگے سے کہتے ہیں الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا. میں نے کہا تھا نا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے۔ بہرحال موسی علیہ السلام صبر نہیں کرسکے اور تیسری مرتبہ بھی جب انہوں نے اعتراض کر دیا تو خضر علیہ السلام نے کہا ھذا فراق بینی وبینک. یہ ہمارے تمہارے درمیان جدائی آ گئی، اب ہم ساتھ نہیں رہ سکتے۔ لیکن سنو سانبئک بتاویل ما لم تستطع علیہ صبرا. میں بتاتا ہوں ان واقعات کے پیچھے اس کا نتیجہ کیا ہے تاکہ تم کو بھی معلوم ہو جائے کہ یہ اصل میں رحمت ہے اللہ تعالیٰ کی۔ پھر انہوں نے کہا واما الغلام فکان ابواہ مؤمنین. یہ جو لڑکا تھا جس کو میں نے قتل کیا ہے اس کے ماں باپ ایمان والے ہیں۔ فخشینا ان یرہقہما طغیانا وکفرا. ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا جب بڑا ہو گا تو یہ اپنے ماں باپ کو ستائے گا، ماں باپ اس کی محبت میں اس حد تک آگے بڑھیں گے کہ یہ ان دونوں کو اللہ کی نافرمانی اور کفر تک پہنچا دے گا یعنی یہ اپنے ماں باپ کے لیے وبال بن جائے گا اور ایسی اولاد سے بچنے کیلئے اللہ کے نبی علیہ السلام نے دعا کرنے کو کہا ہے وہ دعا مانگی ہے اللھم انی اعوذبک من ولد یکون علی وبالا. اے اللہ میں تیری پناہ پکڑتا ہوں ایسی اولاد سے جو میرے لیے وبال بن جائے تو وہ اپنے ماں باپ کے لیے وبال بنتی ، فاردنا ان یبدلہما ربہما خیرا منہ زکاۃ واقرب رحما. تو ہم نے چاہا کہ اس بچے کو اٹھا لیا جائے، موت دے دی جائے اس پر وہ ایمان والے ماں باپ صبر کریں گے، ان کے صبر کی بدلے اللہ تعالی دوسری اولاد ان کو عطا کریں گے، جس کی یہ خاصیت و صفت ہو گی کہ خیرا منہ زکوۃ اقرب رحما. اس کے اخلاق بڑے اچھے ہوں گے اور وہ رشتے داری کو نبھانے والا ہوگا، ماں باپ کے حقوق کو ادا کرنے والا ہوگا۔
 اب دیکھیے کہ یہ واقعہ قرآن نے بیان کیا سورہ کہف میں اور ایک بندے نے سورہ کہف میں اسے پڑھا اور اسے حالات سے ملایا کہ اگر میری تین اولاد چلی گئی تو اس میں ہو سکتا ہے کہ یہ تینوں اولاد میرے لیے آگے وبال بنتیں، اللہ تعالی نے پہلے ہی اٹھا لیا، اچھا کیا، میں اس میں اللہ کے فیصلے پر راضی ہوں اور جس طرح اللہ تعالی نے ان ماں باپ کو، ایمان والے جوڑے کو صبر و رضا کے بدلے، لڑکے کے نعم البدل کے طور پر نیک اولاد دینے کا فیصلہ کیا تو امید ہے کہ اگر میں اللہ کے فیصلے پر صبر کروں اور اس کی وجہ سے نعم البدل کے طور پر مجھے بھی اللہ نیک اولاد عطا فرمائے گا۔ یہ ہے قرآن کریم کی رہنمائی 

محترم بزرگو! انسان کتنا قرآن میں ڈوبتا چلا جاتا ہے، قرآن کریم سے اس کو رہنمائی ملتی ہے اور شکوے سے شکر کی طرف آتا ہے، اب یہ بندہ اگر ایسے ہی رہتا شیطان اس کو بہکاتا، خودکشی تک لے کے جاتا، ہو سکتا تھا، لیکن جب قرآن سے جڑے ہیں تو خودکشی تو دور کی بات ہے، اللہ کے فیصلے پر صبر کر رہے ہیں، رضا مندی ہے اور آگے بڑھ کر کے شکر ادا کیا۔
محترم بزرگو دوستو! آج کے درس قرآن کا یہی سبق ہے، یہی پیغام ہے کہ ہم قرآن کی تلاوت کریں اور اسی کے ساتھ قرآن کریم کی عظمت کو سمجھیں اور قرآن کریم سے جڑیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ دعا کرلیں۔

اللهم لك الحمد كما أنت أهله ولك الشکر كما أنت أهله، فصل وسلم على سيدنا محمد كما أنت أهله وافعل بنا ما أنت أهله فإنك أنت اهل التقوى واهل المغفره. اللھم اجعل القران العظیم ربیع قلوبنا ونور ابصارنا وجلاء احزاننا وذہاب ہمومنا وغمومنا. 

 اے اللہ! ہمارے اس جمع ہونے کو قبول فرما لیجیے، آپ کے کلام کا جو درس ہوا ہے اس درس کو ہم سب کے لیے نافع و مفید بنا دیجیے۔ اے اللہ ان آیتوں کے ذریعے جن میں آپ کے کلام کی عظمت ہے اور آپ کے کلام کی افادیت ہے، اے اللہ ہمارے دلوں میں بھی اپنے کلام کی عظمت کو پیدا فرما دیجئے ،اپنی ذات کی عظمت کو پیدا فرما دیجئے اور قرآن کے درس سے بھرپور مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرما دیجیے۔ اے اللہ شہر میں جو برائیاں چل رہی ہیں، اے اللہ خودکشی کے جو واقعات ہو رہے ہیں، اے اللہ ان سب سے شہر کو محفوظ و مامون فرما دیجیے۔ اے اللہ عالمی سطح پر فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے اے اللہ ہم سب ان کیلئے دعا گو ہیں اے اللہ ہم یہاں سے مدد نہیں کر سکتے کوئی اور امداد نہیں کر سکتے اے اللہ ہمارا سب سے بڑا ہتھیار دعا ہے ہم یہاں سے رو کر تیرے سامنے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ان کو فتح مبین عطا فرما۔ ظالموں کو ظلم سے روک دے، مظلومین کی مدد و نصرت فرما۔
 وصلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ محمد وعلی الہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے