سورۃ النصر اور سورۃ الاخلاص کا آسان درس

درسِ قرآن سورہ نصر اور سورہ لہب

﴿أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ﴾
﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ۝ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ۝ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾
پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی، شیطان مردود سے۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان بے انتہا رحم کرنے والا ہے۔ 
جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے، اور تم لوگوں کو دیکھ لو کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں، تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، یقین جانو وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔

﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ۝
 تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ۝ مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ۝ سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ۝ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ۝ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ﴾
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان بے انتہا رحم کرنے والا ہے۔ 
ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ برباد ہو جائے۔ اس کی دولت اور اس نے جو کمائی کی تھی وہ اس کے کچھ کام نہیں آئی۔ وہ بھڑکتے شعلوں والی آگ میں داخل ہوگا اور اس کی بیوی بھی؛ لکڑیاں ڈھوتی ہوئی، اپنی گردن میں بٹی ہوئی رسی لپیٹے ہوئے۔

دو سورتیں پڑھی گئیں۔ پچھلے دو دروس میں الحمدللہ چاروں قل، اس کی تفسیر ہوئی۔ اللہ کی توفیق سے ہم اب آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور سورہ نصر اور سورہ لہب کی آج تلاوت اور ترجمہ ہوا۔

سورۃ النصر کا تعارف اور نام
جو سورت پہلے تلاوت کی گئی، سورۃ النصر، اس کی تفسیر کرتے ہیں۔ اس سورت کا نام سورۃ النصر ہے۔ سورۃ النصر میں جو نصر کا لفظ ہے، اس کے معنی ہیں مدد کرنا۔ پہلی آیت میں نصر کا لفظ موجود ہے اس لیے اس سورت کا نام سورۃ النصر رکھا گیا۔ اس کا ایک نام سورۃ الفتح بھی ہے اور پہلی آیت میں فتح کا لفظ بھی ہے، اس مناسبت سے اس کو سورۃ الفتح بھی کہا گیا۔ اس کا تیسرا نام بھی ہے، سورۃ التودیع؛ تودیع کہتے ہیں رخصت کرنا، الوداع کرنا، اور اس سورت میں اللہ کے رسول ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کے اس دنیا سے رخصت ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ التودیع بھی رکھا گیا۔ تو خلاصہ یہ کہ اس سورت کے تین نام ہیں: سورۃ النصر، سورۃ الفتح، اور سورۃ التودیع

سورۃ النصر کا مضمون اور شانِ نزول
اس سورت کا مضمون کیا ہے اور یہ کب نازل ہوئی ہے؟ فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے یہ نازل ہوئی ہے۔ اور اس سورت میں مستقبل قریب میں مکہ مکرمہ کے فتح ہونے اور مشرکین کے مقابلے میں مسلمانوں کے فتح پانے اور پورے عرب میں اسلام کے پھیل جانے کا اشارہ ہے۔ اور اللہ کے رسول ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کا اشارہ ہے۔ اور سورت کے آخر میں اللہ کے رسول ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کو خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرنے کا حکم دیا گیا، اور استغفار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ سورت کے مضامین ہیں۔

﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ۝ 
جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ 
وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا﴾
اور تم لوگوں کو دیکھ لو کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔
 اس سورت میں فتح سے مراد جیسا کہ ذکر ہوا مکہ مکرمہ کی فتح ہے۔ یعنی جب مکہ مکرمہ آپ کے ہاتھوں فتح ہو جائے گا اور اللہ کی مدد آئے گی، اللہ کی مدد سے یہ فتح ہوگا تو اس میں ایک طرف خوشخبری دی گئی ہے کہ مکہ مکرمہ فتح ہو جائے گا، اور پھر اس کے بعد کیا صورتحال ہوگی؟ تو عرب کے لوگ جوق در جوق، فوج در فوج بڑی تعداد میں دینِ اسلام میں داخل ہوں گے اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا۔ پورے عرب میں اسلام کا غلبہ ہوتا چلا گیا فتح مکہ کے بعد۔ اصل میں عربوں کا یہ عقیدہ تھا کہ مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ پر اُسی کا تسلط ہو سکتا ہے، اُسی کا قبضہ ہو سکتا ہے جو حق پر ہو۔ تو جب مسلمانوں نے مکہ کو فتح کر لیا اور خانہ کعبہ پر بھی انہی کا قبضہ ہو گیا تو اب عربوں کو یقین ہو گیا کہ یہ مسلمان حق پر ہیں اور اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ سچے نبی ہیں۔ تو بڑی تعداد میں عرب میں لوگوں نے اسلام قبول کیا، پورے پورے قبیلوں نے اسلام قبول کیا۔ تو ایک طرف تو یہ خوشخبری دی گئی۔ اور دوسری طرف چونکہ اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کی بعثت کا جو مقصد تھا، آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا جو مقصد تھا، یہ مقصد بھی اسی کے ساتھ پورا ہو رہا تھا۔ اس لیے اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کو دنیا سے رخصت ہونے کی تیاری کے لیے حمد و تسبیح اور استغفار کا حکم دیا گیا، جو اگلی آیت میں ہے۔

﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾
اور تم اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، یقین جانو وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔

سورۃ النصر پر صحابہ کرام کا ردعمل
جب یہ سورت نازل ہوئی تو صحابہ مکہ مکرمہ کے فتح ہونے کی خوشخبری کی وجہ سے بہت زیادہ خوش ہوئے کہ اس سورت میں وضاحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ فتح ہو جائے گا اور بڑی تعداد میں لوگ اسلام میں داخل ہوں گے، اسلام قبول کریں گے۔ تو صحابہ بڑے خوش تھے۔ لیکن حضور اقدس ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کے چچا حضرت عباس ﴿رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ﴾ اسے سن کر رونے لگے۔ اس آیت کو، اس سورت کو۔ تو اُن سے پوچھا گیا کہ بھئی آپ کیوں رو رہے ہیں؟ جبکہ اس میں تو مکہ مکرمہ کے فتح ہو جانے کی بشارت ہے! تو وہ چونکہ گہرائی کے ساتھ سوچ چکے تھے، انہوں نے کہا کہ اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کے دنیا سے تشریف لے جانے کا وقت قریب آ رہا ہے اور اسی وجہ سے آپ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اب آپ کی رخصتی کا وقت ہے؛ اس دنیا سے آپ ہمارے پاس آئیں گے، تو آپ اللہ کی حمد بیان کیجیے، کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے اتنا بڑا کام لیا اور پورے مکہ مکرمہ اور عرب میں آپ کا غلبہ ہو رہا ہے، آپ کے ذریعے سے اللہ کا دین بلند ہو رہا ہے، تو آپ اللہ تعالی کی حمد بیان کیجیے، اس کی تسبیح بیان کیجیے اور استغفار بھی کیجیے۔

نبی کریم ﷺ کو استغفار کا حکم کیوں؟
اب یہاں پر یہ سوال ہے کہ اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کو حمد اور تسبیح کا حکم دیا جا رہا ہے، یہ تو سمجھ میں آ رہا ہے کہ بھئی ایک بڑی نعمت آپ کو حاصل ہو رہی ہے، ایک بڑا کام آپ کے ذریعے سے ہو رہا ہے، لیکن آپ کو استغفار کا حکم کیوں دیا گیا؟ جبکہ آپ ہر طرح کے گناہوں سے بالکل پاک تھے، معصوم تھے۔ اور اگر آپ کی شان کے لحاظ سے کوئی چھوٹی موٹی بھول چوک ہوئی، غلطی ہوئی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح میں اس کی بھی معافی کا اعلان فرما دیا تھا۔ جیسے ایک مرتبہ آپ ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ بہت زیادہ لمبی تہجد پڑھے جس کی وجہ سے آپ کے پیروں میں ورم آ گیا، سوج گئے۔ حضرت عائشہ ﴿رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا﴾ نے دیکھا تو کہا ﴿قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھا رہے ہیں؟ تو آپ ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ نے فرمایا تھا ﴿أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا﴾ کیا میں اس بات کو پسند نہ کروں کہ جب اللہ نے میری غلطیوں سے درگزر کر دیا ہے تو میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ کیا میں اس بات کو پسند نہ کروں؟ تو حضرت عائشہ ﴿رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا﴾ نے جو بات کہی تھی کہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو گئے وہ سورۃ الفتح کی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے یا اس کی طرف آپ کی نظر گئی تھی، سورۃ الفتح میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ﴿لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہوں کو معاف کر دیے ہیں۔
تو اب یہ سوال ہے کہ جب ہر طرح کی معافی ہو چکی ہے تو پھر اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کو استغفار کی تلقین کیوں کی گئی؟ ____ تو اس کا جواب یہ ہے کہ امت کو بتانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ ہمارے آپ کے لیے کی جا رہی ہے کہ جب اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ جو کہ گناہوں سے پاک صاف ہیں، ان کو استغفار کرنے کو کہا جا رہا ہے، تو دوسرے مسلمانوں کو اور زیادہ اہتمام کے ساتھ استغفار کرنا چاہیے۔

سورت سے عظیم سبق
اس سورت سے ہم کو ایک بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ اخیر عمر میں ہم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرنا چاہیے کہ اللہ نے عظیم نعمت ایمان کی عطا کی ہے۔ اور ہم تو گنہگار ہیں اس کے باوجود اللہ نے اپنی رحمت سے ہمیں دیا ہے۔ تو حمد اور تسبیح بیان کریں، ساتھ میں استغفار بھی کریں کہ زندگی میں کتنے بڑے بڑے اور کیسے کیسے گناہ ہو گئے ہیں جو نہیں ہونا چاہیے تھے۔ اب اللہ سے ملاقات کا وقت قریب ہے۔ اخیر عمر میں ہے، تو ہم کو زیادہ سے زیادہ استغفار بھی کرنا چاہیے۔

سورۃ اللہب کی تفسیر
اگلی جو سورت ہے سورۃ لہب، اس سورت کی پہلی ہی آیت میں ابو لہب کا ذکر ہے اس لیے اس سورت کا نام سورۃ لہب ہے۔ مکہ مکرمہ میں اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کے دشمنوں اور مخالفت کرنے والوں کی بڑی تعداد تھی۔ لیکن جو لوگ اس دشمنی اور مخالفت میں آگے آگے تھے ان میں ایک ابو لہب تھا۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سب سے زیادہ ان میں جو آگے تھا وہ ابو لہب تھا۔ اور اس کی یہ دشمنی دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ افسوسناک تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ شخص اللہ کے رسول ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ سے چچا کا رشتہ رکھتا تھا۔ اور آپ ہی کے قبیلے بنو ہاشم میں ایک سردار کی حیثیت رکھتا تھا۔ تو رشتہ داری اور قرابت کی وجہ سے اگر وہ ایمان نہ بھی لاتا تب بھی اس کو چاہیے تھا کہ اللہ کے رسول ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ سے میرا چچا بھتیجے کا رشتہ ہے، تو اس کے بجائے اس کو چاہیے تھا کہ مخالفت نہ کرتے ہوئے حمایت اور طرفداری کرتا کہ رشتہ داری کا ایک تعلق ہے۔
جیسے آپ دیکھیں گے اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کے ایک چچا ابو طالب ہیں۔ ان کو حضرت ابو طالب کہا جاتا ہے۔ رضی اللہ عنہ نہیں کہہ سکتے، انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، لیکن ادب اور احترام میں ان کو حضرت ابو طالب کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے گرچہ اللہ کے رسول ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کے لائے ہوئے دین کو قبول نہیں کیا، بغیر ایمان کے اس دنیا سے گئے، لیکن اس کے باوجود پوری زندگی اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کی پشت پناہی کرتے رہے۔ آپ لوگ جب پڑھیں گے سیرتِ طیبہ میں تو آئے گا کہ اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ اپنے دعوت کے کام میں لگے ہوئے ہیں، زور و شور سے بتوں کی برائیاں بیان کر رہے ہیں، مکہ کے سرداروں میں کھلبلی مچ گئی۔ اور کسی طریقے سے وہ نبی ﴿عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ﴾ کو روکنا چاہ رہے ہیں۔ ایسے میں مشورہ کرتے ہیں اور حضرت ابو طالب کے پاس آتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ آپ اپنے بھتیجے محمد ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کو روکیے۔ وہ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور ایسے کام کو لے آئے ہیں جو ہم سے پہلے کسی اور نے نہیں لایا ہے، آپ کسی طریقے سے ان کو روکیے۔ تو مکہ کے سرداروں نے حضرت ابو طالب پر پریشر بنایا، دباؤ بنایا، کسی طرح آپ روکیے۔ اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کو بلاتے ہیں ابو طالب، اور کہتے ہیں کہ بیٹا! مجھ کمزور کاندھے پر اتنا بوجھ نہ رکھیے جس کو میں سہار نہ سکوں۔ مکہ کے سردار آئے تھے اس طرح کی بات کر رہے تھے۔
اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ نے عزیمت بھرا جواب دیا کہ چچا جان! اگر میرے ایک ہاتھ میں سورج رکھ دیں اور ایک ہاتھ میں چاند رکھ دیں اور پھر مجھ سے کہیں کہ اس دعوت کے کام سے رک جائے، تو میں رکنے والا نہیں ہوں۔ جب دیکھا کہ بھتیجے اتنے پرعزم ہیں، تو یہ نہیں کہا کہ بیٹا تم سمجھو اور مکہ کے سردار سمجھیں، اب میرا تمہارا معاملہ ختم، یہ نہیں کہا، بلکہ یہ کہا کہ جاؤ، اب تم کو جس طریقے سے کام کرنا ہے کرو، میں تمہارا پشت پناہ ہوں، میری زندگی میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، میرے جیتے جی کوئی تمہاری طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھے گا، میں تمہارے لیے ایک حمایتی اور طرفدار ہوں۔ جب یہ بات انہوں نے کہی تو اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کو ایک ہمت اور حوصلہ ملا، اور حضرت ابو طالب کی حیاتی تک مکہ کے دشمنوں کو نقصان پہنچانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اتنا زبردست ان کی پشت پناہی کی ہے۔
تو ابو لہب کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے تھا کہ ایک نمونہ ان کے سامنے تھا کہ ابو طالب جو دوسرے چچا ہیں، وہ اس قدر حمایت میں ہیں، لیکن یہ کیسا بدبخت انسان تھا کہ تمام دشمنوں میں سب سے زیادہ دشمنی میں یہ بڑا ہوا تھا۔ اور اس کی اسی بدبختی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جس دشمن کا ذکر اس کا نام لے کر قرآن کریم میں کیا ہے وہ یہی ابو لہب ہے، ورنہ اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کے تمام دشمنوں کا، جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے، اشارے کنائے میں آیا ہے، نام لے کر کسی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ سوائے ابو لہب کے کہ ابو لہب کا ذکر اللہ پاک نے قرآن میں نام لے کر کیا ہے اس لیے کہ اس کی بدبختی، اس کی بدنصیبی یہ تھی کہ قرابت اور رشتہ داری رکھتے ہوئے بھی اس نے اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کی دشمنی اور مخالفت میں سب سے آگے آگے پیش پیش رہا۔

سورۃ کا شانِ نزول
اس سورت کا شان نزول کیا ہے اور اس کا مضمون کیا ہے مختصراً دیکھ لیں۔ اللہ کے رسول ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ نے جب اسلام کی دعوت دینا شروع کی تو سب سے زیادہ جن کی طرف سے آپ کو طاقت اور تقویت ملی وہ بھی آپ کے چچا تھے حضرت ابو طالب، اور جس کی طرف سے آپ کو سب سے زیادہ تکلیف پہنچی وہ بھی آپ کا چچا تھا یعنی ابو لہب۔ ابو لہب کا اصل نام عبد العزیٰ تھا۔ اس کو ابو لہب کیوں کہا جاتا تھا؟ اس کی خوبصورتی اور چہرے کی خوش رنگی کی وجہ سے۔ یہ بڑا خوبصورت انسان تھا، اس کے چہرے پر سرخی رہا کرتی تھی، بڑا حسن و جمال اس کے چہرے پر تھا۔ جس کی وجہ سے اس کو ابو لہب کہا جاتا تھا، یعنی ایسا شخص جس کا چہرہ شعلے کی طرح دمکتا ہے۔
جب اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلی بار صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر اہل مکہ کو جمع کر کے دین کی دعوت دینے کا حکم ہوا ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ کہ آپ اپنے جو قریبی رشتہ دار ہیں ان کو دعوتِ دین دیجیے اور اسلام کا پیغام پہنچائیے، تو آپ صفا کی پہاڑی پر چڑھے، اہل مکہ کو آواز دی اور ان کو جمع کیا، ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی، تو اس وقت ابو لہب نے یہ جملہ کہا تھا ﴿تَبًّا لَكَ يَا مُحَمَّدُ، أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا﴾ کہ اے محمد! بربادی تمہاری ہو، کیا تم نے اس کام کے لیے ہم کو جمع کیا تھا؟ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی اور اس سورت میں ابو لہب اور اس کی بیوی کے خراب انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کی تباہی ہوگی اور کس طرح ہوگی، یہ بھی گویا اشارہ کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی بیوی کی بھی برائی اور اس کے خراب انجام کو ذکر کیا گیا، اس لیے کہ وہ بھی شوہر کے ساتھ شریک تھی اور اللہ کے نبی ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کو تکلیف پہنچایا کرتی تھی۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آپ ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کے راستے میں کانٹے بچھایا کرتی تھی۔ جس کی تفصیل تھوڑی سی ان شاء اللہ آگے آئے گی۔

﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ۝ مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾
ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ برباد ہو جائے۔ اس کی دولت اور اس نے جو کمائی کی تھی وہ اس کے کچھ کام نہیں آئی۔
سورت کی پہلی دو آیتوں میں ابو لہب کو بددعا دی گئی ہے کہ بربادی معاذ اللہ نبی کریم ﴿صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ﴾ کی نہیں ہے، بلکہ ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹے اور وہ برباد اور ہلاک ہو۔ یہ بددعا کا اثر تھا کہ ابو لہب کا یہ انجام ہوا کہ جنگِ بدر کے سات دن بعد اسے طاعون جیسی بیماری ہوئی۔ جسے عربی میں عدسہ کہتے ہیں۔ یہ متعدی بیماری سمجھی جاتی تھی اور جس شخص کو بھی عدسہ کی بیماری لگ جاتی تھی اہل مکہ اسے ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے، دور رہتے تھے۔ بالکل اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے تھے۔ اسی بے بسی کی حالت میں وہ مر گیا۔ اور مرنے کے بعد بھی کوئی اس کے قریب نہیں جا رہا تھا۔ اس کی لاش میں بہت زیادہ بدبو پیدا ہو گئی، اسی طرح تین دن گزر گئے۔ تو پھر آخر میں لوگوں نے اور اس کے بیٹوں نے کسی لکڑی کے سہارے سے اس کو ایک گڑھے میں دفن کر دیا اور اس طریقے سے اس سے چھٹکارا پایا۔
اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں جو بیان فرمایا ہے ﴿مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾ اس کی دولت اور اس نے جو کمائی کی تھی وہ اس کے کچھ کام نہیں آئی۔ اور واقعی نہیں آئی کہ مالدار ہو کر بھی بیماری کا علاج نہیں کر سکا اور سردار ہو کر بھی ایسی بے بسی کی حالت میں مرا اور ذلت کے ساتھ گڑھے میں پھینکا گیا۔ یہ تو دنیا کا حال ہے۔

آخرت کا انجام
 آخرت میں اس کے ساتھ کیا ہوگا؟ اس کو اگلی آیت میں بیان کیا گیا۔
﴿سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ۝ وہ بھڑکتے شعلوں والی آگ میں داخل ہوگا۔
یہ آخرت میں دوزخ میں جھونکا جائے گا۔ دیکھیے! دنیا کی سزا کے مقابلے میں یہ بڑی دردناک سزا ہے، جیسے دنیا میں مر گیا اور اس کے ساتھ جو ہوا؛ ہوا۔ اس کے بعد؛ چند دنوں کے بعد وہ ختم ہو گیا، تو یہ تو دنیا کا حال ہوا لیکن آخرت میں تو اس کو موت نہیں آئے گی اور آخرت میں دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا تو یہ بڑی دردناک سزا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

جیسے کو تیسا
بھڑکتے شعلے کو عربی میں لہب کہتے ہیں اور ابو لہب بھی اس کو اسی لیے کہتے تھے جیسا کہ پیچھے ذکر ہوا کہ اس کا چہرہ شعلے کی طرح سرخ تھا، وہ حسین تھا۔ قرآن کریم نے یہاں دوزخ کے شعلوں کے لیے یہی لفظ استعمال کیا ہے ﴿ سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ۝ _____ ﴿ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ﴾ اور آگے ہے __ ﴿ سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ۝ اور گویا ایک اشارہ کیا ہے کہ ابو لہب جو شعلے کی طرح حسین چہرے والا انسان تھا لیکن اپنی برائی اور نبی سے دشمنی کی وجہ سے وہ کیسی آگ میں جائے گا؟ ﴿ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ۝ یعنی شعلے والی آگ میں جھونکا جائے گا۔ اللہ تعالی نے بالکل جیسا تھا اس کو ویسی سزا دی ہے۔

علماء کرام کی دشمنی سے بچیں 
 یہاں رک کرکے ہم کو سمجھنا چاہیے کہ دیکھیے! نبی سے دشمنی کا کیا انجام ہوا؟ نبی کے وارثین جو علماء ہیں ان کی دشمنی سے ہم اپنے سینے کو پاک رکھیں اور ان کا بھی کینہ ہم اپنے سینے میں نہ آنے دیں، اس لیے کہ نبی کے وارثین ہیں، اگر نبی سے دشمنی کا یہ انجام ہے، ان کی مخالفت کا یہ برا اثر ہے اور اللہ کی طرف سے ایسی پکڑ ہوتی ہے تو علماء کے ساتھ بھی اگر کوئی دشمنی رکھتا ہے، ان کی مخالفت کرتا ہے اور ان کے اوپر کیچڑ اچھالتا ہے تو اس کو بھی بہرحال ڈرنا چاہیے کہ کہیں اللہ تعالی کی پکڑ اس کی، دنیا میں بھی نہ ہو جائے اور آخرت میں بھی نہ ہو جائے۔

اگلی آیتیں ہیں 
وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ۝ اور اس کی بیوی بھی لکڑیاں ڈھوتی ہوئی۔ ﴿ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَسَدٍ﴾ اپنی گردن میں بٹی ہوئی رسی لپیٹے ہوئے۔

ابو لہب کی بیوی کا انجام
ان دو آیتوں میں اس کی بیوی کا خراب انجام ذکر کیا گیا ہے، اس کی بیوی کا نام ہے؛ ام جمیل، اور یہ ابو سفیان ابن حرب جو مشہور نام ہے مکہ کے سردار، ان کی یہ بہن تھی لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سے نبی بنائے گئے تب سے، یہ دونوں میاں بیوی، ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل، جب تک زندہ رہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، یہ ابو لہب جو کیا ہی کرتا تھا، جب موقع ملتا وہ باز نہیں آتا حتی کہ جب اللہ کے نبی علیہ السلام نے دعوت دی اور اس کو بلایا، سب لوگ آئے تو اس وقت بھی اس نے چوکا نہیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب لوگوں کے سامنے ہلاکت اور بربادی کی بددعا کر دی، ﴿تَبًّا لَكَ يَا مُحَمَّدُ، أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا﴾ جس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی ایسے ہی اس کی بیوی بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت اور دشمنی رکھا کرتی تھی اور تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھی ہم نے پیچھے ذکر کیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں کانٹے بچھا دیا کرتی تھیں۔ تو یہ اس کی بیوی تھی۔
 ابو لہب مکہ کے دولت مند لوگوں میں تھا اور اس کی بیوی بھی باعزت گھرانے کی تھی جیسے سردار ابو سفیان ابن حرب ان کی بہن تھی لیکن ان کے اندر بخل اور کنجوسی بہت زیادہ تھی اسی بخل اور کنجوسی کی وجہ سے یہ حال تھا کہ اس کی بیوی اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا ڈھیر اٹھا کر لاتی تھی، اور اسے بن ہوئی رسی سے باندھ کر، اپنی پیٹھ پر رکھتی اور اس رسی کو اپنی گردن پر لپیٹ لیا کرتی تھی، باندھ لیا کرتی تھی، تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ ﴿ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ، فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَسَدٍ ﴾ کہ اس کی بیوی بھی ہلاک ہوگی جو لکڑیاں ڈھوتی ہے۔ اور اس کی گردن میں بٹی ہوئی رسی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ ہوا کہ جو لکڑی اٹھا کر لایا کرتی تھی، اسی کی رسی اس کی گردن کا پھندا بن گئی اور وہ مر گئی۔ یعنی اس حال میں اللہ تعالیٰ نے اس کو موت دی کہ جس رسی کے ذریعے سے وہ لکڑیاں باندھ کر لایا کرتی تھی، اپنی گردن میں باندھا کرتی تھی، کسی وجہ سے گری یا جو بھی شکل پیدا ہوئی، اسی کی رسی اس کی گردن کا پھندا بن گئی اور وہ مر گئی۔ یہ تو اس کا دنیا کا حال ہوا۔

آخرت کا انجام
 اور آخرت میں کیا ہوگا؟ آخرت میں ذکر کر دیا گیا ﴿سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ۝ وَامْرَأَتُهُ﴾ کہ ابولہب شعلوں والی آگ میں داخل ہوگا اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی داخل ہوگی جو لکڑیوں کو ڈھونے والی ہے اور گردن میں بٹی ہوئی رسی لپیٹنے والی ہے۔ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ یہ جو حالت بیان کی گئی ہے کہ وہ لکڑیوں کو ڈھونے والی ہے اور اس کی گردن میں بٹی ہوئی رسی ہو گی تو بتایا گیا ہے کہ یہ دوزخ میں داخلے کی حالت کا بیان ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ دوزخ میں لکڑیوں کا گٹھر اٹھائے ہوئے داخل ہوگی۔ آیت میں دونوں معنی کی گنجائش ہے، دونوں معنی لیے جا سکتے ہیں۔
 اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ دعا کر لیں۔

دعا
﴿اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ كُلَّمَا ذَكَرَهُ الذَّاكِرُونَ وَصَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ كُلَّمَا غَفَلَ عَنْ ذِكْرِهِ الْغَافِلُونَ﴾ ﴿اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ الْعَظِيمَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا وَنُورَ أَبْصَارِنَا وَجِلَاءَ أَحْزَانِنَا وَذَهَابَ هُمُومِنَا وَغُمُومِنَا﴾ ﴿اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ لَنَا فِي الدُّنْيَا قَرِينًا وَفِي الْقَبْرِ مُونِسًا وَعَلَى الصِّرَاطِ نُورًا وَفِي الْجَنَّةِ رَفِيقًا وَمِنَ النَّارِ سِتْرًا وَحِجَابًا وَإِلَى الْخَيْرَاتِ كُلِّهَا دَلِيلًا، فَاكْتُبْنَا عَلَى التَّمَامِ وَارْزُقْنَا أَدَاءً بِالْقَلْبِ وَاللِّسَانِ﴾ ﴿اللَّهُمَّ زَيِّنْ أَخْلَاقَنَا بِالْقُرْآنِ، اللَّهُمَّ نَوِّرْ قُلُوبَنَا بِالْقُرْآنِ﴾

اے اللہ! ہم سب کے بیٹھنے کو قبول فرما لیجیے۔ اے اللہ! قرآن کریم سے ہم کو خوب گہرا تعلق عطا فرما دیجیے۔ قرآن کریم سے محبت اور عشق عطا فرما دیجیے۔ قرآن کریم کی جو بھی تعلیمات ہیں، اس پر ہم سب کو عمل پیرا کر دیجیے۔ اے اللہ! آج کے درس میں جو باتیں آئی ہیں، ان باتوں پر ہمیں عمل کی توفیق عطا فرما دیجیے۔ اور جس شخص کا تذکرہ برائی کا ہوا ہے ابو لہب، اس کے اندر جو برائیاں تھیں، اے اللہ! ہم سب کو ان برائیوں سے محفوظ و مامون فرما دیجیے۔ اس کی بیوی میں جو برائی تھی جتنی بھی عورتیں ہیں ہماری، ان سب عورتوں کو ایسی برائیوں سے محفوظ فرما دیجیے۔

﴿وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ﴾

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے