سورۃ الفاتحہ (درس 3)


حمد و ثنا اور سورہ فاتحہ کی ابتدائی آیات
  پناہ میں آتا ہوں میں اللہ کی شیطان مردود سے۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان بار بار رحم کرنے والا ہے۔ ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، اور روزِ جزا کا، بدلے کے دن کا مالک ہے۔ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے کی رہبری فرما دیجیے، ان لوگوں کے راستے کی جن پر آپ نے انعام فرمایا ہے۔ نہ کہ ان لوگوں کے راستے کی جن پر آپ کا غضب نازل ہوا اور نہ ہی گمراہ لوگوں کے راستے کی۔

گزشتہ دروس کا خلاصہ
پچھلے دروس میں ہم لوگ سورہ فاتحہ کی فضیلت سے واقف ہوئے۔ حدیث قدسی کی روشنی میں سورہ فاتحہ کی کیا فضیلت ہے، پچھلے درسِ قرآن میں ہم نے اس کو جانا۔ اس کے بعد تعوذ اور تسمیہ کی تفصیلی معلومات ہمیں حاصل ہوئیں۔ آج ہم انشاءاللہ سورہ فاتحہ کی ابتدائی آیات کی تفسیر جانیں گے۔

الحمد للہ کے معنی اور تشریح
  پہلی آیت ہے: ﴿الحمد للہ رب العالمین﴾ الحمد، حمد کے معنی ہیں تعریف کے۔ حمد کے ایک معنی شکر کے بھی ہیں، لیکن اگر غور کریں تو دونوں ایک ہی معنی ہیں، اس لیے کہ جب کسی کی تعریف کی جاتی ہے، کسی کی حمد کی جاتی ہے، تو اس کے پیچھے شکر ہی کا جذبہ ہوتا ہے۔ اس نے کوئی احسان کیا ہوتا ہے، کوئی بھلائی کی ہوتی ہے، ہمارے آڑے وقت میں کام آیا ہوا ہوتا ہے تو ہم اس کی تعریف کرتے ہیں۔ تو تعریف، اس کے پیچھے شکر کا جذبہ ہوتا ہے، تو دونوں معنی گویا بڑے قریب ہیں۔ ﴿الحمد للہ رب العالمین﴾ تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، ایسے ہی شکر اللہ ہی کے لیے ہے، دونوں معنی لیے جا سکتے ہیں۔ اس میں جو الف لام ہے، الحمد میں جو الف لام ہے، یہ استغراق و معرفہ کا ہے، اور یہاں اس کی وجہ سے معنی ہونگے: ہر قسم کی تعریف۔ حمد کے معنی ہیں تعریف، شکر، لیکن جب ال لگ گیا، الحمدتو اس کے معنی ہوتے ہیں ہر قسم کی تعریف، تمام تر شکر گزاری للہ، اللہ ہی کے لیے ہے۔
  اگر غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اس لیے کہ دنیا بھر میں جہاں بھی جس چیز کی بھی تعریف ہو رہی ہے، حقیقتاً وہ اللہ ہی کی تعریف ہے۔ جس چیز کی بھی تعریف ہو رہی ہوتی ہے، اس میں قابلِ تعریف جو وصف ہے وہ اللہ ہی نے رکھا ہے۔ اور اگر کسی چیز کی تعریف ہو رہی ہوتی ہے تو اصل میں وہ اس کے پیدا کرنے والے کی تعریف ہوتی ہے۔ جیسے اگر یہ مسجد بہت خوبصورت ہے، ہم اس کی تعریف کر رہے ہیں، ہمارے بازو میں اس کا معمار، اس کا انجینئر بیٹھا ہوا ہے، جب وہ سن رہا ہے مسجد کی تعریف، ابھی اس کی ہم تعریف نہیں کر رہے، مسجد کی تعریف کر رہے ہیں کہ کتنی خوبصورت مسجد ہے ماشاءاللہ! اسمائے حسنیٰ لکھے ہوئے ہیں، ادھر گل بوٹے ہیں، منبت کاری ہے، بہت اچھا نظام ہے، خوبصورتی بھی ہے، بہت اچھی مضبوطی بھی اس کے اندر ہے، اب یہ جب تعریف وہ سنے گا، معمار، انجینئر، تو بڑا خوش ہو رہا ہے۔ خوش ہوگا۔ اگر کوئی اس سے پوچھے کہ تم کیوں خوش ہو رہے ہو؟ مسجد کی تعریف کی جا رہی ہے، اس میں تمہارا کیا؟ تو ایک جملہ اگر وہ کہہ دیا کہ ارے بھئی! میں انجینئر ہوں، اس مسجد کو میں نے ہی بنایا ہے، تو ہم کہیں گے ہاں! اس کا خوش ہونا بجا ہے، کیوں؟ اس لیے کہ یہ جو چیز کی تعریف ہو رہی ہے تو اصل میں اس کے بنانے والے کی تعریف ہو رہی ہے۔
  ایسے ہی پوری کائنات اور اس کا ذرہ ذرہ، اس کا بنانے والا اللہ ہے۔ ہر چیز کو اللہ نے بنایا ہے، ہر ہر چیز کو، خود ہمارا اپنا وجود بھی اللہ ہی نے بنایا ہے۔ ہم جس چیز سے پیدا ہوئے ہیں، نطفہ، اس کو بھی اللہ ہی نے بنایا ہے۔ ہم اس کو بھی نہیں بنائے، کسی اور نے نہیں بنایا، اللہ ہی نے بنایا ہے، تو ہر چیز کا جب خالق اللہ ہی ہے تو مخلوق کی جتنی بھی جیسی بھی تعریف کی جائے گی، حقیقت کے اعتبار سے وہ تعریف اللہ ہی کی ہوگی۔ اگر کسی انسان کی تعریف کی جاتی ہے اس کے حسن و جمال کی، کہ بڑا خوبصورت ہے، آنکھیں ایسی، کان ایسے، ناک نقشہ اتنا اچھا، اس کے اندر جمال ایسا پھر کمال ایسا، کہ یہ کمال، وہ کمال، یہ عادات، یہ اس کے اندر صفات، جتنی بھی تعریف کر رہے ہیں، تو حقیقت میں وہ خالقِ انسان کی تعریف ہے۔ اس لیے کہ اللہ ہی نے انسان کو پیدا کیا اور اس انسان کے اندر اللہ ہی نے جمال، کمال اور سارے اوصاف و صفات رکھے ہیں۔ تو یہ ہے حقیقت کے اعتبار سے ﴿الحمد للہ﴾ تمام تعریف اللہ ہی کی ہے۔

مومن اور غیر مومن کی حمد میں فرق
  ایک ایمان والا وہ بھی تعریف کرتا ہے، ہم آپ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ ایک غیر ایمان والا بھی تعریف کر رہا ہے، لیکن ہمارے اور غیر ایمان والے کی حمد میں، تعریف میں، شکر گزاری میں فرق کیا ہے؟ ایک بلاواسطہ اور ایک بالواسطہ۔ جو غیر ایمان والا ہے وہ بالواسطہ اللہ کی تعریف کر رہا ہے، وہ چیزوں کی تعریف کر رہا ہے اور اسی میں اس کی نظر اٹک کر کے رہ گئی ہے کہ گائے، واہ! کتنا اچھا دودھ دیتی ہے، میٹھا ہے، خوشگوار ہے۔ تو وہ اس کی تعریف کر رہا ہے، حقیقت میں وہ اللہ ہی کی تعریف ہے لیکن بالواسطہ ہے، یہاں رک گیا وہ۔
  ایک ایمان والا جب وہ دیکھتا ہے کہ ہاں! گائے ہے، دودھ دے رہی ہے، بڑا خوشگوار دودھ دے رہی ہے، تو فوراً اس کی حقیقت کی طرف جاتا ہے، اس کا ذہن کہ ارے! اس کو خلق کرنے والا کوئی اور ہے، اور وہ تعریف کا مستحق ہے، اسی نے اس کے اندر اتنا اچھا گن رکھا ہے کہ یہ کھاتی ہے ہرا ہرا چارہ اور جسم کے اندر اس کے خون ہوتا ہے سرخ سرخ، اور اس کے بعد اس سرخ خون ہرے چارے کے درمیان سے خوشگوار دودھ نکالتا ہے، کون؟ یہ گائے اتنی عقلمند کب سے ہو گئی کہ وہ دودھ نکالنے لگی؟ ہرا ہرا چارہ کھائے اور سرخ اور ہرے سبزے کے اندر سے، درمیان سے اتنا اچھا خوشگوار دودھ نکال دے، اس کے اندر اتنی عقل کہاں سے آ گئی؟ تو وہ فوراً رجوع کرتا ہے کہ نہیں! اللہ تعالیٰ ہے، اور اللہ کے کلام کی طرف اس کی نظر جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں کہتے ہیں: ﴿وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً ﴾ تمہارے لیے مویشیوں میں بڑی عبرت کا سامان ہے۔ ﴿نُسْقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهِ مِن بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِّلشَّارِبِينَ﴾ کہ ہم تمہیں، اس کے پیٹ میں جو ہے اس میں سے تمہیں ہم پلاتے ہیں، خون اور گوبر کے درمیان سے خوشگوار دودھ نکال کر کے تمہیں پلاتے ہیں۔ وہ دودھ کیسا ہے؟ ﴿سَائِغًا لِّلشَّارِبِينَ﴾ پینے والوں کے لیے بڑا خوشگوار۔ تو اس کی نظر جاتی ہے، وہ کہتا ہے ﴿الحمد للہ﴾ تو راست، بلاواسطہ ایک ایمان والا اللہ کی حمد بیان کرتا ہے، اللہ کی تعریف کرتا ہے، تو یہ غیر ایمان والے اور ایمان والے کی تعریف میں فرق ہے۔ غیر ایمان والا بالواسطہ کرتا ہے اس لیے اس کو اجر بھی نہیں ملتا۔ اور ایمان والا بلاواسطہ اللہ کی تعریف کرتا ہے، ڈائریکٹ اللہ کی تعریف کرتا ہے کہ یہ گائے، اس کے اندر یہ دودھ، یہ اتنا اچھا، اللہ بنانے والا ہے اس کا، اللہ کی حمد بیان کرتا ہے، ﴿الحمد للہ﴾، ﴿سبحان اللہ﴾ اس نے یہ دودھ ہمارے لیے بنایا۔
تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا  
کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا  
یہ سر پہ لاجوردی ایک سائباں بنایا
  ایسی پوری حمد ہے، اسی میں ہے کہ تعریف اس خدا کی جس نے ہمارے لیے گائے بنائی، پھر گائے سے دودھ نکلتا ہے، پھر مکھن نکلتا ہے، دہی ملتی ہے، تو یہ راست اللہ کی تعریف کرتا ہے حمد کے کلمات کے ساتھ، اللہ کی تسبیح کے ساتھ، تو پھر اس کو اللہ اجر دیتے ہیں۔

حمد و شکر کا اجر و ثواب
  اور کتنا اجر ملتا ہے؟ جب کوئی بندہ ﴿الحمد للہ﴾کہتا ہے تو حدیث میں آتا ہے: ﴿الحمد للہ تملا المیزان﴾ اللہ کی حمد بیان کرنا، یہ ترازو جو اعمال نامے کا ترازو ہوگا، جو پلڑا ہوگا، اس کو بھر دیتا ہے۔ اور اگر اور بڑھا دے، ﴿سبحان اللہ والحمد للہ تملا ما بین السماوات والارض﴾ اتنا اجر اللہ دیتے ہیں ﴿سبحان اللہ﴾ اور ایک ﴿الحمد للہ﴾ کے کہنے پر کہ آسمان اور زمین کا خلا اس اجر و ثواب سے بھر جاتا ہے۔ کیوں اتنا دے دیتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ معرفت کو پا لیا، وہ حقیقت کو پا لیا کہ یہ جس کی میں تعریف کر رہا ہوں یہ اصل تعریف کا مستحق نہیں ہے، تعریف کا مستحق تو اس کا بنانے والا ہے۔ تو جب وہ حقیقت کو پا لیتا ہے تو سب سے بڑا حق اللہ اس کو اتنا نوازتا ہے کہ جس کی انتہا نہیں۔ تو محترم بزرگو، دوستو! یہ ہے ﴿الحمد للہ﴾

نبی کریم ﷺ کا شکر گزار ہونا اور مقام محمود
  اسی کے ساتھ ہم آگے بڑھیں، غور کرتے ہیں، تمام مذاہب اور ادیان کا جب مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مذاہب کی جو تعلیمات تھیں، اللہ ہی نے تمام مذاہب بنائے، شروع میں وہ سچ تھے، حق تھے، بعد میں انحراف ہو گیا، بعد میں وہ راستے سے ہٹ گئے، اس کے اندر تحریف ہو گئی۔ تو تمام مذاہب اور ادیان میں خدا کی حمد کی تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنا ہے، گاڈ کی حمد بیان کرنا ہے، ایشور کی تعریف کرنا ہے۔ تو تمام مذاہب میں اس کی تعلیم ہے۔ اور تمام مذہبی پیشوا جو ہوتے ہیں وہ اس اللہ تعالیٰ کی حمد میں، خدا کی تعریف میں بہت آگے ہوتے ہیں، سب سے زیادہ وہ تعریف کرتے ہیں، اس کے بعد عوام اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے والی ہوتی ہے۔ لیکن ہم غور کریں گے کہ اس معاملے میں بھی سب سے بڑھ کر کے اللہ کی حمد کرنے والے ہمارے آپ کے پیغمبر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ سب سے زیادہ اللہ کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔ ایک صفاتی نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے احمد، اس نام کے معنی ہیں خوب تعریف کرنے والا، خوب تعریف کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کا یہ صفاتی نام رکھا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ یہ سب سے زیادہ حمد بیان کرنے والے ہیں۔
   ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے ہر عمل سے حمد کو جوڑ دیا، اللہ کی حمد کو زندگی کے ہر عمل سے جوڑ دیا، اللہ کے شکر کو زندگی کے ہر عمل سے جوڑ دیا۔ جیسے ہم کھانا کھا کر فارغ ہوتے ہیں، مسنون دعا کیا ہے؟ ﴿الحمد للہ الذی اطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمین﴾ شکر اللہ کا جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور مسلمانوں میں سے بنایا۔ اگر مسلمان نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿کلوا وتمتعوا قلیلا انکم مجرمون﴾ کھا لو، پی لو لیکن آخر انجام کیا ہوگا؟ تم مجرم ہو اور اٹھا کر کے جہنم کا ایندھن بنا دیے جاؤ گے۔ آج کھا لو دنیا میں میری رحمت سے، الرحمٰن ہوں میں، تو میری رحمت دنیا میں ہے، کافر کو بھی اور مومن کو بھی، ٹھیک ہے میں کافر کو بھی کھلاؤں گا مومن کو بھی کھلاؤں گا، لیکن کافرو! تم کھا لو دنیا میں ﴿کلوا وتمتعوا قلیلا﴾ کچھ دن کے لیے، ﴿انکم مجرمون﴾ تم مجرم ہو۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ اللہ نے اسلام ہم کو دیا ہے۔ تو جب کھانا کھاتے ہیں تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نعمت کو بھی شامل کرتے ہیں کہ شکر اللہ کا جس نے کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا کہ مسلمان بننے کی وجہ سے اس نعمت کا حساب نہیں دینا ہوگا، شکر گزاری ہو گئی اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کھلائے گا۔ تو شکر کو جوڑ دیا کھانے سے۔
  اسی طرح پانی پییں گے، پانی پینے کے بعد کی دعا ہے: ﴿الحمد للہ الذی سقانی عذبا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحا اجاجا بذنوبی﴾ شکر اللہ کا جس نے بڑا خوشگوار پانی پلایا، محض اپنی رحمت سے پلایا، میرا کوئی کمال نہیں، محض اپنی رحمت سے پلایا، اور میرے گناہ ایسے ہیں کہ اس کو کڑوا بنا دیتا، اس کو نمکین بنا دیتا، کھارا بنا دیتا، لیکن اللہ نے میرے گناہوں کی وجہ سے اس پانی کو کڑوا اور کھارا نہیں بنایا۔ یہ شکر کی بات ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پینے کے بعد شکر کو جوڑ دیا۔
  استنجا سے نکلے: ﴿غفرانک الحمد للہ الذی اذہب عنی الاذی وعافانی﴾ اے اللہ! تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں کہ جب تک میں استنجا میں تھا میں نے آپ کے ذکر سے غفلت برتی، میں آپ کا ذکر نہیں کر سکا اس لیے کہ اچھی حالت میں نہیں تھا، میں آپ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، لیکن میں آپ کا شکر کرتا ہوں ﴿غفرانک اطلب الغفران﴾ مغفرت طلب کرتا ہوں اور شکر کرتا ہوں ﴿الحمد للہ﴾ کس بات پر؟ ﴿الذی اذہب عنی الاذی وعافانی﴾ جس نے مجھ سے نجاست کو، تکلیف دہ چیز کو دور کر دیا، پیشاب پاخانے کو دور کر دیا اور مجھے عافیت بخشی۔ دواخانے میں جا کے دیکھیں جن کا پیشاب اور پاخانہ رک گیا ہو، مچھلی کی طرح تڑپتے ہیں، مچھلی کی طرح تڑپتے ہیں اس لیے کہ پیشاب پاخانہ رک گیا ہے اور وہ جب رک گیا ہے تو بہت اندر تکلیف ہو رہی ہے۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ عافیت کے ساتھ نکل جاتا ہے، اگر رک گیا تو پریشانی اور بہت نکل رہا ہے تو پریشانی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، اس کو شکر کے ساتھ جوڑ دیا ﴿الحمد للہ الذی عافانی الذی اذہب عنی الاذی وعافانی﴾ 
   چھینک آئے تو ﴿الحمد للہ﴾ دماغ کی غلاظت نکل گئی اور ہلکا ہو گیا سر ﴿الحمد للہ﴾، اللہ تیرا شکر ہے۔ یہاں تک ہے کہ اگر مبتلائے مصیبت ہے، پریشانی میں ہے، کسی نے مزاج پوچھ لیا تو اس وقت بھی ہے: ﴿الحمد للہ علیٰ کل حال﴾ ہر حال میں اللہ کا شکر، اللہ کی حمد، اگر اس نے مصیبت میں رکھا ہے، بیماری دی ہے، تب بھی اللہ کی حمد، اللہ کا شکر

یہ ہے ہمارے نبی کی شان! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اعلیٰ درجے کے شکر گزار بندے ہیں۔ سب سے زیادہ شکر گزار بندے ہیں۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مقام ملا ہے، وہ مقام کسی کو نہیں ملا اور وہ مقام حمد کی وجہ سے ملا ہے، وہ مقام ہے مقامِ محمود۔ اذان ہو جاتی ہے اس کے بعد کون سی دعا ہم کرتے ہیں؟ ﴿اللہم رب ہذہ الدعوۃ التامۃ والصلاۃ القائمۃ آت محمدا الوسیلۃ والفضیلۃ وابعثہ مقاما محمودا الذی وعدتہ انک لا تخلف المیعاد﴾ مقام محمود ایک ایسا مقام ہے، قیامت کے دن اس سے زیادہ اونچا مقام کسی انسان کو نہیں ملے گا۔ اور پوری نوعِ انسانیت میں فقط ایک شخص کو ملے گا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ وہ مجھے ملے گا، اور کہا کہ تم دعا کرنا، امت سے کہا کہ تم میرے لیے دعا کرنا اس مقام محمود کو میں پا لوں۔ بہت اونچا مقام ہے۔ اور یہ شکر گزاری پر ملتا ہے، حمد پر ملتا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی نام محمد، سب سے زیادہ تعریف کیا ہوا، محمد اور صفاتی نام احمد ، اور مقام کیا مل رہا ہے؟ محمود معلوم یہ ہوا کہ محمد جس کی تعریف کی جائے، یہ اس بنیاد پر مل رہا ہے کہ یہ سب سے زیادہ حمد الٰہی کرنے والے ہیں۔ تو مخلوق میں بھی ان کی حمد بیان کی جا رہی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارا نام لیں عزت کے ساتھ اور تعریف کریں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اللہ کی تعریف کریں۔ اگر ہم اللہ کی تعریف کریں گے تو اللہ مخلوق سے ہماری تعریف کروائے گا۔ اگر ہم اللہ کا شکر ادا نہیں کیے، اللہ کی تعریف نہیں کیے، تو مخلوق سے بھی اچھائی کی اور اچھے کلمات کی امید نہیں رکھنا چاہیے۔

عملی شکر گزاری اور تہجد
  تو یہ شکر گزاری؛ حمد، ایک ہے زبان کے ذریعے، اور ایک شکر گزاری عمل کے ذریعے۔ عمل کی شکر گزاری رات کی عبادت ہے، تہجد کی عبادت ہے۔ جب یہ مقام محمود جو حمد کی بنیاد پر مل رہا ہے، شکر کی بنیاد پر مل رہا ہے، تو اس کو جب ذکر کیا اللہ تعالیٰ نے کہ یہ تمہیں دیا جائے گا تو اس سے پہلے کہا کہ تہجد پڑھو۔ ﴿اقم الصلاۃ لدلوک الشمس الی غسق اللیل وقرآن الفجر ان قرآن الفجر کان مشہودا ومن اللیل فتہجد بہ نافلۃ لک عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا﴾ رات میں اٹھو، تہجد پڑھو یہ تمہارے لیے ایک اضافی عبادت ہے ﴿نافلۃ لک﴾، ﴿عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا﴾ امید ہے کہ اللہ تمہارے اس عمل کی وجہ سے مقام محمود عطا کرے۔ پیر سوج گئے اتنی لمبی لمبی تہجد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے ہیں۔ ایک رکعت میں سورہ بقرہ پڑھے، پیچھے صحابی ہیں سوچے کہ اب تو جھک جائیں گے ڈھائی پارے کی سورہ بقرہ ہے۔ سورہ آل عمران شروع کر دی، سورہ آل عمران بھی کافی ڈیڑھ پارہ دو پارے کی، وہ بھی پوری پڑھ لی، کہا کہ اب تو جھک جائیں گے۔ پھر نہیں، پھر آگے والی سورہ مائدہ شروع کر دی، وہ پیچھے صحابی بیچارے وہ ہمت ہار دیے، بیٹھ گئے، الگ ہو گئے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی لمبی لمبی تہجد پڑھا کرتے تھے کہ پیر، پیر مبارک سوج جایا کرتے تھے، ورم پڑ جایا کرتا تھا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ﴿قد غفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک وما تاخر﴾ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب معاف کر دیے، پھر اتنی مشقت کیوں اٹھا رہے ہیں عبادتوں میں؟ تو کیا جواب دیا؟ ﴿افلا احب ان اکون عبدا شکورا﴾ کیا جب اللہ نے میرے ساتھ اتنا کرم کا معاملہ کیا ہے، اگلے بھی پچھلے بھی سب معاف کر دیا، تو کیا میں شکر گزاری نہ کروں؟ اور اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ میں یہ عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کر رہا ہوں۔ تو یہ جو ہے نا، ایک زبان کی شکر گزاری ہے ﴿الحمد للہ﴾ کے ذریعے سے اور دوسری شکر گزاری عمل کی شکر گزاری ہے۔ یہ راتوں کی عبادت فرائض کے بعد، فرائض چھوڑ کے نہیں، فرائض چھوڑ کے نہیں۔ اگر کوئی چٹنی کھائے اور روٹی چھوڑ دے تو طاقت آئے گی؟ نہیں، روٹی کھانا ضروری ہے۔ چٹنی کھائیں گے مزہ اس کا بڑھ جائے گا اور ذرا سا ہضم ہو جائے گا۔ کچومر، سلاد یہ سب کھائیں گے تو ذرا زیادہ کھایا جائے گا، طاقت بنے گی، اچھی طاقت آئے گی۔ تو یہ جو تہجد اور نفلی عبادتیں ہیں، یہ سلاد ہیں، یہ گویا اچار ہیں۔ یہ غذا کو ہضم کرتی ہیں تو فرض عبادتوں میں یہ معاون ہیں۔ فرض عبادت اللہ کا قرب دلاتی ہیں، یہ نوافل اس میں اور اضافہ کر دیتی ہیں۔ تو یہ تہجد کی نماز پڑھنا ہے مگر فرض چھوڑ کر کے نہیں، فرض کے بعد اس کو پڑھنا ہے اور جب فرض ادا کر لیں پھر تہجد پڑھیں تو پھر اللہ کو بڑا پیار آتا ہے۔

اللہ کے شکر گزار بندے قلیل ہیں
  تو شکر گزاری ایک زبان سے ہے حمد، اور ایک شکر گزاری عمل کی۔ یہ عمل کی شکر گزاری، یہ شکر گزاری کرنے والے بہت تھوڑے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بھی عظیم نعمتیں سلیمان علیہ السلام کو دیا تھا، بادشاہ بنایا تھا، اس سے آگے کوئی نعمت نہیں ہے، اور اخروی اعتبار سے بھی عظیم ترین نعمت دیا تھا، نبی بنایا تھا، نبوت سے آگے آخرت کے اعتبار سے کوئی نعمت نہیں ہے۔ تو یہ جب دنیا کی اور دین کی یعنی آخرت کی نعمتوں کو جمع کر دیا اللہ تعالیٰ نے، تو اس وقت حکم دیا کہ اتنی نعمت تمہیں حاصل ہے اب کیا کرو؟ شکر گزاری کا عمل کرو: ﴿اعملوا آل داؤد شکرا﴾ اے داؤد کے خاندان والو! شکر کا عمل کرو۔ شکر کے بول نہیں بولا، ﴿قولوا آل داؤد شکرا﴾ نہیں کہا، ﴿قولوا﴾ قول ﴿قولوا آل داؤد شکرا﴾ نہیں کہا، کیا کہا؟ ﴿اعملوا﴾ عمل، شکر کا عمل کرو۔ تو اللہ تعالیٰ کو قول سے زیادہ عمل پسند ہے۔ قول بھی پسند ہے اسی لیے تو آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر دے اتنا بڑا اجر دے رہا ہے ﴿سبحان اللہ﴾، ﴿الحمد للہ﴾ کہنے پر، ﴿الحمد للہ﴾ کہنے پر ﴿تملا المیزان﴾ پورا پلڑا بھر جا رہا ہے، اتنا اجر دے رہا ہے۔ تو قول بھی اللہ کو پسند ہے لیکن عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے، اس کا حکم دیا﴿اعملوا آل داؤد شکرا﴾ ۔ اور کہا ﴿وقلیل من عبادی الشکور﴾ میرے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں۔
تو قلیل کا لفظ آیا ہے، قلیل۔ ایک بدوی، عرب کا دیہاتی طواف کر رہا تھا اور دعا کر رہا تھا، عمر فاروق رضی اللہ عنہ گزر رہے تھے اس کی دعا کو سنا۔ کہہ رہا تھا: اللہ! مجھے قلیل بندوں میں شامل فرما، وہ قلیل، قلیل بندوں میں مجھے شامل فرما۔ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ذہن گیا کہ یہ قلیل بندوں کو مانگ رہا ہے، کثیر بندوں کی طرف ہونا چاہیے، اس لیے کہ جو امت کے سوادِ اعظم کے ساتھ رہے گا، امت کا طبقہ جدھر زیادہ ہے تو وہ حق پر ہے، اس کی نشانی ہے سوادِ اعظم۔ تو یہ قلیل کی طرف کیوں جا رہا ہے؟ کثیر کی طرف جانا چاہیے، جس طرف زیادہ بندے ہیں۔ تو رک گئے اور کھٹک گئے کہ کہیں غلطی تو نہیں کر رہا ہے۔ اس سے کہا کہ بدوی! تو کیا دعا کر رہا ہے، قلیل کیوں مانگ رہا ہے؟ کثیر مانگنا چاہیے نا۔ جس طرف زیادہ بندے ہیں، ﴿من شذ شذ فی النار﴾ جو جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں اکیلے ڈال دیا جائے گا۔ اس لیے سب کے ساتھ مل کے رہنا ہے، جماعت کا حکم دیا گیا، اکیلے گھر پر نماز نہیں پڑھنا ہے، جماعت کے ساتھ جمعہ کا اہتمام، عیدین کا اہتمام، تو اسلام جماعت کو پسند کرتا ہے، اکیلے رہنے کو پسند نہیں کرتا۔ تھوڑے نہیں، کثیر لوگ ہوں۔ زیادہ اگر کھانے میں ہاتھ جائے تو اللہ کی برکت آتی ہے، اکیلے اکیلے کھانا جائز ہے لیکن اکیلے اکیلے یہ برکت کو کم کر دیتا ہے۔ تو کہا کہ تو قلیل کیوں مانگ رہا ہے، کثیر مانگنا چاہیے۔ تو اس نے کہا کہ آپ نے قرآن کریم کی آیت نہیں پڑھی، اللہ نے کہا ہے: ﴿وقلیل من عبادی الشکور﴾ میرے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں، تو میں اللہ سے مانگ رہا ہوں کہ ان تھوڑے بندوں میں مجھے بھی شامل کر لے۔ تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرب کا بدوی بھی عمر سے زیادہ قرآن کا سمجھنے والا ہے۔ عرب کا بدوی بھی عمر سے زیادہ قرآن کو سمجھنے والا ہے۔ تو یہ چیز ہے کہ قلیل بندے ہوں گے شکر گزار۔
  ایک روایت میں، حدیث میں آتا ہے، قیامت کا دن ہوگا، میدانِ محشر برپا ہوگا، اس وقت حساب کتاب کے لیے ساری مخلوق حاضر ہوگی، پریشان ہوں گے جلدی سے حساب شروع ہو، تو اس وقت اللہ تعالیٰ آواز لگائیں گے: ﴿این الذین تتجافی جنوبہم عن المضاجع﴾ کون لوگ ہیں جن کے پہلو بستروں سے راتوں میں الگ رہا کرتے تھے؟ کھڑے ہو جاؤ، کھڑے ہو جاؤ۔ تو اس میں سے کچھ لوگ کھڑے ہوں گے، حدیث میں ہے: ﴿وہم قلیل﴾ وہ کیسے ہوں گے؟ قلیل، تھوڑے سے ہوں گے،﴿وہم قلیل﴾ ان کے لیے حدیث کے الفاظ ہیں، حدیث میں بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کہیں گے: جاؤ! تم بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جاؤ، تمہارا حساب کتاب نہیں ہوگا، تم جنت میں یوں ہی چلے جاؤ۔ اس کے بعد پھر مخلوق کا حساب شروع ہوگا۔ بڑی حیرت کی بات ہے نا؟ لیکن اگر غور کریں تو حیرت کی بات نہیں ہے یہ عین انصاف ہے۔ عین انصاف کی بات ہے، اور اللہ سے بڑھ کر کے انصاف کرنے والا کون ہوگا؟ ﴿ان اللہ شاکر علیم﴾ اللہ سے بڑھ کر کے قدرداں کون ہوگا؟ اللہ شاکر ہے، قدرداں ہے اور علیم ہے، علم والا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ ان بندوں نے عملی شکر گزاری بھی کر دی، جتنی نعمتیں دیا تھا ان نعمتوں پر زبان سے بھی شکر ادا کیا اور راتوں کو بستروں سے علیحدہ رہ کر کے، میرے حضور مصلے پر کھڑے ہو کر کے، میری عبادتیں کر کے میری عملی شکر گزاری بھی کر دی، اب بیچاروں کا میں حساب کیوں لوں؟ جاؤ بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جاؤ۔ 
  تو محترم بزرگو، دوستو! یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی زبان سے بھی شکر گزاری کریں اور عمل سے بھی شکر گزاری کریں۔ ﴿الحمد للہ﴾، شکر گزاری اللہ ہی کے لیے ہے۔

لفظِ ﴿اللہ﴾ کی لغوی اور معنوی تحقیق
  للہ، اللہ کا لفظ۔ ہم نے ابھی ﴿الحمد للہ﴾، الحمد کی تفسیر دیکھی اچھی سے۔ للہ اس میں لفظ ہے اللہ، یہ اللہ کے کیا معنی ہیں؟ لفظ اللہ، یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے۔ جیسے ہم نے پیچھے سنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی نام ہے محمد، آپ کا صفاتی نام ہے احمد، اور آپ کا مقام ہے مقامِ محمود۔ تو اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے اللہ، اس کے علاوہ پھر بے شمار نام صفاتی ہیں۔ یہ اللہ کا نام ہے ذاتی، اللہ نے اپنا نام اس کو کیوں چنا؟ اگر ہم کو کہا جائے کہ تم اپنا نام چنو، یا ہم اپنے بچوں کا، چھوٹے بچوں کا نام رکھنا چاہتے ہیں، چنتے ہیں، تو کیا دیکھتے ہیں؟ اچھا سا معنی ہو، خوب اچھا اس کا ادا کرنے میں لفظ ہو، ایک نیا نام ہو خوب اچھا ہو، پیارا ہو، ادا کرنے میں خوبصورت ہو، تو یہ سب دیکھ کر کے ہم نام چائس کرتے ہیں، پسند کرتے ہیں، پھر وہ نام رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس اللہ کے نام میں کیا بات ہے کہ کائنات کا خالق و مالک اپنے لیے، اپنے ذاتی نام کے طور پر جو نام پسند کرتا ہے وہ ہے اللہ۔

  محترم بزرگو، دوستو! یہ جو اللہ کا نام ہے نا، اس کے معنی بڑے انوکھے ہیں، اور اس کے معنی کے اعتبار سے یہ نام صرف اور صرف اللہ کو سجتا ہے، اللہ کو شوبھا دیتا ہے کہ یہ نام اس کا ہو، اللہ کو زیبا دیتا ہے کہ یہ نام اس کا ہو، کسی اور کے لیے یہ نام نہیں جچتا، کسی اور کے اوپر یہ فٹ نہیں بیٹھتا۔ بہت تفصیل میں نہ جاتے ہوئے اختصار کے ساتھ عرض ہے کہ لسان العرب بہت مشہور لغت ہے عربی زبان کی اور بہت تفصیلی ہے اور بہت معتبر و مستند لغت ہے عربی زبان کی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے معنی بہت سے ذکر کیے گئے ہیں، اس میں سے ایک معنی، ایک قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ کا جو لفظ ہے یہ 'ولہ' سے مشتق ہے۔ ولہ یلہ، اس کےدو معنی ہیں ، ایک معنی ہے حیران اور سرگرداں ہونا، اور دوسرے معنی ہیں محبت اور شیفتگی۔ حیران اور سرگرداں ایک معنی ہیں اور دوسرے معنی ہیں محبت اور شیفتگی، یعنی انتہائی طور پر کسی سے محبت ہوجانا اس کو کہتے ہیں شیفتگی۔ اور حیران اور سرگرداں ہونا، یعنی عقل کا حیران ہو جانا۔ اس معنی کو ہم سامنے رکھ کر کے اللہ تعالیٰ کو دیکھیں، اللہ کے لفظ کے معنی کو سمجھیں، تو پہلے معنی کے اعتبار سے ہوں گے اللہ کے معنی: وہ ذات جس کی طرف عقلیں حیران ہوں، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کو سمجھنے سے عقل حیران، اللہ کی صفات کو سمجھنے سے عقل حیران کہ اللہ کیسا انوکھا ہے، کیسا نرالا ہے؟ آنکھ سے اوجھل ہے، دل کا اجالا ہے۔ کیسے اس کی صفات ہیں؟ کیسے اس نے انسانوں کو خلق کیا، حیوانوں کو خلق کیا؟ اتنا بڑا آسمان اس نے پھیلا دیا، اتنی بڑی زمین بچھا دیا، اتنا بڑا سورج روزانہ جلتا ہوا روشن آتا ہے، حرارت بھی اور روشنی بھی پھیلاتا ہے، رات میں چاند کو نکالتا ہے اور رات کے اندھیرے میں اسے چراغ بنا کر کے لوگوں کی وحشت اور مخلوق کی وحشت کو دور کرتا ہے اور موسموں کو بدلتا ہے، بارش، سردی، گرمی، کبھی دن لا رہا ہے، کبھی رات لا رہا ہے، کبھی دن چھوٹا، کبھی رات بڑی، اس طریقے سے وہ کام کر رہا ہے۔ تو عقلیں اس کی صفات اور اس کی ذات کے معاملے میں حیران ہیں کہ وہ ہے کیا چیز؟ وہ عجیب و غریب چیز ہے۔ 
تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا   
میں جان گیا بس تیری پہچان یہی ہے
 اللہ تعالیٰ کے معاملے میں، تو دل میں تو آتا ہے، تیری محبت دل میں آ جاتی ہے، لیکن تو عقل میں نہیں آتا، سمجھ میں نہیں آتا، عقل حیران ہے۔
تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا   
میں جان گیا بس تیری پہچان یہی ہے

اور دوسرے معنی ہیں انتہائی محبت اور شیفتگی، اگر اس لفظ، اس معنی کو سامنے رکھ کر کے اللہ تعالیٰ کے لفظ کے معنی جانیں تو وہ ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جس سے انتہائی محبت کی جائے۔ اللہ وہ ذات ہے جس سے انتہائی محبت کی جائے۔ اردو میں اسی لفظ کا استعمال ہوتا ہے، والہانہ کا۔ ہم اگر کسی سے بہت خوش ہوتے ہیں اور اس کو اپنے گھر پر یا اپنے پروگرام میں کہیں بلاتے ہیں تو ہم اس کا استقبال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم آپ کا والہانہ استقبال کرتے ہیں، کیا کہتے ہیں ہم؟ ہم آپ کا والہانہ استقبال کرتے ہیں، یعنی انتہائی محبت اور شیفتگی سے آپ کا خیر مقدم ہے۔ یہ والہانہ، واؤ الف سے بدل گیا اور وہ ہو گیا آلہانہ، اصل وہ کیا ہے؟ آلہانہ، تو یہ والہانہ اسی سے بنا ہے ولہ سے۔ تو انتہائی محبت اور شیفتگی، یہ محبت صرف سچے الہ سے ہو سکتی ہے، سچے الہ سے، یعنی اللہ سے ہو سکتی ہے ایسی محبت، اللہ تعالیٰ کی اپنی ذات میں محبوبیت کی تمام شانیں موجود ہیں، محبوب بننے کے لیے جو صفات ہونا چاہیے وہ تمام تر صفات انتہائی کامل درجے میں اللہ تعالیٰ کی ذات میں موجود ہیں۔ اگر محبت کے لیے جمال دیکھیں تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں حدیث میں ہے: ﴿ان اللہ جمیل﴾، اللہ کیسا ہے؟ بہت خوبصورت ہے۔ قرآن کریم میں ہے: ﴿الذی احسن کل شیء خلقہ﴾، اللہ نے جو کچھ خلق کیا اس کو انتہائی حسین بنایا۔ تو ہم دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کیسے کیسے حسن بکھرے ہوئے ہیں، پھول کو دیکھو تو آنکھیں اٹک جاتی ہیں، کتنا خوبصورت پھول اللہ نے بنایا گلاب کا سرخ پھول۔ ایسے ہی شکلیں دیکھیں کچھ، تو ایسی آنکھیں اٹک جاتی ہیں، نگاہ اس کی طرف اٹک جاتی ہے کہ کتنا خوبصورت بنایا اللہ نے اس کو۔ ایسے ہی جو قدرتی مناظر ہیں، کشمیر چلے جائیں، جنت نشان جس کو کہتے ہیں، یورپ کے بعض علاقوں میں چلے جائیں، اتنا حسین اور اتنا خوبصورت علاقہ ہوتا ہے کہ بس ہاتھ باندھ کے دیکھتے ہی رہو اور کہتے رہو ﴿سبحان اللہ﴾، ﴿الحمد للہ﴾، یہی کہتے رہو، اتنا خوبصورت ہے۔ تو اتنا حسین، اتنا خوبصورت بنانے والا خود اپنی ذات میں کیسا حسین ہوگا! کیسا خوبصورت ہوگا! اسی لیے حدیث میں آتا ہے کہ جنت میں جب اہلِ جنت اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے تو سب بھول جائیں گے۔ سب بھول جائیں گے۔ 80 سال تک اللہ کا دیدار کرتے رہیں گے، پلک جھپکنا بھول جائیں گے۔ تو جنت کی نعمتیں اور جنت، اللہ تعالیٰ سے شکوہ کریں گے کہ اللہ یہ جو تو نے سجا کے رکھا ہے، یہ تو اس سے غافل ہو گئے ہیں، اور میں یوں ہی بے کار کی ہو گئی، بے استعمال کی ہو گئی، تو اللہ تعالیٰ پھر اپنے آپ کو حجاب میں لے لیں گے اور پھر بندوں کو کہیں گے کہ جاؤ! جنت تمہاری منتظر ہے، اب اگلے ہفتے آ جانا۔ اہلِ جنت کہیں گے کہ اللہ ایک دفعہ اور، کہیں گے اب اگلے ہفتے آ جانا، ہر جمعہ کو اللہ تعالیٰ کے دیدار کے لیے اہلِ جنت جایا کریں گے۔ قرآن کریم میں بھی اس کا تذکرہ ہے: ﴿وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربہا ناظرۃ﴾، کچھ چہرے ہوں گے بڑے تروتازہ، جنت والوں کے چہرے ہوں گے، جو اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے، ﴿الی ربہا ناظرۃ﴾، اللہ تعالیٰ کو وہ دیکھ رہے ہوں گے۔ تو اللہ کا جمال ایسا، اور اللہ کا کمال، کمال کی وجہ سے بعض وقت محبت ہو جاتی ہے، کوئی کسی کا محبوب بنتا ہے چہرے سے کالا کلوٹا ہو، جسم سے لکڑا سکڑا ہو، کوئی کشش نہ ہو، لیکن کمال اگر اس کے اندر ہے، کمال اگر ہے، تو لوگ اس سے محبت کرتے ہیں۔ جاحظ، عربی کا بہت بڑا ادیب ہے، بڑا نام اس کا ہے، اس کا بہت زیادہ شہرہ تھا، لوگ اس سے بہت محبت کرتے تھے، لیکن شکل و صورت کیسی تھی، آپ کو معلوم ہے؟ ایک مرتبہ ایک خاتون اس کو پکڑی اور لے گئی ایک مصور کے پاس، کہا اس کو دیکھ لو، اور کھڑے کر کے چلی گئی، تو اس نے دیکھا ایسے اوپر سے نیچے، اور مسکرانے لگا اور نگاہیں نیچے کر لی۔ کہا کہ بھئی کیا ہو گیا؟ کہا کہ وہ مجھ سے کہہ رہی تھی شیطان کی تصویر بناؤ، تو میں نے کہا کہ شیطان؛ میں نے تو دیکھا نہیں ہے، اگر ہوگا تو لے آؤ، تو وہ تم کو لا کر کے کھڑا کر دی۔ یعنی شکل و صورت کے اعتبار سے ایسے تھے کہ گویا کوئی ان کے اندر کشش نہیں ہے، لیکن ان کے اندر کمال ایسا تھا لکھنے کا، کہ اچھے اچھے ان کی تحریر پڑھتے تھے سر دھنتے تھے، ایسا ادب تھا عربی زبان کا۔ تو کمال کی وجہ سے محبوب بنتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا کمال کیا کہنا! اللہ تعالیٰ کے کمال ہی میں ہم سب ابھی اس کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ اللہ نے کیسا آسمان بنایا، کیسی زمین بنائی اور کیسی کیسی چیزیں بنائی ہیں، تو اللہ تعالیٰ اپنے اندر محبوبیت کی تمام شانیں کمال درجے میں رکھتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے ایک عارف باللہ، فضلِ رحمان گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ، یہ لفظ اللہ کا ترجمہ بڑا پیارا کیا کرتے تھے۔ وہ ترجمہ کرتے تھے ہندی زبان میں کہ لفظ اللہ کا ترجمہ ہے من موہن۔ من موہن، دلوں کو موہ لینے والا، دلوں کو موہ لینے والا، من کو موہ لینے والا، لفظ اللہ کا ترجمہ، دلوں کو موہ لینے والا۔

اور اگر ہم غور کریں تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے یہ بہت بڑا انعام رکھا ہے کہ اپنے دیدار کا موقع دیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ جنت میں تمہیں اللہ اپنا دیدار کرائے گا۔ اور کوئی دنیا میں ایسا بادشاہ نہیں گزرا ہے جس نے کسی کو ایسی سزا دی ہو کہ تم آج سے میرے دیدار سے محروم، یعنی کوئی بادشاہ اتنا حسین نہیں ہوا کہ لوگ اس کے دیدار کے لیے تڑپتے ہوں، اس کے دیکھنے کے لیے وہ شوق رکھتے ہوں، لیکن اللہ تعالیٰ ایسی اپنے اندر شانِ محبوبیت رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار کے لیے مخلوق بے چین ہوگی۔ اور اگر کسی کو اللہ کے دیدار سے محروم کر دیا جائے تو یہ اس کے لیے سزا ہوگی۔
   تو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جہاں مجرموں کے لیے بہت سی سزائیں ذکر کی ہیں، ایک سزا اللہ نے یہ بھی ذکر کی: ﴿کلا انہم عن ربہم یومئذ لمحجوبون﴾ وہ لوگ جو مجرمین ہیں، کل اپنے رب کے دیدار سے حجاب میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر ان کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محرومی ایک سزا ہے جو مجرموں کو دی جائے گی۔


نصیحت اور اختتامی دعا
خلاصے کے طور پر
  محترم بزرگو، دوستو! ہم نے ﴿بسم اللہ الرحمٰن الرحیم﴾، ﴿بسم اللہ﴾ کی تفسیر پڑھی، ﴿الحمد للہ﴾ کی تفسیر پڑھی۔ اس سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ ہم جو بھی کام کریں اللہ کے نام سے شروع کریں، ﴿بسم اللہ﴾، اور جب بھی کام مکمل کر لیں، اللہ کا شکر ادا کریں، ﴿الحمد للہ﴾ یہ اس من موہن ہستی اللہ تعالیٰ سے محبت کا عملی ثبوت ہے، اور ہم ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا: ﴿والذین آمنوا اشد حبا للہ﴾ جو ایمان والے ہیں وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔ تو ہم اللہ سے محبت رکھتے ہیں، اس کا عملی ثبوت ہم کو دینا ہوگا کہ ہم جب بھی کوئی کام کریں، اللہ کا نام لیں اور جب بھی کام مکمل کر لیں، اللہ کا شکر ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

دعا کرلیں
  ﴿اللہم لک الحمد کما انت اہلہ ولک الثناء کما انت اہلہ ولک الشکر کما انت اہلہ فصل وسلم علی سیدنا محمد کما انت اہلہ وافعل بنا ما انت اہلہ فانک انت اہل التقوی واہل المغفرۃ. اللہم انا نسالک حبک وحب رسولک وحب من یحبکما وحب عمل یقربنا الی حبک. اللہم اجعل حبک أحب الاشیاء الینا واجعل خشیتک أخوف الاشیاء عندنا واقطع عنا حاجات الدنیا بالشوق الی لقائک واذا اقررت اعین اہل الدنیا من دنیاہم فاقرر اعیننا من عبادتک.﴾

  اے اللہ! درسِ قرآن میں بیٹھنا قبول فرما لیجیے۔ اے اللہ! ہمارا سننا سنانا قبول فرما لیجیے۔ اے اللہ! اس درسِ قرآن میں جو باتیں آئیں، اے اللہ! ان باتوں پر ہمیں عمل کی توفیق عطا فرما دیجیے۔ اے اللہ! ہماری زبانوں کو، اے اللہ! خوب شکر گزار بنا دیجیے۔ اے اللہ! ہمارے جسموں کو خوب شکر گزار بنا دیجیے۔ اے اللہ! زبان پر آپ کا شکر ہو، اے اللہ! اسی طرح راتوں کو اٹھ کر کے ہم اپنے جسموں کو آپ کی شکر گزاری میں تھکائیں، تاکہ کل شکر گزار بندوں میں شامل ہو کر کے آپ کی جنت میں بغیر حساب کتاب کے داخل ہو جائیں۔

   اے اللہ! آج ہم نے اس درسِ قرآن میں آپ کے نام کو جانا، اے اللہ! آپ کتنے پیارے نام والے ہیں، اے اللہ! آپ کے نام میں یہ محبت کی کشش ہے، آپ کی ذات میں کیسی کشش ہوگی! اے اللہ! آپ کے قرب میں کیسی کشش ہوگی! کیسی محبت ہوگی! اے اللہ! ہمیں اپنا عشق عطا فرما، اپنی محبت عطا فرما، اپنا تعلق عطا فرما، اپنی نسبت عطا فرما۔

   اے اللہ! امت کے حال پر رحم فرما دیجیے۔ اے اللہ! امت کے حال پر رحم فرما دیجیے نا! اے اللہ! فلسطین کے، غزہ کے مسلمانوں کو راحت عطا فرما دیجیے، ان کے اوپر جو مصائب کے بادل چھائے ہوئے ہیں، اے اللہ! ان بدلیوں کو چھانٹ کر کے اے اللہ! رحمت کے بادل کو سایہ فگن کر دیجیے۔ اے اللہ! ان کے لیے، اے اللہ! دنیا میں بھی آسانی مقدر کر دیجیے، اور جتنے شہداء آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے اے اللہ! ان کی شہادت کو قبول کر لیجیے۔ 

﴿وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین﴾

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے