سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کا آسان درس

--------------------------

 تلاوت اور ترجمہ
﴿أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾
 ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾
 پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی، شیطان مردود سے۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان، بے انتہا رحم کرنے والے ہیں۔ کہو کہ میں صبح کے مالک کی پناہ مانگتا ہوں، ہر اُس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے، اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے، اور ان جانوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونک مارتی ہیں، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾ 
﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، إِلٰهِ النَّاسِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ، الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ، مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾
 اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، جو سب پر مہربان ہیں، بہت مہربان ہیں۔ کہو کہ میں پناہ مانگتا ہوں سب لوگوں کے پروردگار کی، سب لوگوں کے بادشاہ کی، سب لوگوں کے معبود کی، اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے کو چھپ جاتا ہے، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، چاہے وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

سورتوں کا تعارف اور شانِ نزول
  یہ دو سورتیں پڑھی گئیں، سورۂ فلق اور سورۂ ناس۔ سورۂ فلق میں پانچ آیتیں ہیں اور سورۂ ناس میں چھ آیتیں ہیں، اس طرح ملا کر گیارہ آیتیں دونوں سورتوں کی بنتی ہیں۔ سورۂ فلق کا نام سورۂ فلق اس لیے رکھا گیا کہ اس کی پہلی آیت ہی میں فلق کا لفظ موجود ہے، اور سورۂ ناس کی پہلی آیت میں الناس کا لفظ موجود ہے، اس لیے سورۂ فلق کا نام سورۂ فلق اور سورۂ ناس کا نام سورۂ ناس رکھا گیا۔ یہ دونوں سورتیں اکٹھا نازل ہوئیں۔ ان کا شان نزول یہ ہے کہ بعض یہودیوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کر دیا تھا، جادو کر دیا تھا۔ جس کی وجہ سے دنیاوی کاموں میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھول واقع ہو جاتی تھی۔ اسی سلسلے میں یہ دونوں سورتیں ایک ساتھ نازل ہوئیں۔ یہ دونوں مدنی سورتیں ہیں، یعنی مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد نازل ہوئیں۔ ان دونوں سورتوں کے جو مضامین ہیں، بنیادی طور پر ہر طرح کے شر اور فتنے سے امن و امان اور حفاظت کی دعا پر مشتمل ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ تاکید کی ہے کہ ہر نماز کے بعد ان دونوں سورتوں کے پڑھنے کا اہتمام کریں۔ اور خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک یہ تھا کہ آپ سوتے وقت سورۂ فلق، سورۂ ناس اور سورۂ اخلاص، ان تینوں سورتوں کو پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر دم کر لیا کرتے تھے۔ دم اس طرح کرتے کہ یہ تینوں سورتیں پڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہتھیلیوں پر پھونکتے، دم کرتے، اور اس کے بعد آپ سب سے پہلے اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے، اس کے بعد اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے، اس کے بعد اپنے جسم کے سامنے کے حصوں پر ہاتھ پھیرتے۔ اس طریقے سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان تینوں سورتوں کے دم کو اپنے جسم پر، اپنے چہرے پر، اپنے سر پر کیا کرتے تھے۔

مدینہ منورہ کے سیاسی، معاشی اور مذہبی حالات 
  اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ منورہ ہوئی۔ ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ کی جو صورتحال تھی وہ اس طرح سے تھی کہ مدینہ کی سیاست پر اور معیشت پر دونوں پر یہودیوں کا غلبہ تھا۔ سیاست پر اس طرح تھا کہ جس طریقے سے ہندوستان میں انگریزوں نے مسلمانوں کو اور غیر مسلموں کو آپس میں لڑایا، اور _ ڈیوائڈ اینڈ رول _ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی انہوں نے اپنائی، بالکل اسی طریقے سے یہودی مدینہ منورہ کے دو عرب قبیلوں اوس اور خزرج کو آپس میں لڑایا کرتے تھے، اور ان کی جنگوں کے لیے جو ہتھیار ہیں، وہ قیمت سے ان کو فروخت کیا کرتے تھے، اور اس طریقے سے ان کی جنگوں سے یہ فائدہ اٹھایا کرتے تھے۔ اور چونکہ یہ دونوں، اوس اور خزرج والے پڑھے لکھے تھے نہیں، اس کی وجہ سے جب ان کی جنگیں عروج پر پہنچتیں، یہ تھک جاتے، تو فیصلے کے لیے یہ یہودیوں کے پاس آتے، اور یہودی ان کی جنگوں کا فیصلہ کیا کرتے تھے، اس طرح ان کی اپنی بڑائی اور برتری سیاست میں تھی۔
  معیشت پر اس طرح ان کا معاملہ تھا کہ ساری مدینہ کی تجارت یہودیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اور مدینہ کے لوگ یہودیوں کی مارکیٹ میں جا کر، ان کے بازار میں جا کر اپنا سامان بیچا کرتے تھے۔ مدینہ کے جو باشندے تھے اصل میں وہ کھیتی باڑی کرنے والے کسان لوگ تھے۔ اور کسانوں کو قرض کی ضرورت پڑتی ہے، اور یہ لوگ مدینہ کے باشندے یہودیوں سے قرض لیا کرتے تھے، لیکن یہودی اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے، جب کہ سود ان کی اپنی شریعت میں بھی حرام تھا، منع تھا، یہ سود پر مدینہ کے لوگوں کو قرض دیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ یہاں تک ان کا معاملہ تھا کہ رہن کے طور پر مدینہ والوں کی عورتوں کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ بعض روایتوں میں ملتا ہے کہ کچھ لوگوں نے یہودیوں سے قرض مانگا، تو ان لوگوں نے کہا کہ بھئی ہم آپ کو قرض دے رہے ہیں سود پر، اگر قرض نہیں لوٹا سکے تو پھر ہم تمہاری عورتوں کو بطور رہن اپنے پاس رکھیں گے، تو اس طریقے کی یہ نالائقی کیا کرتے تھے۔ تو سیاست اور تجارت دونوں پر یہودیوں کا غلبہ تھا۔
  مذہبی طور پر بھی یہ بڑے تفوق اور برتری کے حامل تھے، کہ اہل مدینہ مذہبی اعتبار سے کچھ اپنا پس منظر نہیں رکھتے تھے، مشرک تھے، شرک و بت پرستی کیا کرتے تھے۔ اور یہ یہود اہل کتاب تھے، پڑھے لکھے لوگ تھے، لکھنا پڑھنا جانتے تھے، اور یہ جو مدینہ کے لوگ تھے، یہ ان پڑھ تھے۔ تو یہ لوگ ان لوگوں سے مذہبی طور پر بھی احساس کمتری کا شکار تھے، اور ان لوگوں کو اپنے سے بڑا اور برتر مانتے تھے۔ حتیٰ کہ مدینہ میں بعض ماں باپ، عرب قبائل والے، یہ نیت کیا کرتے تھے جب ان کے بچے مر جایا کرتے تھے بچپن میں، تو وہ نیت کیا کرتے تھے کہ اگر ہمارے لڑکے زندہ رہے تو ہم ان کو یہودی بنا دیں گے۔

اسلامی ریاست کا قیام اور یہودیوں کی عداوت
  اب جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ منورہ میں ہوئی، تو وہاں پر ایک اسلامی ریاست قائم ہو گئی۔ یہودیوں کی ساری سیاست کنارے لگ گئی۔ اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پر اسلامی بنیاد پر، اسلامی اصولوں پر تجارت اور بازار قائم کیے، مارکیٹ قائم کی، تجارت کو فروغ دیا، تو ان کی جو تجارت پر فوقیت تھی، غلبہ تھا، وہ بھی ختم ہو گیا، اور پھر مذہب اسلام تو دن بدن بڑھنے والا تھا۔ تو ان کی تینوں اعتبار سے جب اپنی ساری چودھراہٹ ختم ہو گئی، تو ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرتیں پیدا ہونے لگیں، اور سب سے زیادہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں یہ لوگ آگے بڑھتے گئے۔ اور مسلمانوں کو، اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتے رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا سامان ہوتا رہا، اور ان کی ہر کوششیں رائیگاں جاتی رہیں، بیکار جاتی رہیں۔

نبی کریم ﷺ پر جادو کا واقعہ
  اس طرح کرتے کرتے صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ یہودیوں کے اندر ایک خراب عادت یہ تھی کہ ان کے اندر شروع سے جادو اور ٹونے کا، ٹوٹکے کا بڑا رواج رہا ہے۔ بائبل میں بھی موجود ہے، توریت کے اندر بھی ان کو ڈانٹا پھٹکارا گیا ہے کہ جادو کی طرف تم میلان رکھتے ہو۔ خود قرآن کریم میں بھی موجود ہے {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ ...} کہ سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں جو شیاطین اور جادوگر تھے، اور اسی طرح جو دوسرے کافر لوگ جادو ٹونے وغیرہ میں لگے رہتے تھے، تو انہوں نے سلیمان علیہ السلام کے اوپر جو اللہ کی وحی نازل ہوئی اور جو شریعت کے احکام تھے، اس کو چھوڑ دیا، اور جادو ٹونے میں لگ گئے۔ حتیٰ کہ یہاں تک کہنے لگے کہ سلیمان علیہ السلام کی جو حکومت ہے، یہ جادو کے زور پر چلتی ہے، اور ہم کو بھی اگر ایسی حکومت اور پاور طاقت چاہیے تو ہم کو بھی جادو اختیار کرنا پڑے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی کی کہ جادو یہ کفر ہے، اور سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا۔ ﴿ مَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ ﴾ تو یہ جادو ٹونے کے اندر بہت پہلے سے لگے رہے۔ اور مدینہ منورہ میں بھی ان کے بہت سے جادوگر تھے۔ ان یہودیوں میں ایک بڑا جادوگر تھا لبید بن اعصم۔ اس نے نہ صرف خود جادو کے اندر مہارت پیدا کی تھی، بلکہ اپنی بیٹیوں کو بھی اس نے جادو کے اندر ماہر بنا دیا تھا، اور اس کی بیٹیاں ماہر جادوگرنیوں کا کردار ادا کیا کرتی تھیں۔ خیبر کے یہود، ان کا ایک وفد لبید بن اعصم کے پاس آیا۔ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف ساری تدابیر انہوں نے کر لیں، قتل کی کوششیں کر لیں، اوپر سے پتھر گرا کر قتل کرنے کی سازش کی، اور کھانے کے اندر زہر ملا کر دینے کی کوشش کی، لیکن ہر بار اللہ تعالیٰ نے ان کی کوششوں کو رائیگاں کر دیا۔ تو انہوں نے آخری حربے کے طور پر جادو کا سہارا لیا، اور ایک وفد خیبر کے یہودیوں کا مدینہ منورہ میں آیا، اور لبید بن اعصم سے مل کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
  اب اس نے اپنا کام شروع کیا۔ ایک یہودی لڑکا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارکہ میں آیا کرتا تھا، تو اس کے ذریعے سے اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی کنگھی کا ایک ٹکڑا انہوں نے حاصل کیا، اور چند مبارک بال حاصل کر لیے۔ اور پھر لبید اور اس کی جادوگرنی بیٹیوں نے مل کر، ان دو چیزوں کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا، اور ان چیزوں کو نر کھجور کے خوشے میں رکھ کر ایک کنویں میں پتھر سے دبا کر رکھ دیا۔ اب اس کے بعد اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام پر جادو کے اثرات پڑنا شروع ہوئے۔ تفصیل بہت ہے، اختصار کے ساتھ، دو شکل میں بنیادی طور پر اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام پر جادو کا اثر ظاہر ہوا۔ ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ ضعف اور کمزوری محسوس ہونے لگی۔ آپ بہت ناتوانی اپنے آپ میں محسوس کرنے لگے۔ اور دوسرے یہ کہ دنیاوی کاموں میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نسیان اور بھول ہونے لگی۔ آپ کوئی کام کرتے روزمرہ کے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ دیر کے بعد ایسا لگتا کہ شاید آپ نے وہ کام نہیں کیا ہے، تو آپ پوچھتے کہ میں نے وہ کام کیا ہے یا نہیں کیا ہے؟ اس طریقے سے دنیاوی کاموں میں آپ کو نسیان اور بھول ہونے لگی۔ لیکن یاد رہے جو پیغمبرانہ فرائض تھے، ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت رہی۔

جادو کا توڑ اور خواب میں رہنمائی
  ایک مدت تک یہ سلسلہ جاری رہا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح رہنمائی ہوئی کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا۔ خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا کہ دو آدمی آئے، اور ایک شخص اللہ کے نبی علیہ السلام کے سرہانے، سر کے پاس بیٹھ گیا، اور دوسرا شخص سامنے پیر کے پاس بیٹھ گیا، اور یہ دونوں آپس میں بات کرنے لگے، سوال و جواب کرنے لگے۔ اس میں سے ایک سوال کرتا ہے کہ ان کو کیا تکلیف ہے؟ دوسرا جواب دیتا ہے کہ ان پر جادو کیا گیا ہے۔ دوسرا سوال کرتا ہے کہ جادو کس نے کیا ہے؟ تو جواب دیتا ہے کہ لبید بن اعصم اور اس کی جادوگرنی بیٹیوں نے جادو کیا ہے۔ پھر تیسرا سوال کرتا ہے کہ کس چیز میں جادو کیا ہے؟ تو یہ جواب دیتا ہے دوسرا شخص کہ کنگھی کے ٹکڑے اور چند بالوں پر کھجور کے خوشے میں رکھ کر جادو کیا گیا ہے۔ پھر یہ سوال کرتا ہے کہ یہ جادو کی چیزیں کہاں رکھی گئی ہیں؟ تو ادھر سے جواب دیتا ہے کہ ذی اُوران نامی کنویں کی تہہ میں پتھر کے نیچے اس کو رکھا گیا ہے۔ اس کے بعد یہ سوال کرتا ہے کہ اس کا علاج کیا ہے؟ تو جواب دیتا ہے کہ کنویں کا پانی خالی کر دیا جائے، اور پتھر کے نیچے دبی ہوئی چیز نکال لی جائے۔ اس طریقے سے جادو کا اثر ختم ہوگا۔
  آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر حضرت عمار رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، ان تینوں کو آپ نے کنویں پر بھیجا، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے، اور اس کے بعد کنویں کو صاف کیا گیا، اس کا پانی نکالا گیا، ایک پتھر کے نیچے یہ تمام چیزیں غلاف میں تھیں، ان کو نکالا گیا۔ کنگھی کے ٹکڑے تھے، اور تانت میں بندھے ہوئے چند بال تھے۔ تانت بولے تو جانوروں کی خشک آنت، ایک قسم کی انتڑی ہوتی ہے اس کو صاف کر لیا جاتا ہے، اس کو کھینچ کر لمبا کیا جاتا ہے، اور اس سے ایک طرح کا کام لیا جاتا ہے، جادو ٹونے میں وہ اثر رکھتی ہے۔ تو جانوروں کی آنت کی تانت، اس کے اندر اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے چند بال تھے جو بندھے ہوئے تھے، اور تانت کے اندر گیارہ گرہیں اور گانٹھ لگی ہوئی تھیں، اور ان کے اندر سوئیاں تھیں۔ جب یہ چیزیں نکلیں اسی وقت حضرت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام یہ دونوں سورتیں لے کر نازل ہوئے، اور ان کے اندر گیارہ آیتیں ہیں اور گیارہ گرہیں تھیں۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ ایک ایک گرہ کھولیے اور اس میں ایک ایک آیت پڑھیے، ایک گرہ کھولیے ایک آیت پڑھیے اور سوئی نکالیے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت پڑھ کر ایک ایک گرہ کھولتے گئے اور سوئیاں نکالتے گئے، اس طرح جادو کا اثر ختم ہوا۔
  جب یہ ساری صورتحال صحابہ کے سامنے آئی تو صحابہ بڑے غضبناک ہوئے، غصہ ہوئے، اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ یا رسول اللہ، لبید بن اعصم کے قتل کی اجازت دیجیے۔ لیکن اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے منع فرما دیا کہ مجھ کو بیماری سے شفا ہو گئی ہے اور یہ اللہ کے نبی علیہ السلام کی ذات تک تھا۔ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ذاتی انتقام نہیں لیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا، اور پھر یہ بھی کہ اُس کے قتل سے فتنے کا اندیشہ تھا، آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فتنے کے اندیشے سے بھی ان کو منع کر دیا۔

واقعے سے کیاسبق ملا؟
  یہ پورا جو واقعہ ہوا ہے، اس واقعے کے پس منظر میں چند اہم باتیں وہ اگر ذہن میں رہیں گی تو ہم کو اچھا رہے گا۔ پہلی چیز یہ کہ جادو کا اثر ہوتا ہے۔ اور دوسری چیز یہ کہ یہ اثر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا ہے، جب پیغمبر پر ہو سکتا ہے تو عام انسان اور جو طبقہ خواص ہے، علماء، حفاظ، ائمہ وغیرہ، ان پر بھی جادو کا اثر ہو سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ تیسری بات یہ کہ اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے پھونکا گیارہ آیتیں، اور اس کے بعد آپ کو شفا ہوئی، تو اس سے سمجھ میں آیا کہ جھاڑ پھونک جائز ہے اگر اس میں خلاف عقیدہ بات نہ ہو۔ اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام خود حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما پر دم کیا کرتے تھے یہ پڑھ کر : ﴿أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ﴾ کہ میں اللہ تعالیٰ کے کلمات کی حفاظت میں تم دونوں کو دیتا ہوں، اور ہر شیطان اور زہریلے جانور کے شر سے میں تم کو اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں، اسی طرح نظر لگانے والی، ملامت کرنے والی آنکھ کے شر سے میں تم کو اللہ کے کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں۔ یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ایک طرح کا جھاڑ حسن حسین دونوں نواسوں پر کیا کرتے تھے، اور گویا یہ زبانی تعویذ تھی جو اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام اپنے نواسوں پر کیا کرتے تھے۔ چوتھی بات یہ سمجھ لیں کہ سورۂ فلق اور سورۂ ناس صرف تعوذ کی دعائیں نہیں ہیں، بلکہ یہ قرآن کریم کی دو سورتیں ہیں، اور اس میں ہدایت اور رہنمائی کا سامان ہے۔

سورۃ الفلق کی تفصیلی تفسیر
  اس کو تفسیر میں ہم دیکھیں گے، تفسیر میں یہ واضح ہوگا۔ دیکھیے اہم باتیں ہم دیکھتے ہیں، ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ کہو کہ میں صبح کے مالک کی پناہ مانگتا ہوں۔ ﴿مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ ﴿وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ﴾ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ پھیل جائے۔ ﴿وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ﴾ اور ان جادو کرنے والیوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونک مارتی ہیں۔ ﴿وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ اس سورت میں چار چیزوں کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔
  پہلی تمام مخلوق کے شر سے، اس میں جنات، انسان، اور نقصان پہنچانے والے جانور، اور اسی طرح نقصان پہنچانے والے پودے، اور وہ غذائیں جن کے ذریعے سے انسان بیمار ہو جاتا ہے، ان کو کھانے کے بعد اس کو تکلیف پہنچتی ہے، ساری چیزیں اس میں شامل ہیں۔ تو پہلی چیز؛ تمام مخلوق کے شر سے پناہ مانگی گئی۔
  دوسری؛ اندھیری رات کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔ شر اور نقصان کی جو صورتیں ہیں اکثر وہ رات کے اندھیرے ہی میں نقصان پہنچاتی ہیں، جیسے چوری کرنے والے چور، اچکے، اور ڈاکے ڈالنے والے ڈاکو، اسی طرح قتل کرنے والے قاتل، اور درندہ جانور، سانپ، بچھو وغیرہ یہ سارے رات ہی کے اندھیرے میں سرگرم عمل ہوتے ہیں، اور اسی طرح جادو ٹونا، یہ جو جادوگروں کی کاروائیاں ہیں، یہ بھی رات کے اندھیرے ہی میں ہوا کرتی ہیں۔ تو دوسری جو چیز ہے جس سے پناہ مانگی گئی، اندھیری رات کے شر سے۔
  تیسری چیز؛ جس سے پناہ مانگی گئی وہ ہے گِرہوں میں پھونک مارنے والیوں، یعنی جادوگرنیوں کے شر سے۔ یہ جو واقعہ تھا، جو سورت کے نزول کا پس منظر تھا، شان نزول تھا، اس کی مناسبت سے یہ آیت ہے کہ جادو کا عمل زیادہ تر عورتوں کے ذریعے ہوتا ہے، اس لیے خاص طور پر یہاں جادو کرنے والی عورتوں کا ذکر ہے۔ جادو کرنے والے مرد بھی اس میں شامل ہیں۔ اگر ہم غور کریں گے، تھوڑا سا توجہ دیں گے تو معلوم ہوگا کہ لبید بن اعصم کے ساتھ ساتھ اس کی بیٹیوں کا زیادہ بڑا کردار تھا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جادو کرنے میں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سماج اور معاشرے میں بھی جادوگر کم ملیں گے، لیکن جادو کرنے والیاں یعنی ٹونائن، ٹونا کرنے والی عورتیں زیادہ ملتی ہیں۔ تو یہ سب لوگ جو ہوتے ہیں وہ رات کے اندھیرے میں اپنا کام کرتے ہیں، اور یہ بڑے شر اور فتنے کی چیزیں ہیں، تو ان کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔

اور چوتھی بات جس سے پناہ مانگی گئی ہے وہ ہے حسد کرنے والوں کے شر سے۔ حسد کس کو کہتے ہیں؟ کسی کی نعمت دیکھ کر دل کے اندر جلن پیدا ہو، انسان جلے، اور یہ تمنا کرے کہ اس کی یہ نعمت ختم ہو جائے، مجھ کو ملے یا نہ ملے، لیکن اس کی یہ نعمت ختم ہو جائے۔ تو یہ حسد ہے۔ یہ اُتنا نقصان دہ نہیں ہوتا جب تک یہ دل میں رہتا ہے، لیکن جب یہ بڑھ جاتا ہے اور حاسدانہ جذبات جب عمل میں آ جاتے ہیں، تو یہ شر اور فتنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور حاسدانہ جذبے میں جب عملی قدم اٹھایا جاتا ہے تو وہ جادو ٹونے تک بڑھ جاتا ہے۔ اور غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ یہودیوں کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا دشمنی تھی؟ کیا چیز تھی جس نے اُن کو جادو ٹونے پر لگایا، اور اتنی ساری جو انہوں نے دشمنیوں کا اظہار کیا، قتل کرنے کی سازشیں کیں؟ تو معلوم ہوگا کہ ان کے دل کے اندر حسد تھا۔ قرآن نے اس کو صاف صاف بیان کر دیا ہے ﴿ حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ... ﴾ کہ یہ یہودی ہیں، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے اور مسلمانوں سے اور آپ سے دشمنیاں کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں حسد ہے۔ اور وہ جو انکار کر رہے ہیں تو وہ کسی شک و شبہ کی وجہ سے نہیں کر رہے ہیں، حسد کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ ان کو تو حق؛ ظاہر ہو چکا ہے۔ ﴿ مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ﴾ تو یہ حسد ہوتا ہے، یہ حسد انسان کو اس حد تک آگے بڑھا دیتا ہے۔ جو لوگ بھی جادو کا، ٹونے کا سہارا لیتے ہیں اور کسی کے اوپر سماج اور معاشرے میں جادو ٹونا کرتے ہیں، تو اگر ہم دیکھیں گے تو اس کے پیچھے یہی حسد ہوتا ہے۔ کاروبار میں حسد کریں گے، اور شادی بیاہ کے معاملے میں، اچھا رشتہ کہیں ہو گیا، اور ہمارا نہیں ہوا، تو پھر وہ حسد کے جذبات میں آ کر کے یوں نقصان پہنچاتے ہیں، تو یہ جو چیز ہے کہ حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے، یعنی حسد میں آ کر وہ اس طرح کے عملی اقدام کرے اور نقصان پہنچائے۔

سورۃ الناس کی تفصیلی تفسیر 
  دوسری سورت ہے، ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ﴾ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، إِلٰهِ النَّاسِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ﴾ کہو کہ میں پناہ مانگتا ہوں سب لوگوں کے پروردگار کی، سب لوگوں کے بادشاہ کی، سب لوگوں کے معبود کی، اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو پیچھے کو چھپ جاتا ہے۔ ﴿الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ﴾ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ ﴿مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ چاہے وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
  اس سورۂ ناس میں پناہ صرف ایک چیز سے چاہی گئی ہے اور وہ شیطان ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ؛ جن صفات کی پناہ طلب کی گئی ہے، اس سورت میں اُس کی تین عظیم صفات بیان کی گئی ہیں۔ ایک ہے؛ رب الناس، دوسرے؛ ملک الناس، اور تیسرے؛ الہ الناس. یعنی اللہ رب العزت جس سے پناہ طلب کی جا رہی ہے، وہ سب کا پروردگار ہے، اور صحیح معنی میں بادشاہ ہے، حقیقی بادشاہ ہے، اور سب کا سچا معبود ہے۔ کیوں اللہ تعالیٰ کی یہ تین صفات بیان کی گئی ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو مشرک قومیں ہیں، جو شرک کیے ہیں، تو وہ انہی صفات میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتی ہیں۔ تو بتایا گیا کہ رب، یعنی پالنے والا، پرورش کرنے والا؛ اللہ ہے۔ اور بادشاہِ حقیقی؛ وہ بھی اللہ ہے۔ اور معبود بھی؛ وہی ہے۔
  اور شیطان کے وسوسے سے جو پناہ مانگی گئی ہے، تو شیطان کے دو وصف یہاں پر ذکر کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ وسواس، وسوسہ ڈالنے والا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ خناس، یعنی وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹنے والا ہے۔ اگر ہم غور کریں گے تو ہر جرم کی ابتدا جو ہوتی ہے وہ وسوسہ سے ہوتی ہے۔ اور جو وسوسہ ڈالنے والے ہوتے ہیں یعنی شیطان اور برے انسان، تو وہ سامنے سے آ کر وسوسہ نہیں ڈالتے، چھپ کر وسوسہ ڈالتے ہیں، پیچھے سے وسوسہ ڈالتے ہیں، اور اپنی باتوں میں چھپا کر کوئی ایسی بات ملا دیتے ہیں جو ظاہر نہیں ہوتی، اور وہ اصل میں وسوسہ ہوتا ہے۔ تو وسوسہ ڈالنے والا چاہے وہ انسان میں سے ہو، چاہے وہ جنات میں سے ہو، وہ چھپ کر وسوسے ڈالتے ہیں اور پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہاں پر سوال ہے کہ اس کا علاج کیا ہے؟ تو قرآن کریم کی دوسری آیتوں میں دیکھیں گے تو اس کا علاج یہ ہے کہ اللہ کا ذکر کیا جائے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا جائے۔


مختصرا چند اہم باتیں اس وسوسے سے متعلق سن لیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان فرمائی ہے کہ جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے اس کے ساتھ وسوسہ ڈالنے والا شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔ اور جب وہ ہوش میں آ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، تو یہ وسوسہ ڈالنے والا پیچھے کو دبک جاتا ہے۔ یعنی پوری زندگی یہ وسوسہ ڈالنے والا شیطان ہر انسان کے ساتھ لگا ہے، اور اسی طرح ایک فرشتہ بھی انسان کے ساتھ لگا ہے۔ جو فرشتہ ہے اس کا نام ملہم خیر ہے، وہ خیر کی باتیں ڈالتا ہے۔ اور جو شیطان ہے، وسوسہ ڈالنے والا، اس کا نام وسواس ہے جو یہاں ذکر کیا گیا۔ تو یہ وسوسہ ڈالنے والا پوری زندگی انسان کے دل پر مسلط رہتا ہے، اور جب انسان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ جب وہ غافل ہو جاتا ہے تو دوبارہ آ کر وسوسہ ڈالتا ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت میں جو بیان ہوئی آخری آیت، وہ ہے ﴿مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ کہ جنات میں سے یا انسانوں میں سے، تو وسوسہ ڈالنے والے دو قسموں کے ہوتے ہیں۔ شیطان جنات میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی ہوتے ہیں۔ البتہ شیطان جو جنات میں سے ہیں وہ نظر نہیں آتا اور دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، لیکن جو انسانوں میں شیطان ہوتے ہیں وہ نظر آتے ہیں اور ان کی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں سن کر انسان کے دل میں برے برے خیالات آنے لگتے ہیں، اور وسوسہ آنے لگتا ہے۔ اس لیے اس آیت میں دونوں قسموں کے وسوسہ ڈالنے والوں سے پناہ مانگی گئی ہے۔ 

شیطان کی چالیں اور اس کا دفاع
  یاد رکھنا چاہیے کہ اگرچہ اس آیت میں اللہ کی پناہ مانگنے کا ذکر ہے، اور شیطان کے وسوسہ ڈالنے کی طاقت کا بیان ہے، لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ شیطان کوئی بہت بڑی طاقت نہیں ہے۔ اُس کی چالیں بہت زیادہ مضبوط نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک مقام پر بیان فرمایا، ﴿إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا﴾ کہ شیطان کی جو چالیں ہیں وہ کمزور ہیں۔ اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ انسان کو گناہ پر مجبور کر سکے۔ جیسے ہی بندہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، ﴿أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ پڑھتا ہے، فوراً یہ وسوسہ ڈالنے والا شیطان بھاگ جاتا ہے، دور ہو جاتا ہے۔ اس کا جو زور ہے اتنا زیادہ نہیں ہے۔ خود قرآن کریم میں شیطان کی زبانی یہ اعتراف موجود ہے کہ وہ کہتا ہے؛ ﴿وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم... ﴾ کہ مجھے تم پر کوئی ایسا اختیار نہیں دیا گیا ہے، بس اتنا اختیار ہے کہ میں تم کو وسوسہ ڈالتا ہوں، کوئی بات کہتا ہوں، اب تمہاری مرضی تم اسے قبول کرو یا رد کر دو، لیکن تم نے اسے قبول کیا جس کی وجہ سے برائی میں پڑ گئے۔ انسانوں پر اس کا کوئی زیادہ اقتدار اور اختیار نہیں ہے۔ یہ انسانوں کی آزمائش ہے کہ وہ انسانوں کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جو بندہ اس کے بہکانے میں آنے سے انکار کر کے اللہ کی پناہ مانگ لے، تو شیطان اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو شیطان نفس کے شر سے، اس کے وسوسے اور اس کے فتنے سے محفوظ اور مامون رکھے۔

اختتامی دعا __ دعا کر لیں 
﴿اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَلَكَ الثَّنَاءُ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَلَكَ الشُّكْرُ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، فَصَلِّ وَسَلِّمْ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا أَنْتَ أَهْلُهُ، وَافْعَلْ بِنَا مَا أَنْتَ أَهْلُهُ، فَإِنَّكَ أَنْتَ أَهْلُ التَّقْوَىٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ﴾ 

  اے اللہ ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما دیجیے، خطاؤں سے، لغزشوں سے درگزر فرمائیے۔ اے اللہ ہم سب درسِ قرآن کی اس مجلس میں بیٹھے ہیں، اے اللہ ہمارے بیٹھنے کو قبول فرما لیجیے، اجر و ثواب مقدر و میسر فرمائیے، اور یہ کتابِ ہدایت ہے، رہنمائی کی کتاب ہے، اے اللہ ان دونوں سورتوں میں جو ہدایت و رہنمائی ہے، اے اللہ ہمیں اس سے مستفید فرما دیجیے۔ اے اللہ اسی کے ساتھ ان کے اندر جو شر اور فتنوں کا ذکر کیا گیا ہے، اور اے اللہ تمام چیزیں جو تکلیف دہ ہیں ان کا ذکر کیا گیا ہے، نفس اور شیطان کے وسوسے کا ذکر کیا گیا ہے، اے اللہ ہم کو ان تمام شرور و فتن سے اور وسوسے ڈالنے والوں سے محفوظ و مامون فرما دیجیے۔ ہم سب کی تادم حیات حفاظت فرما دیجیے، حتیٰ کہ موت کے وقت بھی شیطان کے وسوسے سے ہماری حفاظت فرما دیجیے، اور ہم سب کا جینا ایمان پر اور مرنا ایمان پر مقدر و میسر فرما دیجیے۔ 

﴿وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالَىٰ عَلَىٰ خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ﴾

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے